بھنگڑا نائٹ

پانچ دریاوں کی سر زمین ہماری جنم بھومی ہے اورپنجابی زبان سے محبت گھٹی میں پڑی ہے لہذا اس کے کلچر اس کی تہذیب سے محبت فطری امر ہے اور اظہار کا موقع ہم جانے نہیں دیتے۔ ایسا ہی موقع ہمیں لاہور والوں نے فراہم کر دیا۔ پنجابی ثقافت کی ترویج و اشاعت کے لیے کام کرنے والے ایک ادارے کی طرف سے بھنگڑا نائٹ میں شرکت کا دعوت نامہ موصول ہوا۔ شہر بھر میں جگہ جگہ لگی فلیکسز نے ہمارا دماغ پوری طرح سے خراب کر دیا۔ ہم تو جیسے پہلے ہی تیار بیٹھے تھے۔ تمام مصروفیات ترک کیں اور 5 بجے ہال میں اپنی حاضری یقینی بنائی۔
چونکہ ہمیں لائم لائٹ میں رہنے کا خبط ہے تو وقت پر پہنچنے کی اصل وجہ صرف ایک تھی کہ ہمیں اگلی قطاروں میں تشریف کا ٹوکرا رکھنا تھا ورنہ پابندئ وقت کو ہم نے کبھی ملحوظ خاطر نہیں رکھا اور ایسا ہم اپنے تجربے کی بنیاد پر کرتے ہیں۔ ایک بار تو حد ہی ہو گئی ہمیں ایک ادبی تقریب میں شرکت کے لیے 3 بجے بعد از دوپہر بلایا گیا۔ ہم بھی خراماں خراماں بروقت قدم رنجا ہوئے لیکن یہ کیا کہ ہال میں تو تقریب کا نام و نشان بھی نہ تھا۔ ایک لڑکا تھا جو ہال کی صفائی کر رہا تھا۔ ہمیں شک ہوا کہ ہم غلط جگہ آ گئے لیکن تصدیق کے بعد شک رفع ہو گیا اور ہم نے اپنی مرضی کی نشست سنبھال لی۔ اب ہم تھے اور انتظار بے حساب۔ فیس بک کا استعمال بھی کام نہ آیا اور موبائل فون کی بیٹری نے جواب دے دیا۔ بہرحال تقریب کے آغاز کا لمحہ بھی آن پہنچا۔ 5 بجے مہمان آئے اور ہمیں اپنا مضمون پڑھنے کی سعادت نصیب ہوئی لیکن اس کے ساتھ ہی سنڈریلا کی طرح ہماری آزادی کا وقت ختم ہو گیا گھڑیال نے گھنٹہ بجایا اور ہمیں واپس گھر کے لیے نکلنا پڑا۔ یعنی کہ ہمیں پروگرام میں شرکت کے لیے نہیں بلایا گیا تھا بلکہ ہمارے مزاج میں مستقل مزاجی اور ثابت قدمی کے اعلا ترین اوصاف پیدا کرنے کے لیے اس عمل سے گزارا گیا۔ اور ہم بھی ایسے ڈھیٹ واقع ہوئے ہیں کہ آج بھی ہر تقریب میں بروقت پہنچتے ہیں لیکن اس کا مقصد صرف اگلی نشستوں کا حصول ہے تاکہ کیمرے کی آنکھ ہمیں محفوظ کر لے اور اگلے دن کے اخبارات کی زینت بن سکیں۔ سو اپنے سابقہ ریکارڈ کو برقرار رکھتے ہوئے ہم بھنگڑا نائٹ میں وقت پر موجود تھے۔ پُرجوش ہونے کی ایک بڑی وجہ یہ بھی تھی کہ جن 2 فن کاروں کا نام دعوت نامہ پر درج تھا ان سے تو ہم متعارف نہیں تھے لیکن اس کے ساتھ ساتھ ملکو اور ابرار الحق جیسے بڑے گلوکاروں کے نام نے ہمیں دیوانہ بنا رکھا تھا اور ارادہ تھا کہ ہم ان کے ساتھ کسی نہ کسی طرح سیلفی بنانے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ پھر دوستوں میں ہمارے رسوخ کی خوب دھوم مچے گی۔
تقریب کا آغاز ہوتے ہی ایک ماڈل نے توجہ کھینچ لی۔ اس کے لباس فاخرہ سے تو ہم متاثر ہوئے ہوئے جاتے تھے لیکن جب اس نے آئے ہوئے حاضرین و ناظرین و سامعین کو نشستیں چھوڑنے کا کہا تو بے توقیری کا احساس ہونے لگا اور دل چاہا کہ بلند و بانگ لہجے میں یہ پکارنے لگیں کہ بی بی ہم ہی تو وہ ہیں جن کی وجہ سے آپ تقریب کی کامیابی کے بعد ہال کے کھچا کھچ بھرے ہونے کے اعلان کرتی پھریں گی۔ خیر جی ایسی باتوں کو ہم قابل اعتنا ہرگز نہیں سمجھتے کہ بڑے بڑے شہروں میں ایسی چھوٹی چھوٹی باتیں ہوتی رہتی ہیں۔ نشستیں لوگوں کو نہ چھوڑنی تھی سو کسی ایک فرد نے بھی بار بار کی اناونسمنٹ پر تھوڑا سا بھی غور نہیں فرمایا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ان ماڈل صاحبہ کی والدہ، بہنوں، سہیلیوں اور ان کے چھوٹے چھوٹے بچوں کے لیے سٹیج پر ہی کرسیاں ڈال دی گئیں۔ اب جو تقریب میں جتنی دیر سے آئے گا اتنا ہی اعلا مقام پائے گا۔ وہ پنجابی میں کہتے ہیں ناں کہ "سانوں کی" تو اسی کہاوت کے مصداق ہمارا فوکس بھی بھنگڑے پہ تھا۔
تقریب کا آغاز ہوا۔۔۔ فن کار آتے گئے اور سٹیج پر سولو پرفارمنس دینے لگے۔ ہم تو بھنگڑے کا مطلب کچھ اور ہی لیے ہوئے تھے۔ اکتاہٹ اس وقت اپنے عروج پر پہنچ گئی جب سٹیج پر آنے والا ہر فن کار پہلے تو درجن بھر شخصیات کے نام گنواتا جن میں ایک آدھ نام تو اس کے کسی استاد کا ہوتا اور باقی سب ان پروموٹرز کی فہرست ہوتی جنھوں نے اسے پروموٹ کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ اور اس کے بعد ان تمام حاضرین، ناظرین اور سامعین سے پُرزور اپیل کی جاتی کہ وہ اپنی تالیوں کی گونج میں ان کا شکریہ ادا کریں۔ ہمیں تو خود پہ شک ہونے لگا کہ ہم ان فن کاروں کے فن سے محظوظ ہونے آئے ہیں یا ان کے درجن بھر پروموٹرز کا شکریہ ادا کرنے اور اندھا دھند تالیاں بجانے۔ زندگی میں ایسے لمحے آتے ہیں جو آپ کو بچپن کی کسی ایسی یاد کی طرف لے جاتے ہیں جو ذہن کی سکرین سے محو ہو چکی ہو۔ وہی ہوا شکریہ ادا کرنے کی اس رسم سے ہمیں اپنے محلے کے وہ مولوی صاحب یاد آ گئے جو باقاعدگی سے گیارہویں کے ختم کے کے لیے عصر کی اذان کے بعد مائیک سنبھال لیتے تھے اور لوگوں کے گھروں سے آنے والی نقدی پر ان کے سربراہان کا نام لے لے کر ان کے مشکور ہوتے تھے اور انھیں برکت اور صحت کی دعائیں دی جاتی تھیں۔ یہ سلسلہ عصر سے مغرب تک جاری رہتا تھا۔ اس وقت یہ عجیب لگتا تھا کہ یہ اتنا چیخ چیخ کر ان لوگوں کا شکریہ ادا کیوں کر رہے ہیں اور آج بھی اسی قسم کی صورت حال کا سامنا شام 6 بجے سے رات 9 بجے تک رہا۔
ساری زندگی اہل خانہ نے ہمیں آبگینے کی طرح سنبھال کر رکھااور ہمیشہ ہمارے سوالوں اور خیالات پر پہرے لگاتے رہے۔ یاد پڑتا ہے کہ ان سے ایک بار پوچھا تھا کہ سٹیج ڈراموں میں خواتین کیوں نہیں جا سکتیں تو گھر بھر میں سے کوئی بھی ایسا نہیں تھا جو ہمارے سوال کا جواب دیتا۔۔۔ اب جو ایک فن کارہ کی ایک پنجابی گانے پر کارکردگی ملاحظہ فرمائی تو اس وقت پہ افسوس ہونے لگا جب ہم اپنے سوال کے جواب کے لیے بے تاب ہوا کرتے تھے
یہاں تک تو ٹھیک تھا لیکن یہ سب کچھ ہم صرف اس لیے برداشت کر رہے تھے کہ ہمیں ابرارالحق اور ملکو کے ساتھ سیلفی لے کر دوستوں میں "شو" مارنی تھی۔۔۔۔ پر۔۔۔۔ یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ ہماری سیلفی بنتی۔۔۔۔ اب کیا کہیں اس اناونسر کو جو پروگرام کے آخری پندرہ منٹ تک ہمیں یقین دلاتا رہا کہ بس لمحوں میں ابرار الحق تقریب میں پہنچنے والے ہیں۔ لمحوں سے مراد ہمارے نزدیک تو یہ ہی ہے کہ شاید ان کی گاڑی باہر پارکنگ میں پہنچ چکی ہے۔ ہو سکتا ہے ابرارالحق کی بھنگڑا نائٹ میں روحانی اینٹری ہوئی ہو۔ ہم اس میدان میں ذرا پیچھے ہیں تو ہم ان کا دیدار کرنے سے قاصر رہے۔ لیکن بھنگڑے کے نام پہ جو کچھ ہم نے دیکھا اب ایک عرصے تک ایسی کوئی خواہش سر نہیں اٹھائے گی۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *