پاکستان معاشرے پر ضیا کے انمٹ نقوش

میری عمر میں بہت کم چیزیں مجھے حد سے زیادہ حیران کر سکتی ہیں۔ پچھلے کئی سالوں سے میں نے بہت سی خطرناک چیزیں دیکھی ہیں جن  کی بدولت میں  اس قدر مضبوط ہو چکا ہوں کہ عام  طور پر پیش آنے والے خوفناک معاملات میں  گھبراتا نہیں ہوں۔

لیکن حال ہی میں سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والے  ایک مختصر ویڈیو کلپ نے مجھے ورطہ حیرت میں ڈال دیا۔ اس مختصر فلم میں 7 یا 8 سال کے چند بچے دکھائے گئے جو ایک گڑیا کو لٹکائے ہوئے  چلا رہے ہیں کہ ''آسیہ بی بی کو پھانسی دے دی گئی''۔ ویڈیو کے اختتام پر  بچے کھللکھلاتے ہوئے ''لبیک'' کا نعرہ لگانے لگتے ہیں۔

مجھے اس حقیقت کا نہیں پتہ کہ ان لڑکوں  کو کیمرہ کے لیے یہ زبردست مذاق پیش کرنے کے لیے والدین نے سکھایا یا انہیں اس بات کا خود خیال آیا۔ جو بھی معاملہ ہو، یہ ویڈیو ایک یاد دہانی کروا رہی ہے، کہ ہم ایک معاشر ے کی حیثیت سے  کس حد تک  گر چکے  ہیں ۔ بہت سی افسوسناک چیزوں میں سے جو ہم نے پاکستانی بچوں کے ساتھ کی ہیں،  ایک یہ ہے کہ  ہم نے ان کی بھر پور برین واشنگ کی ہے۔

سولہویں صدی کے یہودی معاشرے یا جیسوٹس، جس نام سے باغی کیتھولک گروہ کو پکارا جاتا تھا، کے، اگناٹیوس لیولا نے دعویٰ کیا تھا کہ: ''پہلے سات سال کے لیے بچہ مجھے دیں اور میں آپ کو ایک مرد دوں گا۔''

اس اصول پر چلتے ہوئے جنرل ضیا نے اپنی فوجی حکومت کے دوران سکول کے نصاب کو عربی اور مذہبی موضوعات سے بھر دیا۔   ان کے بہت سے ساتھیوں نے  مذہبی پارٹیوں کے قیام کے ذریعے بچوں کو اس تباہ کن راستہ کی طرف دھکیلنے کا عمل جاری رکھا۔

مسئلہ صرف یہ نہیں ہے کہ ہمارا نصاب معیاری تعلیم سے خالی ہے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ ہمارے سکول بھی تعلیم دینے کی مکمل قابلیت نہیں رکھتے۔ کسی بھی دن ہر پانچ اساتذہ میں سے ایک کلاس روم میں نہیں ہوتا، 65 فیصد سکولوں کی چار دیواری نہیں ہے، 55 فیصد سکول خستہ حال علاقوں میں واقع ہیں جن میں سے اکثر غیر محفوظ طریقے سے تعمیر کیے گئے ہیں، 55 فیصد سکولوں کے ٹائیلٹ نہیں ہیں، جو کہ لڑکیوں کی پڑھنے کی خواہش کے راستے میں رکاوٹ ہے، اور 64 فیصد سکولوں میں پانی نہیں ہے۔

اور یہ  حالات اس ملک کے ہیں جہاں 23 ملین بچے اور 44 فیصد سکول کی عمر کی آبادی سکول سے باہر ہے۔ تو جب پاکستانی لیڈر بڑے فخر سے ہماری محرک نوجوان نسل کے بارے میں ڈینگیں مارتے ہیں جیسا کہ عمران خان نے حال ہی میں شنگائی میں ماریں، وہ یہ ذکر کرنا بھول جاتے ہیں کہ  اس نوجوان طبقہ میں ایک بڑی تعداد تعلیم سے محروم ہے۔

ملک بھر میں کام کرنے والے اور بھیک مانگنے والے بچوں کے علاوہ اندازا 3.5 ملین بچے مدرسوں میں داخل ہو جاتے ہیں۔ یہاں وہ دقیانوسی خطاطی سیکھتے ہیں لیکن  انہیں صبر اور تحمل اور برداشت جس کا سبق ہر مذہب دیتا ہے وہ ان مدرسوں میں نہیں سکھایا جاتا۔  انہیں مدرسہ سے  گریجویشن  پر کون نوکری دے گا   اور ان کی قابلیت ہی کیا ہے جس کی وجہ سے انہیں بھرتی کیا جائے؟

ان گھناؤنے حقائق کے ساتھ پاکستانی بچوں کی اکثریت کے لیے نا مناسب خوراک اور آلودہ پانی  کے مسئلہ کو بھی شامل کر لیں تو آپ کو اس غیر ذمہ داری کی تصویر نظر آنا شروع ہو گی جس کا ہم نے ارتکاب کیا ہے۔ ہمارے لیڈر کہتے رہتے ہیں  کہ وہ چائنہ سے سیکھنا چاہتے ہیں۔ اچھا، تو پہلا سبق یہ ہے کہ 1990 تک اس کی تنزلی کے باوجود ملک کی کمیونسٹ پارٹی نے تعلیم اور صحت پر  خاص توجہ دی۔ نتیجتا اس کے پاس تعلیم یافتہ اور صحت مند ورک فورس ہے۔ دوسری طرف ہم نے اپنے بچوں کو ناکامی کی طرف دھکیلنے کا عمل باقاعدگی سے جاری رکھا ہوا ہے۔

سیاست دان یہ دعویٰ کرنا پسند کرتے ہیں کہ نوجوان لوگ ایک ورثہ ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ  جب تک وہ پڑھ لکھ نہیں سکتے وہ  ایک بوجھ ہیں ۔ اس ہائی ٹیک  مشینری اور پھیلی ہوئی سپلائی چین کے دور میں،ہدایات کو  نہ پڑھ سکنا ایک بڑی ناکامی ہے۔

لیکن سماجی اور سیاسی طور پر ہم نے اپنے بچوں کے ساتھ جو سب سے بڑا ظلم کیا ہے وہ یہ ہے کہ معاشرے کے گمراہ ترین لوگوں کو تعلیم  کا کنٹرول دے دیا ہے۔ آسیہ بی بی کے فیصلے کے خلاف ملک بھر کے شہروں میں حالیہ تشدد کے واقعات میں شرکت کرنے والے یہ لوگ  روزگار کی اہمیت سے ناواقف تھے اور ورنہ روز مرہ کے کاموں سے رو بروز سڑکوں کے پر تشدد احتجاجوں کے لیے کون وقت نکال سکتا ہے؟

چند سال قبل ہیرالڈ نے نوجوان مردوں اور عورتوں کے بدلتے ہوئے سماجی اور مذہبی رویوں کے بارے میں ایک پول کا نتیجہ شائع کیا۔ زیادہ اکثریت نے مذہبی رویوں اور سزاؤں کے سب سے دقیانوسی طریقے کی حمایت کی۔  اب ضیا کے بہت سے روحانی بچے والدین بن چکے ہیں اور ان کے بچے ان کی اقدار کو جذب کر رہے ہیں۔

واضح طور پر نظر آتا ہے کہ  اگناٹیوس لیولا کے اصول کو  ہمارے مذہبی علما نے خود بھی سیکھا اسے اپنا بھی لیا۔  تعلیم کو نوجوانوں کے برین واش کے لیے استعمال کی اہمیت کو دیکھتے ہوئے ان لوگوں نے تعلیمی نصاب میں کسی بھی قسم کی تبدیلی کی مزاحمت جاری رکھی  تا کہ معاشرہ جدت کے راستے پر گامزن نہ ہو سکے۔ بارہا سیاست دانوں اور جرنیلوں کو دباو کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پڑے۔

تو جب عمران خان اور ان کی معاشی ٹیم برآمدات بڑھانے  کی بات کرتےاور ملائشیا اور چائنہ کی مثالی کامیابی کی مثالیں دیتے ہیں تو وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ  ان دونوں ممالک کی  شرح خواندگی ہم سے کہیں آگے ہے۔ اگر بنگلہ دیش اپنی تعلیمی شرح 72 فیصد تک لا سکتا ہے تو ہمیں خود سے سوال کرنے کی ضرورت ہے کہ ہم کیوں ہمارے بچوں کو تعلیم دینے میں ناکام ہیں۔

حتی کہ جو بچے سکول جاتے ہیں وہ غیر معیاری تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ بلا شبہ بد قسمتی یہ ہے کہ اتنی زیادہ بے روزگاری کے شکار ملک میں آئی ٹی سیکٹر جیسے اعلی شعبہ میں ملازمتوں کے لیے قابل افراد کو ڈھونڈنا مشکل ہے۔ لیکن اس کے باوجود غنڈوں کو سڑکوں پر لانا سب سے آسان کام بن چکا ہے۔ مطلب یہ ہوا کہ ضیا ہی فاتح ٹھہرا ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *