گائے اور بکری کا تقابلی جائزہ

ایک ھلکا پھلکا کالم
گائے دودھ دیتی ھے اور گوبر بھی۔ دودھ پینے کے کام آتا ھے۔ گوبر سے اوپلے بنتے ھیں ۔ دودھ طاقت دیتا ھے۔ اگر دودھ زیادہ کڑ جاے تو ہضم نہیں ھوتا۔ پیٹ خراب کر دیتا ھے۔ خراب پیٹ میں گڑ گڑ ھوتی ھے۔ اور لوز موشن آتے ھیں ۔ کئ بار بندے کو منجھی کے پائے پر بیٹھنا پڑتا ھے۔ دودھ سے مکھن اور مکھن سے دیسی گھی بنتا ھے۔ دیسی گھی بلی کو ہضم نہیں ھوتا۔ دیسی گھی اب بندوں کو بھی ہضم نہیں ۔ دیسی بندے ولائتی گھی کھاتے ھیں ۔ بھرے پیٹ پر ھاتھ پھیر کر برسرعام آسودگی بھرا ڈکار لیتے ھیں اور ولائتی زبان میں بات کرتے ھیں ۔ دھوتی پہنتے ھیں ، حکہ پیتے ھیں اور ڈیڈی کہلواتے ھیں ۔ پہلوان مکھن کھاتے تھے۔ اب نہ پہلوان رھے نہ مکھن رھا۔ دل کے مریض رہ گئے۔ مکھن قلم کے پیٹ میں اتر گیا۔ اب مکھن لگاتے ھیں ۔ مکھن ملائم ھے۔ بندہ پھسل جاتا ھے۔ اور کام بن جاتا ھے۔ دودھ پھٹ جاے تو پنیر بنانے کے کام آتا ھے۔ پنیر کی خاص اہمیت ھے۔ اسے بندر پسند کرتے ھیں ۔ اور بندے بھی۔ بندر اور بندے کا ارتقائ رشتہ ھے۔ اور اس رشتے میں پنیر ایک جوائننگ لنک ھے۔ جبکہ دمچی کی ھڈی ایک مسنگ لنک ھے۔ پھسلنے سے یاد ایا۔ جو لوگ چلنے میں احتیاط نہیں کرتے ۔ وہ گائے کے گوبر میں پاوں دھر دیتے ھیں اور لبڑ جاتے ھیں ۔ کئ بار پھسل بھی جاتے ھیں ۔ اور مزید لبڑ جاتے ھیں ۔ یہ گاے کا انتقام ھے۔ اور یہ پیغام ھے۔ احتیاط سے چلیں ۔ بندے کا پاوں لبڑ جاے تو بندہ تا دیر اسے ادھر ادھر گھسیٹ کر صاف کرتا ھے۔ صاف ھو بھی جاے تو وھم لگا رھتا ھے۔ کہ صاف نہیں ھوا۔ اور اگر بندہ پھسل کر گر جاے تو پورا ھی لبڑ جاتا ھے۔ تب بندے کو مکمل اوورھال کروایا جاتا ھے۔ مکھن سے پھسلنا گوبر سے پھسلنے سے بدرجہا بہتر ھے۔ مکھن اور گوبر دونوں گائے کی پروڈکٹس ھیں ۔ یہ بندے پر منحصر ھے اس نے کس سے پھسلنا ھے۔ لیکن پھسلنا مقدر ھے۔ جبکہ گرنے کی چوائس تدبر ھے۔
گائے بچھڑا بھی دیتی ھے اور ھل بھی جوتتی ھے۔ گائے سے حل جتوانا ایک آرٹ ھے۔ یہ آرٹ صرف دیہاتی جانتے ھیں ۔ جبکہ بچھڑا جنوانا ایک سائنس ھے۔ یہ سائنس بھی دیہاتیوں کو معلوم ھے۔ اور دیسی عقل اور تجربے کی غماز ھے۔ بچھڑا گائے کو چونے کے کام آتا ھے۔ بچھڑا گائے کو چونگ کر تیار کر دیتا ھے۔ اور پھر اسے الگ کرکے دودھ نکال لیا جاتا ھے۔ چناچہ ثابت ھوا۔ گائے کا دودھ نکالنے کے لیے ایک عدد بچھڑا ھونا بہت ضروری ھے۔ اور بچھڑا ھونے کے لیے ایک عدد بیل کی ضرورت ھے۔ چناچہ گائے کے ساتھ ایک بیل بھی پالنا پڑتا ھے۔ اسے ایک دفاعی ضرورت کہہ لیں ۔ اضافی خرچہ تو ھے۔ لیکن بچھڑے اور دودھ کے لیے بیل ناگزیر ھے۔ یہ سارا دن چارا کھاتا ھے۔ اور جگالی کرتا ھے۔ اور ضرورت پڑنے پر خوشی خوشی اپنا رول ادا کرتا ھے۔ کئ بار پیسے لے کر ہمسائیوں کی ضرورت بھی پوری کر دی جاتی ھے۔ یہ بیل ایک باپ کی مانند ھے۔ اور ھل جوتنے کے کام بھی آتا تھا۔ لیکن جب سے ماڈرن مشینیں آئ ھیں ۔ افزائش نسل کے حوالے سے اس کا ایک ھی دفاعی رول رہ گیا ھے۔ البتہ کھیل کھیل میں بل فائٹنگ میں حصہ لیتا ھے۔ اور لوگوں کے منو رنجن میں اضافہ کرتا ھے۔
بچھڑے کی افادیت کی وجہ سے تاریخی طور پر اس کی بڑی اہمیت رھی ھے۔ اور یہودی قوم نے سونے کا بچھڑا بنا کر اس کی پرستش شروع کر دی تھی۔ اگرچہ وہ وقت گزر گیا۔ لیکن یہ پرستش کچھ قوموں میں آج بھی جاری ھے۔ اور گائے اور بچھڑے کو مقدس مان کر ان کی پوجا کی جاتی ھے۔ اور گلوری فائ کیا جاتا ھے۔ ھندو تو گائے کو مقدس مانتے ھی ھیں ۔ یہ مذھبی خشوع و خضوع کچھ اور قوموں میں بھی نمایاں نظر آتا ھے۔ مقدس گائے سے یاد آیا۔ ھم بچپن میں ایک کہانی سنتے تھے۔ اس دنیا کو ایک گائے نے اپنے ایک سینگ پر اٹھا رکھا ھے۔ جب وہ تھک جاتی ھے تو دنیا کو دوسرے سینگ پر منتقل کر دیتی ھے۔ اس سے دنیا میں زلزلے ، سیلاب اور سونامی آتی ھیں اور خوب تباھئ مچتی ھے۔ بڑے ھو کر جانا یہ کہانی درست ھی تھی۔اور آج بھی اسی گائے نے دنیا کو اپنے سینگوں پر اٹھا رکھا ھے اور تباہی کا سلسلہ جاری و ساری ھے۔ یعنی ھم آج بھی گائے کے عہد میں جی رھے ھیں ۔
گاے تو دودھ دیتی ھے اور گوبر بھی۔ جبکہ بکری دودھ دیتی ھے اور مینگنیاں بھی۔ گوبر سے تو اوپلے بنتے ھیں جن سے آگ جلائ جاتی ھے۔ دودھ کاڑا جاتا ھے اور کھانا پکتا ھے۔ اور ھاتھ سینکے جاتے ھیں ۔ جبکہ راکھ یعنی سوا دشمن کے سر ڈالنے کے کام آتی ھے۔ لیکن بکری کی مینگنیوں کی کیا قومی اہمیت ھے۔ اس کے متعلق سماجی و معاشرتی راوی خاموش ھے۔ بکری اگر دودھ دے اور اس میں مینگنیاں ڈال دے۔ تو دودھ میٹھا نہیں ھو جاتا۔ خراب ھو جاتا ھے۔ لیکن ایسا خراب نہیں کہ پنیر بنایا جا سکے ۔ پینے کے قابل نہیں رھتا۔ راوی اس متعلق بھی خاموش ھے۔ بکری دودھ میں مینگنیاں ڈالنے کی شرارت کیوں کرتی ھے۔ اسے آپ بکری کا انتقام کہہ لیں ۔ ھم نے بکری کو روائتی طور پر بزدلی کی علامت بنا رکھا ھے۔ اور اپنے مخالفین اور دشمنوں کو آ بکری کہہ کر بھاگ جاتے ھیں ۔ بکری کو یہ علامت سخت ناپسند ھے۔ چناچہ وہ اکثر ٹڈ یعنی ٹکر مار کر اپنی بہادری کا مظاہرہ کرتی ھے۔ بکری کی ٹڈ سے سب ڈرتے ھیں ۔ پھر بھی اسے بکری کہتے ھیں ۔ بکری کو میں میں بہت پسند ھے۔ ھر وقت میں میں کرتی رھتی ھے۔ بندے بھی میں میں کرتے ھیں ۔ راوی اس کے متعلق بھی خاموش ھے۔ یہ میں میں کرنا بکریوں نے بندوں سے سیکھا تھا یا بندوں نے بکریوں سے تربیت حاصل کی تھی۔ جوں جوں بندہ ترقی کرتا ھے اس کی میں میں بھی بڑھتی ھے۔ اور انا بھی۔ تب وہ دودھ دیتا ھے اور مینگنیاں ڈال دیتا ھے ۔ یہ وہ مقام ھے۔ جب کہا جاتا ھے۔ بکرے کی ماں کب تک خیر منائے گی۔ ایک دن چھری کے نیچے آئے گی۔ اور یہ بکرے کی ماں ظاھر ھے۔ بکری ھی ھے۔ بکری ھو یا بکرا ھو۔ جتنی مرضی میں میں کرے ۔ آخر میں کھانے کے کام ھی آتا ھے۔ اور اس کی قربانی کی جاتی ھے۔ قربانی سے یاد آیا ۔ کچھ سیانے لوگ عید رات پر سستا بکرا خریدنے چلے جاتے ھیں اور غلطی سے بکری لے آتے ھیں ۔ پھر اس کے تھنوں کو ھاتھ لگا لگا کر کبھی ھنستے ھیں کبھی روتے ھیں ۔ قربان ھونا مقدر ھے۔ اور بکری یا بکرے کی چوائس تدبر ھے۔
گائے اللہ کا تحفہ ھے۔ اسی لیے کہتے ہیں ۔ رب کا شکر ادا کر بھائی جس نے ھماری گاے بنائ۔ بکری بھی اللہ کا تحفہ ھے۔ اسی لیے کہتے ھیں ۔ میں میں مت کر جانی۔ ایک دن ھونی تیری قربانی ۔ یہ آپ کی چوائس ھے۔ آپ ایک گاے کی زندگی جینا چاھتے ھیں یا بکری کی زندگی، گائے تدبر سے مقدر ھے۔ بکری مقدر سے تدبر ھے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *