تبصرہ نگار

ہمارے ملک میں ایسے لوگوں کی کثیر تعداد موجود ہے جن کو ہر وقت اور ہر چیز پر تبصرہ کرنے میں کمال مہارت حاصل ہے۔ کھیل ہو یا ٹی وی ڈرامہ، مذہب ہو یا سیاست۔۔۔ یہ حضرات اس پر سیر حاصل تبصرہ کر سکتے ہیں۔ کھیلوں میں کرکٹ پر تبصرہ کرنے والوں کی تعداد حیرت انگیز طور پر کچھ زیادہ ہی ہے۔ ان تبصرہ نگار حضرات پر تبصرہ نگاری کا دورہ ان ایام میں زیادہ شدت اختیار کر جاتا ہے۔ جن دنوں ملک میں کرکٹ کے مقابلے ہو رہے ہوں۔ پھر مقابلوں کی ابتدا سے لے کر انجام تک ان کا تبصرہ جاری رہتا ہے۔ یہ تبصرہ نگار کسی گلی کی نکڑ، کسی فٹ پاتھ یا کسی ہوٹل میں آپ کو مل جائیں گے۔ جو دنیا و مافیہا سے بے نیاز کرکٹ کے شیدائیوں کو جمع کر کے اس کی ضرورت و اہمیت پر تبصرہ کر رہے ہوں گے۔
ایسے ہی ایک قابل تبصرہ نگار کو ہم بھی جانتے ہیں۔ نام تو ان کا اچھا بھلا مسرور احمد ہے۔ مگر کرکٹ کے حلقوں میں وہ 'مسرور تبصرہ' کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ اگر مسرور تبصرہ کو ''عالمی کرکٹ سکور بک'' کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا۔ کیوں کہ دنیا کے تمام مشہور کھلاڑیوں کا سکور، اوسط اور سینچریوں کی تعداد انھیں ازبر ہے۔ یہ بھی عجیب اتفاق ہے کہ دنیا کے مشہور کھلاڑیوں کا سکور تو انھوں نے طوطے کی طرح رٹ رکھا ہے لیکن انھیں یہ معلوم نہیں کہ ''نو بال'' کیا ہوتا ہے۔
چند روز قبل ہمیں مسرور تبصرہ سے ملنے کا اتفاق ہوا۔ ہم نے سوچا کیوں نہ آج معلوم کر لیا جائے کہ مسرور احمد صاحب نے کب سے کرکٹ پر تبصرہ نگاری شروع کی اور کیوں کی۔
اس سوچ کے بعد ہمارے اور مسرور تبصرہ کے درمیان جو گفتگو ہوئی وہ کچھ یوں ہے:
ہم: "آپ ہمارے ملک کے نام ور تبصرہ نگار ہیں۔"
ہماری بات کاٹتے ہوئے مسرور صاحب بولے، "ہاں بھئی۔۔۔ اس میں کیا شک ہے۔"
ہم نے دوبارہ سوال مکمل کرتے ہوئے کہا، "آپ نے کب سے تبصرہ نگاری شروع کی؟"
مسرور صاحب: "یہی کوئی پانچ چھ برس پہلے۔۔"
ہم: "آپ نے اپنی جوانی میں کافی کرکٹ کھیلی ہوگی؟"
مسرور صاحب: "نہیں کچھ زیادہ نہیں۔ پہلی اور آخری مرتبہ نویں جماعت میں ایک کرکٹ میچ کھیلا تھا۔ ایک کم بخت فاسٹ باؤلر نے جو تیز گیند کرائی تو آن کر ہمارے سر پر پڑی۔ بس پھر کیا تھا سر خون سے سرخ ہوگیا۔ وہ دن اور آج کا دن۔۔۔ جو بھولے سے بھی کبھی گیند اور بلّے کو ہاتھ لگایا ہو۔"
ہم: "آپ نے اب تک میچ تو کافی دیکھے ہوں گے؟"
"کچھ زیادہ نہیں" مسرور صاحب واقعہ سنانے کے موڈ میں بولے، "یہ اس زمانے کی بات ہے جب میں دسویں جماعت کا طالب علم تھا۔ دو تین بار سکول سے بھاگ کر میچ دیکھا تھا۔ مگر چوتھے ہی میچ پر ابا نے چھاپہ مار کر ہمیں رنگے ہاتھوں پکڑ لیا۔ پھر وہ پٹائی کی کہ اب تک اس کی شدت محسوس کرتا ہوں۔ اس دن کے بعد سکول سے بھاگ کر تو کیا۔ چھٹی والے دن بھی کبھی میچ دیکھنے نہیں گیا۔"
ہم نے مسرور صاحب کی طرف حیران کن نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا: "آپ نے نہ تو زیادہ کرکٹ کھیلی ہے اور نہ ہی زیادہ کرکٹ میچ دیکھے ہیں مگر پھر بھی آپ کمال کا تبصرہ کرتے ہیں۔ اس کا کیا رازہے؟ آپ کس طرح یہ تبصرہ کر لیتے ہیں؟"
مسرور صاحب: "تبصرہ کون سا مشکل کام ہے۔ اس کا طریقہ ہم آپ کو ابھی بتائے دیتے ہیں۔
نمبر 1: سلیکٹر جو ٹیم سلیکٹ کرے۔ آپ اس کی مخالفت میں بولیں اور ٹیم میں کچھ تبدیلیوں کی بات کریں اور دوسروں کو یہ سمجھا دیں کہ یہ تبدیلی کس قدر ضروری ہے۔
نمبر 2: جو کھلاڑی اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرے بس اسی کے گن گائیے اور ناقص کارکردگی پر اسی کھلاڑی کے خلاف بولیے۔ ان شاء اللہ آپ کامیاب تبصرہ نگار بن جائیں گے۔"
یہ تو تھی مسرور تبصرہ کے ساتھ ہونے والی گفتگو۔۔۔۔
آپ بھی اپنے اردگرد ایسے تبصرہ نگار تلاش کریں ۔ یہ تبصرہ نگار آپ کے ساتھی بھی ہو سکتے ہیں۔ اگر آس پاس کوئی نہ ملے تو کسی فٹ پاتھ، کسی گلی کی نکڑ یا کسی ہوٹل میں چلے جائیے ورنہ ٹی وی کے سامنے ہی بیٹھ جائیے۔ آپ یقیناٗ کامیاب ہوں گے اور ایسے تبصرہ نگار سے شرف ملاقات حاصل کریں گے جو کرکٹ پر لمبے لمبے تبصرے تو کرے گا لیکن اسے مسرور تبصرہ کی طرح یہ معلوم نہ ہو گا کہ " نو بال" کیا ہوتا ہے۔ اگر ان جگہوں پر کوئی تبصرہ نگار نہ ملے تو ایک نظر خود پر ڈال لیجیے گا۔ شاید وہ تبصرہ نگار آپ خود ہوں۔۔۔۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *