سکھوں سے محبت کی قیمت (سکھ سیریز قسط 2)

جیسا کہ بیان کیا جا چکا ہے کہ قایداعظم نے سکھوں کی قیادت کو بہت فراخدلانہ پیشکش کی تھی ۔ اصل میں اس وقت سکھ پورے پنجاب میں بارہ سے تیرہ فی صد ہی تھے اور یہ تعداد اتنی کم تھی کہ کانگرس اور مسلم لیگ دونوں نے اس کی طرف توجہ نہ دی۔ البتہ ریاست پٹیالہ کے سکھ مہاراجہ یدوندر سنگھ کے کانگریس کی قیادت سے اچھے تعلقات تھے جبکہ ماسٹر تارا سنگھ اس وقت بڑی اہمیت اختیار کر گئے جب لارڈ ویول نے انھیں( 1945) کی شملہ کانفرنس اور بعد میں کابینہ مشن( 1946)میں برطانوی حکومت نے انھیں خاص طور پر مذاکرات میں شریک کیا۔ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ہم قارئین کو اس موقع پر ماسٹر تارا سنگھ کے بارے میں کچھ ضروری تفصیل سے آگاہ کریں کیونکہ اس کہانی کے مرکزی کردار  وہی ہیں ۔
موصوف کا اصل نام نانک چند ملہوترہ تھا۔ وہ ضلع راولپنڈی کے ایک قصبہ ہرنال کے کھاتے پیتے ہندو خاندان سے تعلق رکھتے تھے لیکن انھوں نے خالصہ کالج امرتسر میں تعلیم کے دوران  میں یا اس سے پہلے سکھ مذہب قبول کرلیا تھا۔ وہ کچھ اس قسم کے  "شدید" سکھ ہوئے کہ سکھوں کی آنکھ کا تارا بن کر نام کے بھی تارا سنگھ ہو گئے۔ وہ پہلے سکھ تھے جن کے انگریزی حکومت سے اچھے تعلقات تھے۔ اسی لیے وہ برطانوی حکومت کے بڑے قریب تھے۔ جب 1940 میں مسلم لیگ نے جنگ عظیم دوم کے دوران قرارداد لاہور  پاس کی جو بعد میں قرارداد پاکستان  کہلائی تو  کانگریس سے بھی پہلے ماسٹر تارا سنگھ نے اس کی مخالفت کی ۔اور کابینہ مشن کے جواب میں انھوں نے پنجاب کو  ایک آزاد سکھ ریاست بنانے اور پنجابی کو اس کی سرکاری زبان قرار دینے کو اپنی منزل قرار دیا۔ انھوں اپنے علاقے میں آکر اس مطالبے کے حق میں زور دار تحریک کا آغاز بھی کر دیا۔ ان کی اس شدید مخالفت نے قاید اعظم کو بھی مجبور کیا وہ ان سے ملاقات کریں۔ ایک دفعہ تو وہ ملاقات طے ہونے کے بعد مقرر جگہ پر پہنچ بھی گۓلیکن پھر اچانک جناح سے ملے بغیر یہ کہہ کے چلے گئے کہ ان کو  گرو ارجن ،تیغ بہادر، گرو بلدیو سنگھ اور ان کے دو معصوم بچے یاد آگئے ہیں جن کو " مسلمانوں" نے شہید کیا۔ البتہ اس کے بعد ایک ملاقات کا بندوست کیا گیا لیکن وہ بے نتیجہ رہی۔ ماسٹر تارا سنگھ نے اس ملاقات کا بہت منفی تاثر لیا ۔ وہ اس بات پر بہت بد مزہ ہوئے کہ جناح نے انہیںsub nation  قرار دینے کی بات کی ہے۔ قاید اعظم نے اس  کی متعدد جگہوں پر وضاحت کی کہ انھوں نے آئینی طور پر انھیں یہ کہا ہے لیکن تیر کمان سے نکل چکا تھا۔ دو قومی نظریہ سکھوں کو سانپ کی طرح ڈس چکا تھا۔اس لیے ان کی وضاحت قبول نہ کی گئی۔
 جناح نے اس کے بعد پٹیالہ کے مہاراجہ سے بھی بات کی اور انھیں خالی کاغذ پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس پر اپنی شرائط لکھیں اور وہ اس میں بغیر کچھ تبدیل کیے دستخط کرنے کو تیار ہیں ۔ بس وہ اپنی ریاست کا الحاق پاکستان سے کر دیں۔ اگرچہ مہاراجہ اس پر بہت خوش اور حیران ہوئے لیکن انھوں نے بھارت ہی کے چرنوں میں بیٹھنے کا فیصلہ کیا۔ مہاراجہ سے ملاقات کے بعد ہی شاید کسی وقت قایداعظم نے وہ فراخدلانہ پیشکش کی تھی جس کا ہم  نے پچھلے کالم میں ذکر کیاتھا۔  ہماری تحقیق کے مطابق ان کے اس فیصلے کے پیچھے بھی ماسٹر تارا سنگھ ہی تھے۔ چنانچہ الیکشن 1946کے بعد جب پنجاب اسمبلی کا اجلاس ہوا جس میں پنجاب کے متحد رہنے  یا تقسیم کرنے پر بحث ہونی تھی تو  ماسٹر تارا  سنگھ اپنے ساتھیوں سمیت اسمبلی کے باہر آیے، تلواریں اور کرپانیں لہرا لہرا کر" پاکستان مردہ باد "کے نعرے لگائے اور ہندوستان سے ملنے کا اعلان کیا۔ چنانچہ اگلے چار دنوں ہی  کے بعد پنجاب اسمبلی نے تقسیم کے حق میں قرارداد منظور کرلی اور یوں سکھوں نے اپنا " مکہ اور مدینہ "چھوڑنے کا تلخ فیصلہ قبول کر لیا۔ اس سے قبل کہ انھیں کوئی اس کا احساس دلاتا،
ایک انتہائی خوفناک حادثہ ہو گیا۔
ماسٹر تارا سنگھ کے گاؤں ہرنال میں ان کر گھر کو مسلمان غنڈوں کے ایک گروہ نے آگ لگا دی۔ جس میں ان کی والدہ سمیت 59 رشتے دار زندہ جل گئے۔ اس کے بعد اندازہ  ہی کیا جا سکتا ہے کہ ماسٹر تارا سنگھ اور ان کی حامی سکھ گروہ کا کیا ردعمل ہو گا۔ یہی وہ موقع تھا جب کہا جاتا ہے کہ ماسٹر صاحب نے مشرقی پنجاب میں مسلمانوں کے قتل عام کا منصوبہ بنایا۔ پھر خون کی وہ ندیاں بہیں کہ نہ امرتا پریتم کی وارث شاہ کو شکایت کسی کام آسکی ، نہ گاندھی جی کا فلسفہ اہنسا کارگر ہوا اور  نہ مسلمانوں میں کوئی سر سید موجود تھا جو جنگ آزادی کو غدر کہتا اور انگریزوں کا پٹھو ہونے کی پھبتی برداشت کر لیتا لیکن انگریزوں کی عورتوں اور بچوں کی حفاظت اپنے خاندان کی طرح کرتا۔ بس آگ اور خون کا ایک دریا تھا جس میں ہندو ، مسلمان اور سکھ ڈوب کر گزر رہے تھےاور انگریز حکام سرخ قالینوں پر قدم رکھتے جہازوں پر سوار ہو کر  برطانیہ جا رہے تھے۔
 ہماری آنکھیں تو اس وقت باخدا بھیگ چکی ہیں ، آپ اپنی حساسیت کا امتحان لینا چاہتے ہیں تو  آکسفورڈ یونیورسٹی پریس کی شایع کردہ کتاب The punjab bloodied and cleansed by Ishtiaq Ahmed کا مطالعہ کر سکتے ہیں ۔ اس موضوع پر بہترین کتاب ہے۔لیکن صاحبو ماسٹر تارا سنگھ کی کہانی ابھی ختم نہیں ہوئی۔ کیونکہ سکھوں کے ساتھ دوستی کا ٹوسٹ آنا ابھی باقی ہے ، جس  میں ہمیں آپ کو بتانا ہے خالصتان کے خواب دیکھنے والوں کو یہ کیسے علم ہوا کہ ماسٹر تارا سنگھ تو اسی طرح کا غدار تھا جس طرح کا گلاب سنگھ تھا ۔ پھر آپ کو یہ بتانا ہے کہ اس غدار کی بیٹی رجندر کور باپ کے گناہوں کی بھینٹ چڑھ کر کیسے قتل ہوئی؟ اندراگاندھی آپریشن بلیو سٹار کرنے کے جرم میں اپنے ہی سکھ گارڈوں کے ہاتھوں کیسے قتل ہوئی اور آخر سکھوں سے محبت کرنے سے جناح کا دوقومی نظریہ  کیسے محفوظ رہتا ہے ۔  لیکن ہم پہلے ہی بتائے دیتے ہیں کہ اس داستان میں کسی خیر کی خبر کی امید مت رکھیے گا کیونکہ ہمیں شبہ ہے کہ بقول ساغر صدیقی!
ہمارے دامن میں انگاروں کے سوا کچھ نہیں
اور آپ پھولوں کے خریدار نظر آتے ہیں !!!!!
جاری ہے)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *