اسلام آباد: ہالینڈ کا سفارتخانہ بند، ویزا انٹرویوز بھی منسوخ

اسلام آباد میں یورپی ملک ہالینڈ کا سفارتخانہ غیر معینہ مدت کے لیے بند کردیا گیا، ویزا درخواستیں اور انٹرویوز بھی روک دیے گئے۔

سفارتی ذرائع کے مطابق نیدرلینڈز کی حکومت نے سفارت خانہ اور قونصلیٹ عملے کی سیکیورٹی کو درپیش مسائل کے پیش نظر بند کردیے۔

یورپی ملک نے ویزہ کے لیے ہونے والے تمام انٹرویوز کو بھی تاحکم ثانی روک دیا جبکہ اس کے ساتھ ساتھ نئی ویزا درخواستوں کی وصولی بھی روک دی گئی ہے۔

ذرائع کے مطابق ہالینڈ حکومت کو کچھ مشکلات کا سامنا تھا جس کے پیش نظر نہ صرف سفارتخانہ بلکہ تمام قونصل خانوں کو بھی بند کردیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ رواں سال جون میں ہالینڈ کی اسلام مخالف جماعت فریڈم پارٹی آف ڈچ کے متنازع رہنما گیرٹ ولڈرز نے پارلیمنٹ میں گستاخانہ خاکوں کا مقابلہ کروانے کا قبیح اعلان کیا تھا۔

امکان ظاہر کیا جارہا ہے کہ خاتم النبیین حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شان اقدس میں گستاخی کے بعد ہالینڈ کے سفارتی عملے کو سیکیورٹی خدشات لاحق ہوگئے تھے۔

ہالینڈ کے ایک رہنما کی جانب سے آنے والے اس توہین آمیز اعلان کے بعد پاکستان سمیت پوری دنیا میں مسلمانوں میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی اور احتجاج کا سلسلہ شروع ہوگیا تھا۔

پاکستان نے 20 اگست کو گستاخانہ خاکوں کے مقابلے کے انعقاد کے معاملے پر ہالینڈ کے ناظم الامور کو دفتر خارجہ طلب کرکے شدید احتجاج ریکارڈ کرایا تھا۔

دفتر خارجہ سے جاری بیان کے مطابق اسلامی شعائر کی تضحیک پر پاکستان نے ہالینڈ کی حکومت سے شدید تشویش کا اظہار کیا تھا اور ہالینڈ کے ناظم الامور کو وفاقی کابینہ کے احتجاج اور فیصلے سے متعلق بھی آگاہ کردیا تھا۔

پاکستان میں شدید احتجاج کے بعد ہالینڈ کے وزیرِاعظم نے حکومت کو ان گستاخانہ خاکوں کے مقابلوں سے علیحدہ کر لیا تھا جبکہ ایک پریس کانفرنس کے دوران اعلان کیا تھا کہ 'گیرٹ ولڈرز حکومت کے رکن نہیں اور نہ ہی یہ مقابلہ حکومت کا فیصلہ ہے'۔

مذہبی جماعتوں کے احتجاج کے دوران حکومتِ پاکستان سے اسلام آباد میں ہالینڈ کے سفیر کو ملک بدر کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

واضح رہے کہ گیرٹ ولڈرز وہی شخص ہے جس نے پارلیمنٹ میں قرآن مجید کی ترسیل روکنے کا بل پیش کیا تھا، اس کے علاوہ یہ ہالینڈ میں خواتین کے پردے پر پابندی کا بل بھی پیش کرچکے ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *