پاکستان کی تین سب سے طاقتور شخصیات کون ہیں؟

آج کل پاکستان میں صرف تین افراد سر اٹھا کر چل سکتے ہیں۔  وہ تین عظیم لوگ چھوٹے قد والے لوگوں کے ہجوم میں لمبے دکھائی دیتے ہیں کیوں کہ انہوں نے وہ کارنامہ دکھایا ہے جو چھوٹے قد والوں نے کبھی نہیں دکھایا۔ انہوں نے جذبہ، ہمت اور عظمت کا مظاہرہ کیا ہے۔

لیکن ان لوگوں  کے جذبے ، حوصلے اور یقین کو ان لوگوں کی طرف سے ہی جھٹلایا گیا جن کو ریاست کی باگ ڈور سنبھالنے کے لیے منتخب کیا گیا تھا۔  کچھ لوگ پی ٹی آئی حکومت اور خادم حسین رضوی کے درمیان معاہدے کو ایک شاطرانہ فتح کا نام دیتے ہیں۔ کچھ اسے  اختیار کا مثالی  استعمال قرار دیتے ہیں۔ کچھ ایسے بھی ہیں جو کہتے ہیں کہ جیسے حالات تھے اس میں اس سے بہتر کوئی حل نہیں نکل سکتا تھا۔

حقیقت یہ ہے کہ یہ ایک قافلے کے ہتھیار ڈالنے کے واقعہ سے الگ کوئی چیز نہیں ہے۔

لیکن انتظار فرمائیے۔ حکومت اور ریاست کی  رٹ کمزور نہیں ہوئی۔ نہیں، بالکل نہیں۔۔ رٹ اپنی جنگہ پر موجود ہے، اس لیے کہ اگر یہ نہ ہوتی تو سب جو چاہے کر رہے ہوتے۔ لیکن کیا آپ پچھلے چند دنوں کے واقعات کو' فری فار آل' کہہ سکتے ہیں؟ ہر چیز جس نے اس ملک کو تباہ کیا ہے، لوٹ مار، آتش زنی، تشدد، قتل، رکاوٹیں اور بغاوت کی حوصلہ افزائی، یہ سب ایک ہی  چھتری تلے ہوا، ایک ہی سمت میں اور ایک ہی کمانڈ  کے زیر اثر وقوع پذیر ہوا۔

حکومت اور ریاست کی رٹ کمزور نہیں ہوئی۔ اسے خادم حسین رضوی اور ٹی ایل پی کی رٹ سے بدل دیا گیا۔

حیرانگی ہوئی؟ جھٹکا لگا؟ ایک نئی  سبکی کا احساس ہوا؟

کون فیصلہ کرتا ہے کہ ہمارے بچے سکول جائیں یا نہ جائیں؟ خادم رضوی یا عمران خان؟ کون فیصلہ کرتا ہے کہ ہم دفتر، فیکٹری یا کسی اور جگہ کام پر جائیں یا نہیں؟ رضوی یا خان؟ کون فیصلہ کرتا ہے کہ پبلک ٹرانسپورٹ روڈ پر چلے یا نہیں؟ رضوی یا خان؟ کون فیصلہ کرتا ہے کہ بازار اور دکانیں کھلی رہیں یا بند ہوں؟ رٖضوی یا خان؟  کون فیصلہ کرتا ہے کہ ایمبولینس بیریئر سے گزرے یا نہ؟ رضوی یا خان؟ کون فیصلہ کرتا ہے کہ موٹر وی کھلی رہیں یا بند ہوں؟ رضوی یا خان؟ اور کون فیصلہ کرتا ہے کہ نارمل حالات ملک میں واپس آئیں؟ رضوی یا خان؟

خان نے انتخابات جیتے ہوں گے لیکن یہ رضوی ہے جو آج پاکستان پر حکومت کر رہا ہے۔

قوم کی حالت ناقابل بیان تھی جب ایک ہفتہ کےبعد حالات نارمل ہوئے۔ یہ وہ حالت  ہے جس میں ریاست نے اپنی حاکمیت کا خون کر دیا اور اسے عقلمندی کہہ دیا، ایک ایسی حالت جس میں ریاست نے اپنے شہریوں کی حفاظت کی بنیادی ڈیوٹی کی خلاف ورزی کی اور اسے صوابدید قرار دے دیا، ایک ایسی حالت جس میں ریاست نے احتجاجیوں  کو چھوٹ دی اور اسے حکمت عملی قرار دے دیا۔ ایسا کر کے ریاست نے وہ کیا ہے جو یہ کئی دہائیوں سے کرتی آئی ہے، شدت پسندوں کو باہر کرنے کے  لیے انہیں اندر لے آنا۔  ہر بار ریاست ناکام ہوئی ہے۔ ہر ناکامی نے اس کے اختیار اور مضبوطی سے کھڑے ہونے کی خواہش کو کمزور کیا ہے۔ ہر کمزوری نے اس کے شہریوں کے عدم تحفظ  کے احساس کو بڑھایا ہے۔

آج عمران خان کے پاس  ریاست کی طاقت ہے لیکن وہ احتجاجیوں کو ایک شخص کو کار سے باہر کھینچ کر نکال کر اسے اس کے بچوں کے سامنے مارنے دیتے ہیں اور کچھ نہیں کرتے۔ اس سے ان کی  فورسز کی طاقت کا بھی اندازہ ہو جاتا ہے۔ آج عمران خان کے ساتھ لوگوں کی حمایت ہے لیکن وہ احتجاجیوں کو کاریں جلانے دیتے ہیں، دکانیں لوٹنے دیتے ہیں اور ہر اس شخص کی پراپرٹی تباہ کرنے دیتے ہیں جس نے انہیں دفتر میں بیٹھنے کے لیے ووٹ دیا اور کچھ نہیں کرتے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انہیں مینڈیٹ کی کتنی فکر ہے۔  آج عمران خان کے ساتھ عظیم اسٹیبلشمنٹ کا تعاون ہے لیکن وہ احتجاجیوں کو اداروں میں کھلی بغاوت  کا فتوی دینے  کی اجازت دیتے ہیں اور اس کے چیف کا مذاق اڑانے دیتے ہیں اور کچھ نہیں کرتے۔ اس سے اس فورس کا اندازہ ہوتا ہے جس کے وہ کمانڈر ہیں۔

ہمارے لیڈر نے پاکستان کو جلتا دیکھ کر  خوشیاں تو نہیں منائیں لیکن وہ اسے چھوڑ کر چین روانہ ہو گئے ۔ اختیارات کس  کو دے کر گئے جب قوم کو مارا جا رہا تھا؟ فیاض الحسن چوہان کو؟

بے شک  ایسے لوگوں کی کوئی کمی نہیں جو  یہ جواز پیش کریں گے کہ حکومت کے پاس احتجاج کرنے والوں سے مذاکرات کے علاوہ کوئی  آپشن نہیں تھا ۔ یقینا  آپشننز محدود تھیں۔ لیکن کس نے عمران خان کو یہ بتایا کہ پاکستان کو چلانا پارک میں ٹہلنے جیسا ہے؟ اس حکومت سے کیا توقع کریں جو مشکل صورتحال میں سخت فیصلے نہیں کر سکتی؟  لوگ کہتے ہیں کہ یہ ایک اور امتحان تھا جس میں عمران خان قوم کے وزیر اعظم  کی حیثیت سے ناکام رہے۔  خواتین و حضرات، یہ کوئی امتحان نہیں تھا۔ پورے ملک کو بند کر دینا اور قوم کو یرغمال بنا دینا امتحان نہیں، بلکہ یہ ایک  کھلی حقیقت تھی۔

عمران خان امتحان میں ناکام نہیں ہوئے، وہ اپنے کام میں ناکام ہو گئے۔

اس خاندان سے پوچھیں جو لگا تار دو دن تک موٹر ویز پر پھنسا رہا ، اس نوجوان سے پوچھیں جسے لاہور کی گلیوں میں سلاخوں کے ساتھ مارا گیا اور اس کی موٹر سائکل کو جلا دیا گیا، ان لواحقین سے پوچھیں جن کا پیارا ایمبولینس مین کفن میں پڑا رہا اور اسے قبرستان نہیں پہنچنے دیا گیا، اور اس باپ سے پوچھیں جسے احتجاجیوں نے اس کے پریشان بچوں کے سامنے مارا، ہاں ان سب سے پوچھیں کہ پچھلے ستر گھنٹوں میں ان کے اوپر  کوئی حکومت  موجود تھی۔ ان سے پوچھیں کہ  کیا ریاست انہیں دیکھ رہی تھی جب انہوں نے مصیبتوں، ذلت اورپاکستان کی سڑکوں پر پاکستانی ہونے کا خمیازہ بھگتا ۔ ان سے پوچھیں اور آپ کو جواب مل جائے گا۔

پاکستان میں گورننس کی پیچیدگیوں  کو بیان کرنے کے لیے بے شمار آرٹیکلز  شائع ہوں گے ، بہت سی سوشل میڈیا پوسٹس اور ٹویٹس کے زریعے سیاست اور مذہب کو جوڑنے کے نتائج  بیان کیے جائیں گے اور یقینا لسانیت، فرقہ پرستی، برائی اور فوج کی غلطیوں کی فالٹ لائنز  پر گھنٹوں تک مباحثے ہوں گے، لیکن  کوئی چیز بھی اس خوفناک بھدی حقیقت کو چھپانے میں کامیاب نہیں ہو گی کہ پاکستان کی حکومت اور ریاست  کی جب  پاکستان کو ضرورت تھی تب یہ دونوں موجود نہیں تھیں۔

یہ احساس شہ رگ میں مکے جیسا ہے۔ ہمارے پاس سینکڑوں ہزاروں قانون نافذ کرنے والے مسلح افراد ہیں اور ہم اپنے شہریوں کی منظم تشدد سے حفاظت نہیں کر سکتے۔ ہمارے پاس  تباہ کن ہتھیار ہیں جو دنیا کو تباہ  کر سکتے ہیں لیکن ہم نفرت انگیز تحریک سے کسی باپ کو اس کے بچوں کے سامنے مارے جانے سے بچانے کے قابل نہیں یا جان بوجھ کر اس کی حفاظت نہیں کرتے۔ ہمارے  ہاں  عوام پر آزادی اظہار  اور اختلاف و تنقید پر پابندی لگانے کا اختیار ہے لیکن ہم غداری، بغاوت، اور قتل و غارت پر اکسانے کے لیے اٹھنے والی آوازوں کو ریاست کے خلاف اٹھنے سے روک نہیں سکتے۔

لیکن اس چھوٹے لوگوں کے ہجوم کے درمیان تین عظیم لوگ ہیں جو ابھی بھی اس بدمعاشی ، نفرت اور عدم برداشت کی مزاحمت کرتے ہیں۔ وہ ایک بنچ پر بیٹھے اور ایک فیصلہ سنایا جو ان اندھیروں میں ایک روشنی کا کردار ادا کر سکتا ہے جو ہمیں  اپنی لپیٹ میں لے لے گی۔  ریاست نے  بھلا ہی اپنی  رٹ مسٹر رضوی کو ایک پلیٹ میں رکھ کر تحفے میں دے دی ہو اور خان نے  پچھلی حکومت کی طرح لاہور کے چیئرنگ کراس پر سرینڈر کیا ہو  لیکن پاکستان کی روح کے لیے جنگ  ابھی ختم نہیں ہوئی ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *