’آمر کے دور میں بھی کبھی سینیٹ رولنگ پر سوال نہیں اٹھایا گیا‘

اپوزیشن ارکان نے چیئرمین سینیٹ کی جانب سے وزیر اطلاعات فواد چوہدری کے سینیٹ میں داخلے پر پابندی سے متعلق رولنگ پر دیے گئے ردعمل پر تشویش کا اظہار کیا اور وزیر اطلاعات کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کردیا۔

پریزائیڈنگ افسر مولانا عطا الرحمٰن کی زیر صدارت سینیٹ کا اجلاس ہوا، جس میں مختلف امور پر بحث کی گئی اسی دوران سابق چیئرمین سینیٹ رضا ربانی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کل چیئرمین نے رولنگ دی جس پر رد عمل آیا، میں نہیں سمجھتا کہ وزیراعظم ایسی گفتگو کر سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ آمر کے دور میں بھی کبھی رولنگ پر سوال نہیں اٹھایا گیا تھا لیکن کل یہ کہا گیا کہ اگر سینیٹ یہ سمجھتی ہے کہ وزرا کے بغیر ایوان چلایا جائے تو کابینہ بھی دیکھے گی۔

سابق چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ ان ڈائریکٹ یہ کہا گیا کہ کابینہ سینیٹ کا بائیکاٹ کردے گی، کہا گیا کہ چیئرمین سینیٹ ان ڈائریکٹ الیکشن ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ کون کہہ سکتا ہے کہ یہ ہاؤس ان ڈائریکٹ منتخب ہوتا ہے ،انتخاب کا طریقہ کار آئین میں دیا گیا ہے، کسی کی یہ جرات نہیں ہوتی تھی کہ اسپیکر یا چیئرمین سینیٹ پر انگلی اٹھائے۔

رضا ربانی نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ 4 دنوں سے پیدا ہونے والی صورتحال سے اس ایوان کی دیواروں میں دراڑیں پڑنے لگی ہیں، اگر یہ عمارت گری تو ملبے سے کوئی نہیں نکل سکتا۔

پی پی رہنما نے سیاستدانوان کے خلاف کارروائیوں پر بھی تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے وفاقی احتساب کمیشن بنانے کی تجویز دی۔

رضا ربانی کا کہنا تھا کہ صرف سیاستدانوں کا احتساب نہیں چلے گا، انہوں نے حکومتی بینچوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کرپشن کی بات کرکے یہاں پہنچے ہیں۔

چیئرمین سینیٹ سے متعلق کابینہ میں بات نہیں ہوئی،وزیر مملکت

ایوان میں موجود وزیر مملکت علی محمد خان نے وزیراطلاعات فواد چوہدری کے گزشتہ روز دیے گئے بیان کی تردید کردی۔

انہوں نے کہا کہ چیئرمین سینیٹ سے متعلق کابینہ میں بات نہیں ہوئی،عمران خان نے واضح کیا کہ کابینہ منظور کردوں گا لیکن کابینہ میں کرپٹ شخص کو نہیں چھوڑوں گا۔

علی محمد خان نے کہا کہ دونوں ایوانوں میں اخلاقیات پر مبنی کمیٹی بنادیتے ہیں۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ کوئی پارلیمان میں دراڑ نہیں ڈال سکتا ،یہ ایوان اپنی جگہ پر رہیں گے۔

وزیر اطلاعات کے خلاف کارروائی کی جائے،مولا بخش چانڈیو

پاکستان پیپلزپارٹی کے سینیٹر مولا بخش چانڈیو نے کہا کہ وزیراطلاعات نے پریس کانفرنس میں وزیراعظم کا نام لے کر بات کی گئی۔

انہوں نے کہا کہ ایک بیان وزیراعظم کے نام سے منسوب کیا گیا، اگر وزیراعظم نے بیان نہیں دیا تو پھر وزیر اطلاعات کے خلاف کارروائی کی جائے۔

مولا بخش چانڈیو کا کہنا تھا کہ کابینہ کے رکن نے غلط بیانی کی۔

مسلم لیگ (ن) وزیر اطلاعات کی معافی کے مطالبے پر قائم

پاکستان مسلم لیگ(ن) کے رہنما مشاہداللہ خان نے کہا کہ وزیر اطلاعات پر پابندی صرف اس اجلاس کے لیے نہیں بلکہ آئندہ اجلاس میں آنے کے لیے انہیں معافی مانگنا پڑے گی۔

مشاہد اللہ خان نے کہا کہ وزیر اطلاعات معافی مانگنے تک ایوان میں نہیں آسکتے، ایوان میں آنے کے لیے انہیں معافی مانگنا ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ چیئرمین سینیٹ سے اس معاملے پر واضح بات چیت ہوئی ہے۔

خیال رہے کہ گزشتہ روز چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے فواد چوہدری سے معافی مانگنے سے متعلق رولنگ دی تھی جس میں معافی نہ مانگنے کی صورت میں وزیر اطلاعات پر پابندی عائد کرنے کا اعلان کیا گیا تھا۔

جس کے بعد وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے وزیراعظم عمران خان اور ارکان کابینہ نے سینیٹ چیئرمین صادق سنجرانی کی جانب سے معافی مانگنے سے متعلق ’رولنگ‘ پر عدم اطمینان کا اظہار کیا تھا۔

انہوں نے کہا تھا کہ کابینہ کے اجلاس میں وزیراعظم عمران خان نے واضح کیا کہ کسی کو حق نہیں پہنچتا کہ وفاقی وزیر کی بے عزتی کرے۔

حکومت آئی ایم ایف سے متعلق ایوان کو اعتماد میں لے، شیری رحمٰن

وزیر مملکت کی وضاحت پر پاکستان پیپلز پارٹی ( پی پی پی ) کی رہنما شیری رحمٰن نے کہا کہ کابینہ میں نہیں لیکن اس طرح کی دھمکی پریس کانفرنس میں دی گئی۔

دوران اجلاس شیری رحمٰن نے آئی ایم ایف سے مذاکرات سے متعلق پارلیمان کو اعتماد میں لینے کا مطالبہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ ایوان میں آئی یم ایف کی شرائط سے متعلق سوالات اٹھائے گئے، ہمیں نہیں بتایا جا رہا کہ آئی ایم ایف کی شرائط کیا ہیں۔

شیری رحمٰن کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف کی ٹیم پاکستان میں آئی ہوئی ہے،آئی ایم ایف ریگیولیٹری باڈیز میں جا رہی ہے، لوگوں سے مل رہی ہے تو کیا ارکان پارلیمنٹ کا حق نہیں کہ انہیں فیصلوں سے آگاہ کیا جائے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *