وزیراعظم کا گورنر ہاؤس پنجاب کی دیواریں گرانے کا حکم

وزیراعظم عمران خان نے صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں قائم گورنر ہاؤس کی دیواریں گرانے کا حکم دے دیا۔

گورنر ہاؤس کی دیواریں گرانے کا فیصلہ گزشتہ روز صوبائی کابینہ کے اجلاس میں کیا گیا، وزیراعظم نے قوم سے اپنے پہلے خطاب میں وزیراعظم اور گورنر ہاؤس کو عوامی مقامات میں تبدیل کرنے کا عہد کیا تھا۔

وزیر اعظم کی زیرِ صدارت صوبائی کابینہ کے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے پنجاب کے وزیر اطلاعات و ثقافت فیاض الحسن چوہان نے گورنر ہاؤس کی دیواریں گرانے کا حکم دیے جانے سے متعلق تصدیق کی۔

ان کا کہنا تھا کہ گورنر ہاؤس کی دیواریں ’لوگوں کو ڈرانے کے لیے تھیں‘۔

فیاض الحسن چوہان کا کہنا تھا کہ ہمیشہ سے گورنر ہاؤس اور اس طرح کے ادارے عوام کے لیے ناقابل رسائی تھے اور عوام وہاں جانے کا سوچ بھی نہیں سکتے تھے‘۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ’گورنر ہاؤس تاریخی عمارت نہیں بلکہ ایک دفتر ہے‘۔

وزیر اطلاعات پنجاب کا کہنا تھا کہ وزیراعظم عمران خان نے گورنر ہاؤس کی دیواریں گرانے سے متعلق وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کو ہدایات جاری کی ہیں۔

فیاض الحسن چوہان کا کہنا تھا کہ گورنر ہاؤس کی دیواریں گرانے کا کام آئندہ 48 سے 72 گھنٹوں میں مکمل کرلیا جائے گا۔

خیال رہے کہ ستمبر میں وزیر تعلیم شفقت محمود نے لاہور میں واقع گورنر ہاؤس پنجاب کو عوام کے لیے کھولنے کا اعلان کیا تھا جس کے بعد پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کی جانب سے گورنر ہاؤس کی عمارت کے دروازے عوام کے لیے کھول دیے گئے تھے۔

وزیر تعلیم نے کہا تھا کہ گورنر ہاؤس پنجاب میں قائم اسکولوں اور ووکیشنل انسٹیٹیوٹس کو علیحدہ کیا جائے اور گورنر آفس کو میوزیم اور آرٹ گیلری میں تبدیل کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا تھا کہ گورنر ہاؤس کے میدانوں کو عوامی پارک کے طور پر کھولا جائے گا جس میں ایک چھوٹا سا چڑیا گھر بھی ہوگا۔

صوبائی محکموں کی کارکردگی

صوبائی وزیر اطلاعات نے کابینہ اجلاس سے متعلق میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ صوبائی کابینہ کے ارکان نے وزیر اعظم کو اپنے محکموں کی کارکردگی کے حوالےسے تفصیلی بریفنگ دی۔

ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم نے صوبائی کابینہ کو عام آدمی کی معاشی اور سماجی زندگی میں بہتری لانے کے لیے تیز ترین اقدامات کرنے کی ہدایت بھی جاری کیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ اجلاس میں وزیر اعلیٰ عثمان بزدار کو صوبائی شعبہ جات کی کارکردگی کی نگرانی کے لیے بھی ہدایات جاری کی گئیں۔

صوبائی وزیر اطلاعات نے کہا تھا کہ سابق کمیٹیوں کے کام اور ان کے اثرات سے سب واقف ہیں، اب ایسا کچھ نہیں ہوگا اور کوئی سفارشی نہیں آئے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعلیٰ سیکریٹریٹ کے اخراجات 55 ارب روپے سے کم ہوکر 7 سے 8 ارب روپے تک پہنچ گئے ہیں جبکہ وزیراعظم سیکریٹریٹ کے اخراجات میں 18 ارب روپے کی بچت ہوئی۔

فیاض الحسن چوہان کا کہنا تھا کہ وزرا کو ان کی کارکردگی سے متعلق 2 صفحات پر مشتمل خلاصے میں اپنی کارکردگی اور آئندہ اہداف سے متعلق بتانے کا بھی کہا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے پرائس کنٹرول کمیٹی سے بڑھتی ہوئی مہنگائی اور قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے حوالے سے بھی بات کی تھی۔

وزیر اطلاعات پنجاب کا کہنا تھا عمران خان نے صوبے بھر میں تقرریوں اور تبادلوں پر تشویش کا اظہار بھی کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ 8 سے 10 دسمبر کے درمیان ایک تقریب میں صوبائی حکومت کے ہر محکمے کی کارکردگی سے متعلق بتایا جائے گا۔

فیاض الحسن چوہان نے بتایا تھا کہ 10 سے 20 دسمبر کے درمیان تمام وزرا پریس کانفرس کے ذریعے اپنی وزارت کی کارکردگی سے متعلق عوام کو بتائیں گے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *