سکھوں سے دوستی اور دشمنی کی داستان ہوش ربا!

اگرچہ یہ ایک کتاب کا موضوع ہے ، مگر عدم فرصت ہمیں صرف اہم حقائق  کے بیان تک ہی محدود رکھےگی۔
سکھ مذہب نے بھگتی کی تحریک سے جنم لیا۔بھگتی کی تحریک کیا ہے ؟ کسی لمبے چوڑے فلسفے میں پڑے بغیر وہ یہ ہے کہ آپ جس بھی مذہب پر ہو ، وہ ٹھیک ہے، بس زندگی اس اصول کے تحت گزاریں :
جلے تو جل[پانی] ہو ، اڑے تو ٹل ہو
گالی سن بہرا ہو ، اگر کچھ گہرا ہو
 گرو نانک  (  1469 –  1539) کو آپ اپنے دور کا مہاتما بدھ کہہ لیں ۔اس فرق کے ساتھ کہ وہ کسی بادشاہ کے بجائے ایک غریب ہندو کسان کے بیٹے تھے۔ ایک چھوٹی سی ملازمت کے دوران میں دل دکھا تو بس دنیا چھوڑ کر دنیا دیکھنے نکل پڑے۔ بھگتی دانشوروں اور مسلمان صوفیاء سے بہت متاثر ہوئے ۔ صلح کل ، سب سے محبت کرنے والے اور دنیا داری سے بےرغبتی رکھنے والے یہ انتہائی شریف لوگ جی دار سپاہی ، قابل ترین فوجی جرنیل اور خون کے پیاسے منتقم مزاج کیسے بنے ؟ یہ سوال ہمیں گرو ارجن (1563 –  1606)کے دور میں لےجاتا ہے۔ وہ  سکھ مت کے پانچویں گرو ہیں ۔اپنے علاقے میں مسلم صوفیاء کے طرح اپنی سوچ کے مطابق ایک ڈیرہ بنائے بیٹھے تھے کہ جہانگیر کے بگڑے  بیٹے  شہزادہ خسرو نے اپنے باپ کے خلاف بغاوت کردی ۔خسرو شکست کھاکر بھاگا تو جان بچانے کی غرض سے گرو ارجن کے ڈیرے میں آگیا اور پناہ دینے کی درخواست کی ۔ امن کے اس پرچارک کے لیے پناہ دینے کے سوا کوئی چارہ نہ تھا۔ بس یہی ان سے بھول ہوئی کے بادشاہ کے باغی کو پناہ کیوں دی ۔  شراب میں افیم گھوٹ گھوٹ کر نشے کو دوبالا کرنے والے عیاش جہانگیرنے انھیں گرفتار کر لیا۔اصل میں وہ پہلے ہی شیخ احمد سرہندی المعروف بہ مجدد الف ثانی کے زیر اثر آچکا تھا ۔شیخ صاحب سکھ مذہب اور گرو ارجن کی مقبولیت سے سخت بے زار تھے۔ اس  کی نطریاتی وجہ بھی ہو سکتی  ہے ۔ شیخ صاحب وحدت الوجود  کے بجائے وحدت الشہود کے قائل تھے جبکہ گورو نانک ان مسلمان صوفیاء سے نظریاتی قربت رکھتے تھے جو وحدت الوجود کو اصل توحید سمجھتے تھے۔اس لیےشیخ احمد سرہندی نے اپنے ایک مکتوب میں اس بات پر خوشی کا اظہار کیا ہے کہ جہانگیر نے ایک" کافر ارجن سنگھ " کے خلاف کارروائی کی ہے۔ یوں جہانگیر نے گرو ارجن کو شہید کرکے سکھ مسلم دوستی کے بجائے دشمنی کی پہلی بنیاد رکھی۔ یاد رہے کہ کرتار پور کا موجودہ قصبہ جہاں گرو نانک کی وفات ہوئی ، اسی گرو ارجن نے آباد کیا تھا۔ اتنی اہم  مقبول شخصیت کا  قتل سیاسی لحاظ سے جہانگیر کی دوسری بڑی غلطی تھی ۔ پہلی غلطی اس نے ایسٹ انڈیا کمپنی کو ہندستان میں تجارت کی اجازت دے کر کی ۔ اورانھی انگریزوں نے بعد میں ان سے ان کا ملک چھین لیا۔ اور جو سکھ ان کے بہٹ بڑے سیاسی حلیف بن سکتے تھے،وہ ان کے دشمن بننے کی راہ پر  چل نکلے۔ اس کے بعد ہی سکھ لیڈر یہ فیصلہ کرنے پر مجبور ہو گئے کہ سیاسی اور فوجی طاقت حاصل کیے بغیر وہ اپنے پر امن مذہب پر بھی قائم نہیں رہ سکتے ۔
شاید وقت ان کا یہ زخم بھر دیتا لیکن جہانگیر کے پوتے شاہنشاہ اورنگزیب عالمگیر نے ایک اور ظلم کمایا ۔ موصوف کو آپ اپنے وقت کا ضیاء الحق کہہ سکتے ہیں ۔ انھوں نے سکھوں کے نویں گرو تیغ بہادر (1621۔1675) کا دہلی کے چاندنی چوک میں سرعام سر قلم کرایا۔ اس سے پہلے ان کے تین ساتھیوں کو اذیتیں دے دے کر قتل کیا گیا۔ جس کی لرزہ خیز  تفصیل کے مطابق  متی داس کو آرے سے ٹکڑے ٹکڑے کیآ گیا،دیال داس کو ابلتے پانی کے کڑھاۓ میں ڈال کر قتل کیا گیا اور بھائی ستی داس کو زندہ جلا دیا ۔ اور یہ سب کچھ  گروتیغ بہادر کے سامنے کیا گیا۔ لیکن نہ انھوں نے اپنا مذہب چھوڑا اور نہ مغل شاہنشاہ کی اطاعت قبول کی۔ آپ اس اقدام کی لاکھ تاویل کریں لیکن اس نے سکھ مسلم دشمنی کی انتہائی مضبوط بنیادیں فراہم کیں۔ آپ کی دلچسپی کی خاطر ہم بتاتے چلیں کہ کرتار پور کے اسی گرودوارے میں ان تمام مظلوم سکھ بزرگوں کی باقیات کو رکھنے کی روایت ہے جس کا ابھی چرچا ہے اور جہاں سکھوں کے ساتھ مسلم دوستی کی نئ داستان رقم ہونے جارہی ہے ۔
خیر آپ جاننا چاہیں گے کہ اورنگزیب عالمگیر نے  یہ انتہائی ظالمانہ اقدام کیوں کیا گیا؟ اس کی وجہ خالص سیاسی تھی کیونکہ تیغ بہادر  باغی کشمیری پنڈتوں کی حمایت کر بیٹھے تھے اور باغیوں کی حمایت بغاوت ہی سمجھیں جاتی تھی۔ لیکن مذہبیحمایت حاصل کرنے کے لیے کہا گیا کہ ان کو اسلام کے خلاف بولنے اور جزیہ نہ دینے کی وجہ سے قتل کیا گیا۔  اور مزید یہ کہ ان کو پہلے اسلام  کی دعوت دی گئی تھی مگر انھوں  نے انکار کیا اور انجام کو پہنچے۔
دشمنی کی اس داستان کو مہاراجہ رنجیت سنگھ (1780-1839)نے بھی چار چاند لگائےلیکن وقت پھر ان زخموں کو بھرنے کو تیار ہوا جب  ہندستان کی تقسیم کا وقت آیا  او ر پاکستان بنا۔ صوبہ پنجاب کے ایک حصے میں مسلمان اکثریت میں تھے اور ایک حصے میں سکھ۔ اس وقت اگر سکھ مسلمانوں کے ساتھ اتحاد کر تے تو پورا پنجاب پاکستان کا حصہ ہوتا۔ یعنی دہلی سمیت پورا پنجاب! اور دوسری صورت میں اس کا بٹوارا نا گزیر تھا۔ قاید اعظم کی خواہش تھی کہ ایسا نہ ہو اور پورا پنجاب پاکستان کا حصہ بنے۔ اسی لیے انھوں نے سکھ قیادت کو یہ پیش کش کی :
سکھ پاکستان کے برابر کے شہری ہوں گے۔
ان کو پنجاب اسمبلی میں تیس اور مرکز میں بیس فیصد نشستیں ملیں گی۔
پنجاب کا گورنر یا وزیراعلی ہمیشہ سکھ ہوگا۔
فوج میں ان کی تعداد چالیس فیصد اور ہائی کمان میں بھی یہی تناسب برقرار رکھا جائے گا۔
دستور میں تبدیلی ان کی اکثریت رائے سے کی جانے گی۔
اس سے قبل کہ قایداعظم سکھ اکالی لیڈر  ماسٹر تارا  سنگھ کو اس معاہدے پر منوا لیتے ، ایک خوفناک واقع بلکہ واقعات رونما ہو گئے۔( جاری ہے )

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *