ھمارے گھر میں بھوت کا بسیرا ھے۔

اچھا ھمیں ھمارے بچپن کی دو یادیں آج بھی ھانٹ کرتی ھیں ۔ ایک بھوت اور ایک پریت ، یوں تو باتیں اور یادیں بےشمار ھیں ۔ لیکن اس کمبخت بھوت کے متعلق ھمیں پکا یقین تھا۔ یہ ھمارے گھر میں رھتا ھے۔ اور پریت یعنی ایک لڑکی کے متعلق بھی کچھ ایسا ھی یقین تھا کہ وہ ھمارے دل میں رھتی ھے۔ اگر تو یہ بھوت یعنی سایہ ھمارے گھر کے کسی کونے کھدرے میں پڑا رھتا یا چھت پر موجود مومٹی میں ھوتا تو شاید کچھ خیر ھوتی لیکن شومئی قسمت اس آسیب نے ھمارے گھر کی سیڑھیوں میں بسیرا کر رکھا تھا۔ سیڑھیاں جن سے ھم نے کئ بار دن میں اور پھر کئ بار رات گئے آنا جانا ھوتا۔ دن میں تو کسی طرح مینیج کر لیتے۔ سیڑھیوں کو پھلانگتے ، دو دو تین تین اسٹیپ جمپ لگاتے ، ھوا میں اڑتے، پیچھے دیکھے بغیر، پلک جھپکتے اتر جاتے چڑھ جاتے۔ جیسے موت پیچھا کر رھی ھو۔ اگر مڑ کر دیکھا تو پتھر کے ھو جائیں گے۔ لیکن رات کو ان سیڑھیوں سے گزرتے واقعتا موت پڑ جاتی۔ اندھیرا پڑنے پر ھماری اپنی ھمت اندھیرے میں ڈوب جاتی۔ تحت الشعور میں چھپا خوف چھلانگ لگا کر لاشعوری طور پر شعور کی سیڑھیاں طے کر لیتا۔ اور سیڑھیاں پھلانگ کر طے کرنے کی ھماری صلاحیت غیر شعوری طور پر دم توڑ جاتی۔ نفسیات کی دنیا میں شعور ، لاشعور اور تحت الشعور کا ایک بھوت کے ساتھ کیا تعلق ھے ھمیں اپنے بچپن میں ھی پتہ چل گیا تھا۔ بڑے ھو کر جب شیکسپیئر کا ھیملٹ پڑا تو معلوم ھوا۔ یہ ھیملٹ تو ھمارا ھی بھوت بھائ بروزن پیر بھائ تھا۔ اسے بھی اپنے گھر کی سیڑھیوں میں بھوت نظر آتا تھا۔ جبکہ اس کے دل میں اوفیلیا رھتی تھی۔ ھمیں یاد ھے۔ ان دنوں ھم سیٹی کی دھن پر بڑی اچھی دھن بجایا کرتے۔ دن میں یہ دھن طربیہ اور عاشقانہ ھوتی۔ ھماری اوفیلیا کا خیال تھا۔ اس کی پریت میں یہ مدھر سنگیت تخلیق ھوتے ھیں اور درد اور محبت کا دریا بہتا ھے۔ رات کو واپس گھر آتے تو سیٹی کی دھن گلوگیر ھو جاتی۔ درد گہرا ھو جاتا۔ محبت کی جگہ خوف کا دریا بہنے لگتا۔ رات کے سناتے میں دو میل دور سے ھی سیٹی کی یہ درد ناک کراھتی ھوئ دھن سنائ دینے لگتی۔ اوفیلیا سوئ ھوئ جاگ جاتی۔ اور بھوت جاگتے جاگتے مسکرانے لگتا۔ کمبخت جانتا تھا۔ دھن میں یہ درد ، یہ اداسی ، یہ سوگواری، یہ بےچارگی اور یہ کراھٹ کہاں سے آ رھی۔ جوں جوں گھر قریب آتا۔ قدموں میں لڑکھڑاھٹ آتی جاتی۔ سانسوں میں کھڑکھڑاھٹ آتی جاتی اور دھن میں ھڑ بڑاھٹ آتی جاتی۔ جونہی گھر کے دروازے پر پہنچتے۔ سیٹی کی دھن بگلے کے آخری گیت کی مانند ایک طویل المیہ تان میں ڈھل جاتی جیسے ٹیپ ریکارڈ میں ٹیپ پھنس گئ ھو۔ اور آخری ھچکی نکل رھی ھو۔ رنج و الم اور بے بسی و بے چارگی اس ھچکی کو تادیر ھوا میں معلق رکھتی ۔ اوفیلیا خوش ھوتی رھتی اور بھوت مسکراتا رھتا۔ لیکن ھمارا کوئ بھائ ھماری اس دم توڑتی المناک دھن میں چھپے پیغام کو سمجھ جاتا۔ وہ اوپر سے نیچے آتا ھم نیچے سے اوپر جاتے۔ اور عین سیڑھیوں کے درمیان اس نیم اندھیری گیلری میں ھماری ملاقات ھوتی۔ جو اس ناھنجار بھوت کا ٹھکانہ تھی۔ ھم ڈرے ڈرے سے ایک دوسرے کو دیکھ کر مسکراتے۔ نیم اندھیری گیلری میں سہمی سہمی ادھ کھلی آنکھوں سے ان دیکھے بھوت کو دیکھتے۔ جو کبھی نظر نہ ایا۔ اور اوپر جا کر پہلے مسکراتے اور پھر قہقہے لگانے لگتے۔
ھمیں نہیں معلوم یہ احساس ھمیں کب ھوا تھا۔ کہ ھمارے گھر میں بھوت رھتا ھے۔ یا آسیب کا سایہ ھے۔ یا کیا ھے۔ ھمیں اتنا معلوم تھا۔ جب ھم نے ھوش سنبھالی تھی۔ ھمیں معلوم ھو گیا تھا۔ یہ بھوت ھمارے گھر میں ھے۔ اور ھم نے اسی بھوت کے ساتھ اسی گھر میں باقی کی زندگی گزارنی ھے۔ سچی بات ھے۔ ھم نے کبھی اس آسیب کو نہیں دیکھا تھا۔ لیکن ھم اس سے ڈرتے تھے۔ اس سے خوفزدہ رھتے تھے۔ اور ڈر کے مارے اسے کبھی بھوت بھی نہیں کہتے تھے۔ کبھی بد روح یا افریت بھی نہیں کہتے تھے۔ اتنا خوف تھا۔ کہ احترام کرتے تھے۔ عزت اور محبت کرتے تھے۔ ھمیں وھم تھا یہ عظیم ھستی ھماری باتیں سنتی ھے۔ اور اتنی حساس ھے۔ کہ مذاق اور جگتیں بھی مائنڈ کر جاتی ھے۔ ھمارا مائنڈ سیٹ ھی کچھ ایسا بزدلانہ اور گھریلوآنہ بن گیا تھا۔ اوپر سے ھم نے کبھی اس بھوت صاحب کے آستانے پر یعنی سیڑھیوں میں بلب بھی نہیں لگایا تھا۔ جب کبھی بلب لگاتے۔ وہ جلد ھی فیوز ھو جاتا۔ اور ھمارا شک یقین میں بدل جاتا۔ یہ بھوت جی کا ھی کام ھے۔ ھمیں یقین تھا۔ بھوت کو روشنی پسند نہیں ۔ اندھیرے میں زندہ رھنا پسند کرتا ھے۔ کئ بار زیرو پاور کا بلب لگایا۔ لیکن ماحول رومان پرور ھونے کی بجائے بھوت پرور ھو گیا۔ کئ بار سوچا۔ اگر بتیاں جلا دوں ۔ لیکن یہ سوچ کر بعض رھا۔ بھوت صاحب کہیں پیری فقیری نہ شروع کر دیں ۔ یادش بخیر اوفیلیا کی کہیں اور شادی ھو گئ۔ اور وہ کئ عدد بچوں کے بعد مزید کئ عدد بچوں کی نانی دادی بن گئ۔ ھماری سیٹی کی دھن طربیہ سے المیہ ھوئ ۔ پھر المیہ سی فکاھیہ ھوئ اور اب فکاھیہ کے ساتھ ساتھ مزاقیہ ھو چکی ھے۔ یعنی مکمل بے سری و بے تالی ھو چکی ھے۔ البتہ سننے میں آتا ھے۔ ھمارے اس گھر میں ھمارے بچپن کے اس بھوت نے بچے دینے شروع کر دیے ھیں ۔ پیری فقیری شروع کر دی ھے۔ اگر بتیاں جلائ جاتی ھیں ۔ کافور کی خوشبو بھی آتی ھے۔ اور گھر کے مکین بھوت اور اس کے چیلوں سے پہلے سے زیادہ ڈرتے ھیں ۔ پہلے سے زیادہ عزت و احترام کرتے ھیں اور پہلے سے زیادہ محبت کرتے ھیں ۔ یہ کمبخت بھوت کا خوف ھی ایسا ھے۔ ایک بار تحت الشعور میں بیٹھ جاے تو نکلتا نہیں ۔ تحت الشعور سے لاشعوری طور پر شعور میں آتا ھے۔ اور غیر شعوری طور پر ڈراتا ھے۔ بندہ چاھے بچپن سے پچپن کا ھو جائے ۔ البتہ اوفیلیا کا خیال آخری عمر تک نرماھٹ، گرماھٹ اور سرسراھٹ دیتا ھے۔ بس بھوت اور پریت کی یہی کہانی ھے۔ ھماری اور آپ سب کی کہانی

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *