عورتوں کی تعلیم کا حق

انسان تخلیق ہے اس تخلیق کار کی جو تخلیقِ معلیٰ کا تخلیق کرنے والا ہے, ایک وقت ایسا تھا جب کچھ نہ تھا نہ آسمان زمین کائناتیں کہکشائیں ستارے سورج فرشتے شیطان انسان علم جہل خیر شر کچھ نہ تھا بالکل کچھ نہ تھا بالکل کچھ نہ تھا اس وقت صرف وہی تھا بس وہی جو سب کا خالق اور مالک ہے,  اس نے پھر کائناتیں تخلیق کیں دنیائیں بنائیں پھر آگ پانی مٹی ہوا روشنی اندھیرا فرشتے جن اور پھر انسان , وہ وقت بھی تھا جب انسان پیدا کیا گیا تو کچھ نہ جانتا تھا وہ,  پھر اسے فہم دیا گیا عقل دی گئی اور پھر علم دیا گیا اور اس علم کی بنا پر اسے معلوم ہوا کہ وہ کون ہے اسے پیدا کرنت والا کون ہے اسے کیوں پیدا کیا گیا اس کی ذمہ داریاں کیا ہیں  , انسان صرف مرد نہیں,  عورت اور مرد دونوں انسان ہیں
عورت.....
عورت کے بارے میں بات کی جائے تو خدا کے بعد اسے انسان کو خدا کے حکم سے تخلیق کرنے کی صلاحیت دی گئی اور اس نے انسان کی نسل کو جاری رکھنے کا فرض ادا کرنا ہے,  ہم جس معاشرے میں رہ رہے ہیں اس میں عورت کو تعلیم سے محروم رکھنا ہی غیرت اور قوانین کی پاسداری و قومی و تہذیبی حیا داری کا ثبوت مانا جاتا ہے , عورت کیا ہے ً ؟ نسلیں پیدا کرنے والی فیکٹری؟ عورت انسان نہیں ؟ جس نے پیدا کیا اس نے انسان کو علم عطا کیا تو مرد ذات نے عورت سے اس کا وہ حق کن بنیادوں پر چھینا جس کی بنا پر اسے اپنی ذات کا ادراک ہونا تھا اسے اپنے رب کا ادراک ہونا تھا اسے اپنی اہمیت کا ادراک ہونا تھا , اب اگر عورت ان تمام رموز سے بے خبر ہے تو اس کی ذمہ دار وہ نہیں بلکہ وہ طبقہ اور وہ مرد ہیں جنہوں نے عورت کو تعلیم سے محروم رکھا , جب عورت جو کہ ماں ہے وہ تعلیم سے دور ہو گی تو اپنی نسل اور اپنی اولاد کی تربیت کیسے کرے گی وہ کیسے آنے والی نسل کو ترقی کی راہیں دکھائے گی , وہ اپنے دل کا جزبہ پیار لگ ششفقت محبت اور قربانی کا جذبہ تو دے سکی گی لیکن فہم نہیں دے سکے گی ادراک نہیں دے سکے گی علم نہیں دے سکے گی تصور نہیں دے سکے گی  ,  مائیں قومیں بناتی ہیں اور ماؤں کو تعلیم سے دور رکھ کر آپ کس قسم کی نسلوں اور قوموں کی امید رکھیں گے؟
وہی قومیں جنہوں نے ظلم ایجاد کیا وہی جنہوں نے انسانیت کا خون بہا کر طاقت کا نشہ حاصل کیا,   وہی جنہوں نے لوٹ مار کی,  جنگیں چھیڑیں  ہتھیار بنائے کفر و شرک نا انصافی اور بربریت کا پرچار کیا ؟ اور اس کےبرعکس علم کی پاسدار ماؤں نے عظیم اور پڑھی لکھی قومیں پیدا کیں , انسانیت کی فلاح اور نیک معاشرے کی تکمیل کے لیے قربانی دینے والی قومیں پیدا  کیں , یہ ہم پہ منحصر کے کہ ہم اپنی تہزیب و تمدن کے لیے علم کا انتخاب کریں یا جہل کا .
                انسان کی ترقی کا دارومدار علم پر ہے کوئی بھی شخص یاقوم بغیر علم کے زندگی کی تگ ودو میں پیچھے رہ جاتی ہے۔ اور وہ شخص اپنی کُند ذہنی کی وجہ سے زندگی کے مراحل میں زیادہ آگے نہیں سوچ سکتا اور نہ ہی مادی ترقی کا کوئی امکان نظر آتاہے؛ لیکن اس کے باوجود تاریخ کا ایک طویل عرصہ ایسا گزرا ہے جس میں عورت کے لیے علم کی ضرورت واہمیت کو نظر انداز کیاگیا اور اس کی ضرورت صرف مردوں کے لیے سمجھی گئی اور افسوس تو یہ ہے کہ اب بھی دنیا کے بہت سے علاقوں اور معاشروں میں تعلیم کو عورتوں پہ حرام قرار دیا جاتا ہے ,اور ان میں بھی جو خاص طبقہ سے تعلق رکھتے ہیں صرف وہی علم حاصل کرتے تھے اور عورت علم سے بہت دور جہالت کی زندگی بسر کرتی تھی۔
                لیکن اسلام نے علم کو فرض قرار دیا اور مرد وعورت دونوں کے لیے اس کے دروازے کھولے اور جو بھی اس راہ میں رکاوٹ وپابندیاں تھیں، سب کو ختم کردیا۔اسلام نے لڑکیوں کی تعلیم وتربیت کی طرف خاص توجہ دلائی اور اس کی ترغیب دی، جیسا کہ رسول  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
طلب علم فریضة اور دوسری جگہ ابوسعید خدی کی روایت ہے کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
                مَنْ عَالَ ثلاثَ بناتٍ فأدَّبَہُنَّ وَزَوَّجَہُنَّ وأحسنَ الیہِنَّ فلہ الجنة(۶)
                جس نے تین لڑکیوں کی پرورش کی ان کو تعلیم تربیت دی، ان کی شادی کی اور ان کے ساتھ (بعد میں بھی) حسنِ سلوک کیا تو اس کے لیے جنت ہے۔
                اسلام مرد وعورت دونوں کو مخاطب کرتا ہے اور اس نے ہر ایک کو عبادت اخلاق وشریعت کا پابند بنایا ہے جو کہ علم کے بغیر ممکن نہیں۔ علم کے بغیر عورت نہ تو اپنے حقوق کی حفاظت کرسکتی ہے اور نہ ہی اپنی ذمہ داریوں کو ادا کرسکتی ہے جو کہ اسلام نے اس پر عائد کی ہے؛ اس لیے مرد کے ساتھ ساتھ عورتوں کی تعلیم بھی نہایت ضروری ہے۔
                جیسا کہ گزشتہ دور میں جس طرح علم مردوں میں پھیلا، اسی طرح عورتوں میں بھی عام ہوا۔ صحابہ کے درمیان قرآن وحدیث میں علم رکھنے والی خواتین کافی مقدار میں ملتی ہیں، قرآن وحدیث کی روشنی میں مسائل کا استنباط اور فتویٰ دینا بڑا ہی مشکل اور نازک کام ہے؛ لیکن پھر بھی اس میدان میں عورتیں پیچھے نہیں تھیں,  مردوں کے مقابلے میں ہی عورتوں میں بھی علم حاصل کرنے کا جذبہ بدرجہ اتم موجود تھا
علم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد اور عورت پر فرض ہے
اس میں صربحی و ضاحت موجود ہے کہ اسلام نے تعلیم کو مردوں اور عورتوں کے لیے یکساں طور پر فرض قرار دیا ہے۔
دنیا کے تمام قدیم اور جدید معاشروں کی ترقی میں عورتیں بھی مردوں کے شانہ بشانہ شریک ہیں آبادی کا  قریباً  نصف عموماً خواتین پر مشتمل ہیں، جن کی متوازن شرکت کے بغیر مطلوبہ ترقی نہیں ہو سکتی جو کہ صرف تعلیم نسواں کے ذریعے ہی ممکن ہے۔
ماں کے قدموں تلے جنت کا ہونا بھی اسی باعث ہے کہ اولاد کی تعلیم و تربیت میں ماں کا کردار بہ نسبت باپ زیادہ کی اہم ہے۔ عورت کی تعلیم پورے خاندان کی تعلیم ہے ایک تعلیم یافتہ عورت ہی اولاد کی ہمہ پہلو تکمیل کر سکتی ہے۔ ماں کے کردار کے علاوہ خواتین ہمدرد ڈاکٹر یا نرس،قابل معلمہ،ماہر امور خانہ داری، ذمہ دار پولیس آفیسر اور احساس وکیل کے طور پر معاشرےکی تر قی میں مو ئثر کر دار ادا کر تی ہیں
تا ریخی پس منظر میں حضرت خدیجہ،حضرت فا طمہ، حضرت زینب، ملکہ زبیدہ ، رابعہ  قزداری، رضیہ سلطا نہ، ملکہ نور جہا ں ، زیب النساء بیگم، حبہ خا تون ، فاطمہ جناح اور بے نظیر جیسے قا بل تقلید کردار مو جود ہیں جہنو ں نے  علم و دا نش کی بنا پر انسا نیت کی فلا ح کے  لیے بیش بہا خد ما ت سر انجام دیں ۔۔۔
اسلام میں خواتین کی تعلیم و تربیت کا خصوصی اہتمام بنیادی اقدامات میں سے ہے  قبل از اسلام جاہلی معاشروں میں عورت ہر قسم کے حق سے محروم تھی۔ جہاں عورت زندگی کے حق سے ہی محروم ہو، وہاں اس کے پڑھنے لکھنے کے حق کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ مگر اسلام نے جہاں عورت کو اعلیٰ و ارفع مقام دیا وہاں اس پر ایک احسان یہ بھی فرمایا کہ اسے درس و تدریس اور تعلیم و تربیت میں مردوں کے برابر مکلف قرار دیا۔
 چونکہ شریعت ِاسلامی کے مخاطب مرد اور عورت دونوں مکمل اہمیت رکھتے ہیں۔ دینی احکام دونوں پر واجب ہیں اور روزِ قیامت مردوں کی طرح عورتیں بھی ربّ العالمین کے سامنے جواب دہ ہیں۔ لہٰذا عورتوں کے لئے بھی حصولِ علم جو اُن کو بنیادی دینی اُمور کی تعلیم دے اور احکامِ اسلامی کے مطابق زندگی گزارنے کاڈھنگ سکھائے وہ ان کے لئے فرضِ عین قرا ردیا گیا ہے۔ فرضِ عین سے مراد یہ ہے کہ اسے سیکھنا لازمی ہے اور اگر عورت یا مرد اس میں کوتاہی کرے تو وہ عنداللہ مجرم ہے۔
چنانچہ آنحضور نے ابتدا ہی سے خواتین کی تعلیم کی طرف توجہ فرمائی۔ آپ نے سورة البقرة کی آیات کے متعلق فرمایا:
"تم خود بھی ان کو سیکھو اور اپنی خواتین کو بھی سکھاوٴ۔" (سنن دارمی:۳۳۹۰)
تربیت کے لئے اپنی خدمت میں حاضر ہونے والے وفدوں کو آپ تلقین فرماتے کہ
"تم اپنے گھروں میں واپس جاوٴ، اپنے اہل خانہ کے ساتھ رہو، ان کو دین کی تعلیم دو اور ان سے احکامِ دینی پر عمل کراوٴ۔" (صحیح بخاری:۶۳)
 آپ کافرمان ہے:
"جس نے تین لڑکیوں کی پرورش کی ، ان کی اچھی تعلیم و تربیت کی، ان سے حسن سلوک کیا، پھر ان کا نکاح کردیا تو اس کے لئے جنت ہے۔" (ابوداود :۵۱۴۷)
رسولِ اکرم ﷺ کے تبلیغی مشن میں ہفتہ میں ایک دن صرف خواتین کی تعلیم و تربیت کے لئے مخصوص ہوتا تھا۔ اس دن خواتین آپ کی خدمت میں حاضر ہوتیں اور آپ سے مختلف قسم کے سوالات اور روزمرہ مسائل پوچھتیں۔ نمازِ عید کے بعد آپ ان سے الگ سے خطاب کرتے۔ اُمہات الموٴمنین کو بھی آپ نے حکم دے رکھا تھا کہ وہ مسلم خواتین کو دینی مسائل سے آگاہ کیا کریں۔ پھر آپ نے خواتین کے لئے کتابت یعنی لکھنے کی بھی تاکید فرمائی۔ حضرت شفاء بنت عبداللہ لکھنا جانتی تھیں۔ آپ نے انہیں حکم دیا کہ تم اُمّ الموٴمنین حضرت حفصہ کو بھی لکھنا سکھا دو۔ چنانچہ انہوں نے حضرت حفصہ کو بھی لکھنا سکھا دیا۔ آہستہ آہستہ خواتین میں لکھنے اور پڑھنے کا اہتمام اور ذوق و شوق بہت بڑھ گیا۔ عہد ِنبوی کے بعد خلفاے راشدین کے مبارک دور میں بھی خواتین کی تعلیم و تربیت کی طرف بھرپور توجہ دی گئی۔ حضرت عمر بن خطاب نے اپنی مملکت کے تمام اطراف میں یہ فرمان جاری کردیا تھا :
«علِّموا نساوٴکم سورة النور...» ( الدر المنثور:۵/۱۸)
" اپنی خواتین کو سورة النور ضرور  سکھاوٴ کہ اس میں خانگی زندگی اور معاشرتی زندگی کے متعلق بے شمار مسائل واَحکام موجود ہیں۔"
دین ہو یا تاریخ,  عقلی دلائل ہوں یا علمی و مشاہداتی , دل کی آواز ہو یا اخلاقیات کے تقاضے,  کسی بھی حوالے سے سوچا اور جانچا جائے تو علم صرف  مرد نہیں بلکہ مرد سے زیادہ عورت پر ضروری ہے, اس نے اپنے علم کی بنا پر ہی زندگی کی جنگ لڑنی ہوتی ہے  وہ مرد کی طرح طاقت نہیں رکھتی لیکن علم کی طاقت ہی اسے مکمل توازن اور اہمیت دیتی ہے,  اس کی اچھی سوچ اچھی تربیت کرے گی اور اچھے معاشرے وجود میں آئیں گے اور ایک اچھے تہذیب و تمدن کے دور کا آغاز ہوو گا, اس دور کا آغاز ہو گا جس کا انتظار انسانیت کو ہے اس دور کا آغاز ہو گا جو اسلام کی روح ہے جو سلجھے ہوئے امن پسند اور اصلاح کے پیرو ہر لحاظ سے مکمل معاشرے ہوں گے جہاں ظلم و بربریت نہیں ہو گی جہاں ایک دوسرے کا استحصال نہیں ہو گا بلکہ ایک دوسرے کے حقوق کا خیال رکھا جائے گا اور دنیا امن کا گہوارہ ہو گی اور اس چمن کی بیل عورت کی تعلیم کی خوشبو سے  ہی ممکن ہے.

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *