نمک کا زیادہ استعمال آپ کو ان امراض کا شکار بناسکتا ہے

نمک ایسی چیز ہے جس کے بغیر کھانا نامکمل اور بے ذائقہ محسوس ہوتا ہے اور طبی ماہرین کی ہدایات کے مطابق دن بھر میں 2300 ملی گرام (ایک کھانے کا چمچ) نمک ہی استعمال کرنا چاہئے۔

تاہم بیشتر افراد زیادہ مقدار میں نمک جزو بدن بناتے ہیں اور اس کے نتیجے میں فشار خون سمیت سنگین طبی مسائل وقت کے ساتھ ابھرنے لگتے ہیں۔

غذا میں زیادہ نمک کے استعمال کی چند عام علامات درج ذیل ہیں۔

ہائی بلڈ پریشر

یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ زیادہ نمک کھانا بلڈپریشر بڑھانے کا باعث بنتا ہے، زیادہ نمک بلڈپریشر کی شرح ان افراد میں بی بڑھاتا ہے جو اس مرض کا شکار نہ ہو، جبکہ فشار خون کے شکار افراد کے لیے تو وہ انتہائی خطرناک ثابت ہوسکتا ہے کیونکہ ہارٹ اٹیک اور فالج جیسے امراض کا خطرہ اچانک بہت زیادہ بلڈپریشر بڑھنے کے نتیجے میں بڑھ جاتا ہے۔

گردوں کے امراض

نمک کے 95 فیصد حصے کو گردے میٹابولز کرتے ہیں، تو اگر نمکین اشیاءکو زیادہ کھائیں گے تو گردوں کو اضافی نمکیات کے اخراج کے لیے سخت محنت کرنا پڑے گی، جس کے نتیجے میں گردوں کے افعال میں کمی آئے گی، جس سے گردوں کے امراض اور پتھری کا خطرہ بڑھتا ہے۔

ذیابیطس

سوئیڈن کے کیرولینسکا انسٹیٹوٹ کی تحقیق میں بتایا گیا کہ زیادہ نمک کھانا ذیابیطس کے شکار ہونے کا خطرہ دوگنا بڑھا دیتا ہے اور ان افراد میں یہ امکان چار گنا زیادہ ہوتا ہے جو جینیاتی طور پر اس مرض کے لیے آسان شکار ثابت ہوتے ہیں۔ تحقیق میں بتایا گیا کہ دن بھر میں صرف آدھا چائے کا چمچ اضافی نمک کھانا ذیابیطس ٹائپ ٹو کا خطرہ 65 فیصد تک بڑھا دیتا ہے۔ اسی طرح تحقیق کے مطابق زیادہ نمک کھانا ذیابیطس ٹائپ ون کا خطرہ 82 فیصد زیادہ بڑھا دیتا ہے۔

ہارٹ فیلئر کا خطرہ بڑھائے

گزشتہ سال کی ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ جو لوگ غذا میں نمک کا زیادہ استعمال کرتے ہیں، ان میں ہارٹ فیلئر کا خطرہ دیگر کے مقابلے میں زیادہ ہوتا ہے، چاہے وہ ہائی بلڈ پریشر کا شکار نہ بھی ہو تو بھی ان کے دل کی صحت کو یہ خطرہ لاحق ہوجاتا ہے۔

سوجن

اگر ہاتھ میں انگوٹھیاں تنگ ہوجائیں، آپ پیروں میں سوجن محسوس کریں یا صبح آنکھیں پھولی ہوئی ہو، تو اس کی ممکنہ وجہ زیادہ نمک کا استعمال ہے۔ ایسا اس وقت ہوتا ہے جب جسم نمک کی زیادہ مقدار کی وجہ سے زیادہ پانی اکھٹا کرنے لگتا ہے اور اس کا علاج ڈاکٹر کے مشورے سے غذا میں تبدیلیوں سے ہی ممکن ہوتا ہے۔

زیادہ پیاس لگنا

نمک میں موجود سوڈیم جسم میں سیال کا توازن برقرار رکھنے میں مدد دیتا ہے، جب زیادہ نمک کھایا جائے تو جسم کو سیال کی بھی زیادہ ضرورت ہوتی ہے تاکہ مسلز اور دیگر اعضاءاپنا کام معمول کے مطابق کرسکیں اور پانی پینا ہی صورتحال کو معمول پر لانے کا بہترین ذریعہ ہے۔ یاد رکھیں مناسب مقدار میں پانی نہ پینا ڈی ہائیڈریشن کا شکار بناسکتا ہے۔

نیند متاثر ہونا

ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ زیادہ نمک کھانے کے نتیجے میں لوگوں کو پیشاب زیادہ آتا ہے اور وہ بھی رات کو، جس کی وجہ سے ان کی نیند متاثر ہوتی ہے، جو دیگر مسائل کا خطرہ بڑھاتی ہے۔

پیشاب کی رنگت میں تبدیلیاں

جب جسم میں سوڈیم کا ذخیرہ ہونے لگتا ہے تو جسم میں آنے والی تبدیلیوں کا اظہار پیشاب کے ذریعے 2 وجوہات کی وجہ سے ہوتا ہے۔ زیادہ نمک کھانے کے نتیجے میں گردوں کو اس کے اخراج کے لیے بہت زیادہ کام کرنا پڑتا ہے جس کے نتیجے میں گردوں کے امراض کا خطرہ پیدا ہوتا ہے اور اس کا عندیہ اکثر پیشاب کی صورت میں نکلتا ہے جس کی رنگت بالکل شفاف ہوسکتی ہے۔ اسی طرح بہت زیادہ سوڈیم کی جسم میں موجودگی سے جسم سیال کی سطح سے محروم ہونے لگتا ہے جس سے ڈی ہائیڈریشن کا مسئلہ پیدا ہوتا ہے۔ جسم جسم میں پانی کی کمی ہو تو پیشاب کی مقدار گھٹ جاتی ہے، جس سے وہ گاڑھا اور گہرے زرد رنگ کا ہوسکتا ہے۔

ہڈیوں میں درد

جب بہت زیادہ نمک کھایا جائے تو گردے اسے مکمل طور پر خارج نہیں کرپاتے، جس سے کیلشیئم کی سطح میں نمایاں کمی آتی ہے، کیلشیئم کی کمی ہڈیوں کی کمزوری کا باعث بنتی ہے۔ دانتوں کے مسائل اور ہڈیوں کے بھربھرے پن کا خطرہ بڑھتا ہے۔

مسلز اکڑنا

سوڈیم اور پوٹاشیم کا توازن برقرار رکھنا صحت کے لیے ضروری ہوتا ہے کیونکہ یہ عناصر مسلز کو کام کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ اگر یہ توازن نمک کے زیادہ استعمال سے بگڑ جائے تو پٹھے اکڑنے یا کھچنے کا تجربہ زیادہ ہونے لگتا ہے جبکہ مسلز میں تکلیف بھی ہوتی ہے۔

مسلسل سردرد رہنا

زیادہ مقدار میں نمک کے استعمال سے خون کا والیوم بھی بڑھاتا ہے جس کے نتیجے میں شریانوں میں خلاءبڑھتا ہے، ایسا ہونے پر ہائی بلڈ پریشر کا خطرہ بڑھتا ہے جبکہ ہر وقت شدید سردرد کی شکایت بھی ہوسکتی ہے۔

ذہنی مسائل

فشار خون کے نتیجے میں دماغ کی جانب جانے والی شریانوں کو نقصان پہنچتا ہے، جس کے باعث دماغ کی سوچنے کی صلاحیت متاثر ہوسکتی ہے اور روزمرہ کے کاموں کو کرنا مشکل ہوسکتا ہے۔ اسی طرح ڈی ہائیڈریشن ناقص یاداشت، تھکاوٹ اور ردعمل کو سست کرنے کا باعث بھی بنتی ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *