کیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیں؟

ذہن میں گزشتہ ہفتے سے ایک تصویرچپک کر رہ گئی ہے۔پنجاب یونیورسٹی کے تین بزرگ پروفیسر ہتھکڑیاں پہنے پریشانی کے عالم میں،پولیس کے حصار اندر نیب کی عدالت میں پیش ہونے جا رہے ہیں۔میں ان اساتذہ کرام کے نام ونسب اور ان پر عائد کئے گئے الزامات کی تفصیل سے زیادہ واقف نہیں ہوں۔بس اتنا پتہ چلا ہے کہ ان کی گرفتاری بدعنوانی کے الزام میں ہوئی ہے۔حلیے سے ان سب پروفیسر حضرات کی عمریں سترسال کے پیٹے میں لگ رہی ہیں۔ایک کے ہاتھ میں چھڑی ہے اوردیگرکے بارے میں بھی یہی معلومات سامنے آئی ہیں کہ ریٹائرڈہو چکے ہیں۔چلنے،پھرنے میں دقت کاسامنانظرآرہاہے۔اس کے باوجود ایک بزرگ و نحیف استاد کو دو پولیس والوں نے بازوؤں سے پکڑرکھاہے،جیسے ان کے دوڑبھاگنے کا قوی امکان ہو۔مجھے بزرگ اساتذہ کے ساتھ یہ سلوک دیکھ کربہت شرمندگی ہو رہی ہے۔میرا خیال ہے کہ ہر باضمیرپاکستانی جس نے مذکورہ تصویر یااس متعلق ویڈیوکلپ دیکھا ہے،اس کے یہی جذبات ہوں گے۔
اساتذہ کرام کو اس طرح بے عزت کرنے کانیب کے سربراہ اوراعلیٰ حکام کے پاس ضرور جوزموجود ہوگا،عرض یہ ہے کہ نیب کے پاس جتنے بھی مضبوط دلائل ہوں مگرمعلمین کی اس طرح سے تذلیل کے مناظر نے روح کوگھائل کرکے رکھ دیا ہے۔جیسی شکلیں زنجیروں میں قید قوم کے ان بدقسمت معماروں کی ہیں،یہ قطاًمجرم نہیں لگتے۔مگرقانون تواندھاہوتاہے،وہ شکل دیکھ کر فیصلے تھوڑے کرتاہے۔مسئلہ یہ ہے کہ ایسے مناظردیکھ کرپاکستان کے لئے سنہرے مستقبل کے خواب دیکھنے والی آنکھوں کومایوسی ہوتی ہے۔جواہلِ دل ہیں ان کے دل ٹوٹتے ہیں۔ذہن میں مایوسی کے جالے پھیلنے لگتے ہیں۔جب پنجاب یونیورسٹی کے وائس چانسلر مجاہدکامران کوہتھکڑی میں گھسیٹ کر پولیس والے نیب کے حضورپیش کرنے جاتے ہیں۔برسہابرس برصغیر پاک وہندکی پہلی اور جدیدیونیورسٹی ،جوکہ بقول منوبھائی عالم اسلام کی سب سے بڑی درس گاہ بھی ہے،اس کے سربراہ تھوڑی سی عزت وتوقیر کے مستحق ٹھہرائے جانے چاہئیں۔نیم خواندہ پولیس اہلکاروں سے تو کوئی شکوہ ہی نہیں ہے جوانہیں زنجیروں میں کھینچ رہے ہیں کہ ان بے چاروں کو تو پتہ ہی نہیں ہے کہ مصنف ہونے کا مطلب کیا ہے،مجاہدکامران نے کتنی کتابیں لکھی ہیں ان سے ان سیکیورٹی اہلکاروں کاکیا واسطہ،پولیس حکام ہمارے ہاں کتاب بینی سے ذرادورہی رہتے ہیں۔نیب کے اعلیٰ حکام کو تویقیناًاندازہ ہوگاکہ یونیورسٹی کے وائس چانسلرکاکیامطلب ہوتاہے؟سرگودھایونیورسٹی کے وائس چانسلرکوہتھکڑیاں لگواتے وقت ان کی تعلیمی قابلیت اور تدریسی اہلیت وحوالہ توانہیںیقیناًمعلوم ہوگا۔
اساتذہ کرام کی یہ تذلیل میری طرح بہت سے لوگوں کوذاتی توہین محسوس ہوتی ہے۔گرچہ میں نے گورنمنٹ کالج لاہورسے گریجوایشن پاس کی مگران دنوں ہماراکالج پجناب یونیورسٹی کے ہی زیرانتظام تھا،ہمیں جو ڈگری جاری ہوئی وہ پنجاب یونیورسٹی کے وائس چانسلر کی جانب سے ہی منظورکردہ ہے۔بھلاجس وائس چانسلرکی اپنی کوئی عزت کوئی عزت نہ ہو،اس کے دستخط سے جاری ہونے والی ڈگری کی کیا عزت ہے؟کیاحیثیت ہے اس کے جاری کردہ تعلیمی سرٹیفکیٹکی جس استاد کی اپنی کوئی حیثیت معاشرے میں نہیں؟جواقوام اپنے اساتذہ کی عزت نہیں کرتیں ہیں،تاریخ بتاتی ہے کہ ان کا مقدر دنیامیں تذلیل کے سواکچھ نہیں ہواکرتا۔زمانے میں ترقی کرنے والی قومیں ایسی غلیظ حرکتیں نہیں کرتی ہیں۔یہ منظرنامہ دیکھ کر تواندیشہ دامن گیرہونے لگتاہے کہ ہماراقومی سفرشایدترقی کی جانب نہیں بلکہ ترقی معکوس کی سمت رواں دواں ہے۔
روشن مستقبل کی امید اورسنہرے دنوں کے خواب دیکھنااچھی بات ہے،مگرہمارے زمینی حقائق متضاد سمت میں جاتے دکھائی دیتے ہیں۔مثبت سوچ رکھنا قابل ستائش اور مثبت رویہ ہے۔لیکن تلخ حقائق سے منہ موڑناجان لیوا ثابت ہوتاہے۔پرانے پاکستان میں تواستاد کو روحانی باپ سمجھاجاتاتھا۔یہ کیسانیاپاکستان بن رہاہے؟پروفیسرزاوریونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز،درجنوں کتابوں کے مصنفین اساتذہ کرام زنجیروں اور ہتھکڑیوں میں جکڑے ذلیل وخوارہوتے پھررہے ہیں۔آنے والے دنوں کاسوچ کر ڈر لگتا ہے۔کوچہ وبازار کا منظرزیادہ حوصلہ افزاء نہیں ہے۔قانون سب کے لئے برابر ہونا چاہئے ۔ہر مجرم کو اس کے کئے کی سزا ضرورملنی چاہئے۔ظلم یہ ہے کہ آج کل سزاپہلے دی جاتی ہے اور مقدمے کی شنوائی بعد میں ہوتی ہے۔کل کو اگرمتذکرہ مقدمہ میں اساتذہ کرام باعزت بری بھی ہوجائیں توکیاان کی کھوئی ہوئی عزت واپس آ جائے گی؟ان کے ماتھے سے تذلیل کے داغدھل جائیں گے؟کیا سرِ عام ہونے والی اس توہین کا کئی مداواممکن ہے؟

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *