محدود ہوتی ہوئی آزادی

" ایمان زینب "

آزادی اظہار رائے کے حق کو یونیورسل ڈکلیریشن آف ہیومن رائٹس، اور انٹرنیشنل کوواننٹ آن سول اینڈ پولیٹیکل رائٹس میں شامل کرتے ہوئے اسے یوں بیان کیا گیا ہے : ''مداخلت کے بغیر آزادی رائے کا اظہار کرنا،  اور فرنٹیر کا خیال کیے بغیر ہر طرح کی معلومات اور نظریات  رکھنا'' معاشرے کے لیے آزادی اظہار رائے کس قدر لازم ہے؟ ہیومن رائٹس کمیٹی نے اپنے کمنٹ  نمبر 34 میں  اس سوال کا جواب دیتے ہوئے  لکھا ہے کہ  انسان کی زاتی  ترقی  کے لیے  اظہار رائے اور آزادی رائے کا موجود ہونا بہت ضروری ہے۔ اصل میں، کمیٹی کے مطابق اظہار کی آزادی ''شفافیت اور احتساب کے اصولوں کو سمجھنے کے لیے ضروری شرط ہے'' جو کہ ''انسانی حقوق کی ترقی اور حفاظت کے لیے لازم ہیں۔''

شفافیت اور احتساب کے مابین تعلق ایک طرف ہے اور اظہار کی آزادی دوسری طرف، جب ہم صرف پاکستان میں ہی نہیں بلکہ پوری دنیا میں صحافیوں پر حملوں پر نظر ڈالتے ہیں تو اس کی زیادہ سمجھ آتی ہے۔ اکتوبر 2017 میں صحافی ڈیفنی گزیلیا کو بدنیجا، مالٹا میں گاڑی  میں بم سے اڑا دیا گیا۔ گزیلیا اپنی حکومت  کی کرپشن اور غیر قانونی سرگرمیوں پر کھل کر تنقید کرتی تھیں ۔ ایک اور تحقیقاتی صحافی جس کے ساتھ ایسا ہی واقعہ پیش آیا جان کوکیک تھا جس کو ویلکا ماکا، سلوویکیا میں اپنے  ملک میں سیاسی بدعنوانی پر رپورٹ دینے کے بعد گولی مار دی گئی۔ تازہ ترین صحافی جسے ایسے ہی بلکہ اس سے بھی برے واقعہ کا سامنا کرنا پڑا وہ جمال خشوگی تھا۔

خوفناک  حقیقت یہ ہے کہ دنیا کے کسی بھی کونے میں کسی صحافی پر ایک حملہ جس کی سزا نہ دی جائے ایسے حملوں کے لیے  راستہ کھولنے کی ایک علامت ثابت ہوتا ہے ۔ اس سے دوسرے ممالک کے طاقتور لوگوں کو بھی یہ سبق ملتا ہے کہ وہ ناانصافی کے خلاف  اٹھانے والی تنقیدی آوازوں کو اسی طرح خاموش کر دیں۔  خشوگی کا جو ظالمانہ قتل ہوا پوری دنیا کے مخالفین کو یہ پیغام دیتا ہے کہ بے شک وہ اس علاقے میں نہ رہتے ہوں جس کی حکومت کے خلاف وہ بات کرتے ہیں، جسمانی دوری اب حفاظت کی ضمانت نہیں ہے۔ یہ ایک  خوفناک صورتحال کی علامت ہے اور ہر یونین اور دنیا کی ہر حکومت کو صحافیوں کی حفاظت کے لیے قدم اٹھانا چاہیے۔

لائق توجہ بات یہ  ہے کہ خشوگی واقعہ پہلا واقعہ نہیں تھا جس میں سعودی عرب   نے غیر ملکی زمین پر اپنے مخالفین کے خلاف طاقت استعمال کر کے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کی ہو ۔یہ واقعہ  1979 میں ناصر السید کے بیروت سے غائب ہونے کی اور 2003 میں جنیوا سے پرنس سلطان بن ترکی کے اغوا  کی یاد تازہ کرتا ہے۔ یہ ملک سے باہر سعودی عرب کا نشانہ بننے والوں کی لمبی  فہرست  میں سے صرف دو  مثالیں ہیں۔ سعودی عرب کے خشوگی کے ظالمانہ قتل کی وجہ یہ تھی کہ وہ جانتے تھے کہ وہ اپنے اعمال  پر احتساب سے بچ کر نکل سکتے تھے جیسے انہوں نے ماضی میں کیا۔یہ  بے احتسابی کا وہ کلچر ہے جو نہ صرف ظالمانہ حکومتوں کے لیے تنقیدی آوازوں کو خاموش کرنے کی اجازت ہی نہیں حوصلہ افزائی بھی کرتا ہے ۔

لیکن ان قاتل حکومتوں  کا احتساب کون کرے گا؟ آزادی اور جمہوریت کے محافظ ظالمانہ حکومتوں کو ہتھیار بیچنے میں انتہائی مصروف ہیں اور اپنی پالیسیوں کے خلاف آوازوں کو خاموش کرنے کے لیے  اوور ٹائم لگا رہے ہیں ۔آزادی اور انصاف کا خود ساختہ ٹھیکیدار امریکہ  خود نہ صرف جولین اسانج کو خاموش کرنے کے درپے ہے بلکہ ہر اس صحافی کو خاموش کر دینا چاہتا ہے جو  صدر ٹرمپ سے کوئی تنقیدی سوال پوچھنے کی ہمت دکھائے۔ یہ دیکھنے کے بعد اس بات پر حیران نہیں ہونا چاہیے کہ ٹرمپ انتظامیہ سعودی عرب کی طرف سے خشوگی کے وحشیانہ قتل اور لاش کے مثلہ کے واقعہ پر  سعودی عرب کا احتساب کرنے میں ناکام رہی ہے۔

انصاف اور آزادی کی مغربی اقدار ان دنوں صرف امیر ممالک کے لیے معنی رکھتی ہیں(جرمنی امید کی چند کرنوں میں سے ایک ہے)۔ اسی دوران سپین، فرانس، اور یو کے عموما سعودی عرب کو ہتھیار سپلائی کر رہے ہیں جو کہ یمن  کے عوام پر بمباری کر کے یمنیوں کی زندگی کو اس نہج پر لے گیا ہے کہ جہاں یہ ممالک اب مجموعی طور پر دنیا کے بد ترین انسانی حقوق کے بحران کا سبب بننے کے ذمہ دار ہیں لیکن کوئی بھی ملک خشوگی کے قتل کو نظر انداز کرنے کے بارے میں ذرہ برابر شرمندگی محسوس نہیں کر رہا۔

یہ ایک عجیب اور ظالم دنیا ہے جس میں ہم رہتے ہیں، جہاں کرپشن،  سینسر شپ اور قتل کی سزا نہیں دی جاتی بلکہ کرپشن، احتساب اور قتل پر بولنا اور لکھنا جرم تصور کیا جاتا ہے  اور  ریاستی مشینری  ایسے شخص کو  گرفتار کرنے، اس پر حملے کرنے یا اسے مار ڈالنے کے لیے متحرک ہو جاتی ہے۔ یہ قلم اور انسانی آواز کی طاقت ہےاور یہ ہتھیار بلاشبہ بندوقوں اور بموں سے بہت زیادہ طاقتور ہیں۔

اسی طرح پاکستان میں قتل کیے گئے صحافیوں کے خاندانوں کو کبھی انصاف نہیں ملا۔ ایسا ہی گمبھیر مسئلہ یہ بھی ہے کہ  آ ج کے دور میں میڈیا پر  سینسر شپ لگا دی گئی ہے باوجود اس کے کہ  پاکستان ایک جمہوری ملک  ہے ۔ یہ ایک سوال کھڑا کرتا ہے کہ صحافیوں اور ناقدین کے اغوا، دھمکیوں اور ہراساں کرنے پر ہمارے اپنے ملک میں ہمارا اجتماعی رد عمل کیا ہے۔ یہ وہ سوال ہے جو ہماری مکمل اور فوری توجہ چاہتا ہے ، اس حقیقت کو دیکھتے ہوئے کہ  ہمارے ادارے امریکی اداروں کے بر عکس آزاد نہیں ہیں  اور اتنی قوت نہیں رکھتے کہ طاقت کے سامنے جم کر کھڑے رہ سکیں۔

یو ایس میں وفاقی جج ٹموتھی کیلی، جنہیں ٹرمپ نے منتخب کیا، نے ہدایت کی کہ وائٹ ہاؤس سی این این کے نمائندے جم اکوسٹا کی وائٹ ہاؤس تک رسائی کو دوبارہ بحال کرے۔ مزید یہ کہ زیادہ تر مین سٹریم میڈیا کے ادارے ذاتی طور پر طاقت کے اس غلط استعمال کے خلاف ایکوسٹا کے ساتھ کھڑے ہوئے۔  پاکستان میں آج کل یہ ایک ناقابل تصور بات ہے کہ میڈیا کسی اصول کے معاملے پر ایک ساتھ کھڑا ہو۔ مزید یہ کہ سپریم کورٹ کے سب سے سینئر جج نے حال ہی میں ایک رضا کار صحافی حسین نقوی  کو بے عزت کرنے کے لیے اپنے بنچ کو استعمال کرتے ہوئے اس بار سوویں مرتبہ اپنی حدود کو پھلانگا ہے۔ تو  کیا ہم  اس معاملے میں میڈیا پر سینسر شپ کے سلسلہ مین کسی از خود نوٹس کی توقع کر سکتے ہیں؟ اس  کے بجائے جس  چیز کی  آج ہم   توقع کر سکتے ہیں یہ ہے کہ  جو اختیارات کا غلط استعمال کرنے والوں پر تنقید کرے گا اسے  اٹھا لیا جائے گا، تشدد کا نشانہ بنایا جائے گا ، ڈرایا دھمکایا جائے گا ،یا پھر عدالت کی توہین کے جرم میں پکڑ لیا جائے گا۔

اس سے ہمیں پریشان نہیں بلکہ مشتعل ہونا چاہیے، یہ ایک خطرناک راستہ ہے اور ہماری سول آزادیوں اور سوال کے حق کو پہلے ہی سے ہم سے چھین لیا گیا ہے۔ مزید کتنی قربانیاں دینے کے لیے تیار ہیں ہم، اور کب تک؟ ہماری اجتماعی آزادی اظہارپر قدغنیں  احتساب اور شفافیت کے لیے اٹھنے والی آوازوں کو مزید  مدھم کرتی جا رہی ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *