شریف خاندان کے سرکاری اخراجات نیب کو بھجوانے کا فیصلہ

اسلام آباد: حکومتِ پاکستان نے رائے ونڈ میں شریف خاندان کی رہائش گاہ اور سابق وزیرِ اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کے ہوائی سفری اخراجات کے کیس کو قومی احتساب بیورو (نیب) کو بھجوانے کا فیصلہ کرلیا۔

وفاقی دارالحکومت میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیرِ اعظم کے مشیر برائے میڈیا افتخار درانی کا کہنا تھا کہ اب تک ان کی حکومت وزیرِ اعظم ہاؤس کے اخراجات میں 11 کروڑ روپے کی کمی لاچکی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ وزیرِ اعظم ہاؤس کی گاڑیوں کے پیٹرول کا خرچہ 49 لاکھ روپے کم کیا گیا، جبکہ مجموعی طور پر حکومت نے 43 کروڑ روپے سے کم کرکے 27 کروڑ روپے تک پہنچادیا ہے۔

افتخار درانی نے بتایا کہ سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے 60 کروڑ روپے اپنے ہوائی سفر پر خرچ کیے اور رائے ونڈ کی سیکیورٹی پر 60 کروڑ روپے خرچ ہوئے۔

ان کا کہنا تھا کہ حکمران بہت بے دردی کے ساتھ سرکاری پیسہ استعمال کرتے رہے اور اختیارات کا ناجائز استعمال کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ مریم نواز نے بھی 3 کروڑ روپے کے اخراجات سے سرکاری طیارے کا استعمال کیا تھا۔

وزیرِ اعظم کے مشیر برائے میڈیا تاہم مزید بتایا کہ ان معاملات کے کیسز نیب کو بھجوائے جارہے ہیں۔

وزیرِ اعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر نے کہا ہے کہ شریف خاندان کے اخراجات پر نیب ریفرنس دائر کرے، تمام ثبوت فراہم کیے جائیں گے۔

انہوں نے انکشاف کیا کہ وزیرِ اعلیٰ پنجاب ہاؤس میں بڑی تعداد میں بھاری رقوم کے تحفے تحائف دیے گئے۔

شہزاد اکبر نے اعداد و شمار بتاتے ہوئے کہا 14-2013 کے دوران تحائف کے بجٹ میں218 فیصد اضافہ ہوا، 15-2014 میں یہ اضافہ 135 فیصد تھا، 16-2015 میں 193 فیصد اضافہ ہوا اور 17-2016 میں تحائف اور انٹرٹینمنٹ کی مد میں 256 فیصد رقوم ادا کی گئیں۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ وہ تمام بجٹ ہے جنہیں اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے دیا گیا اور اب حکام کو دیکھنا ہوگا کہ وہ کیا تحائف ہیں جو اس دوران دیے گئے۔

وزیرِ اعظم کے معاون خصوصی کا کہنا تھا کہ نیب کو قومی احتساب آرڈیننس کے تحت ان اخراجات سے متعلق کارروائی کرنی ہے۔

ذرائع ابلاغ میں جاری خبروں کا حوالہ دیتے ہوئے شہزاد اکبر نے بتایا کہ شریف خاندان کی لندن میں ایک اور جائیداد کا انکشاف ہوا ہے، اور اس معاملے کو دیکھا جارہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ سینٹرل لندن میں موجود شریف خاندان کی جائیداد مرحومہ بیگم کلثوم نواز کے نام پر تھیں جنہیں چھپایا گیا اور یہ نواز شریف کی ذمہ داری تھی کہ وہ ان اثاثوں کو ظاہر کرتے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *