عمران بمقابلہ عمران

کسی بھی حکومت کی کارکردگی کا اندازہ ابتدائی 100 دنوں کی کارکردگی  کی بنیاد پر کرنا مشکل ہے۔ لیکن وزیر اعظم عمران خان نے خود ہی ان کی انتظامیہ کی کارکردگی کا فیصلہ کرنے کے لیے  سو دن کا  تعین کیا۔ ان کے 11 نکاتی منشور نے انتخابات سے پہلے ہی سے خان کو خود کے خلاف کر دیا۔ ان کے سیاسی بیانات نے کچھ امیدیں دلائیں جن پر پورا اترنا اب ان کے لیے مشکل ہو رہا ہے۔ سیاست کو کرکٹ میں مکس کرنے کے اپنے ہی خطرات ہیں۔

ایک غیر تجربہ کار لیڈر کے لیے ایک غیر منظم ریاست کا سربراہ ہونا ایک آسان معاملہ نہیں تھا ۔ سابق کرکٹ کپتان نے انتخابات میں اقتدار حاصل کیا اور ملک کو مزید سیاسی بنیادوں پر تقیسم کر دیا۔  ایک معمولی  اکثریت کے ساتھ نئی اور نہ آزمائی ہوئئ انتظامیہ کے لیے چیلنج مزید ڈراؤنا ہو گیا ہے۔ خان کی یک طرفہ  اپروچ  اور ان کی اپوزیشن مائنڈ سیٹ سے باہر آنے پر عدم آمادگی نے ان کی سیاست کو ایک  ستم ظریفی  کی مثال بنا دیا ہے۔

ان کی انسانی ترقی کو ترجیح دینے کی پالیسی درست تھی،لیکن پی ٹی آئی کی حکومت  گورننس کے معاملہ میں ناکام رہی ہے اور جو  اہداف وزیر اعظم نے اپنے 11 نکاتی منشور میں مرتب کیے تھے پر پورا اترنے کے لیے حکمت عملی کی کمی نظر آ رہی ہے۔ کرپشن کا خاتمہ، خود انحصاری، صحت اور تعلیم ان ترجیحات میں سرفہرست تھے۔ اسے پی ایم ایل این حکومت کے انفراسٹرکچر منصوبوں کے متبادل کے طور پر دیکھا جا رہا تھا  لیکن ابتدائی 100 دنوں میں ان اہداف کو پورا کرنے کی کوئی زیادہ پیش رفت نہیں ہوئی۔

یقینا پی ٹی آئی حکومت کو وراثت میں ملنے والی کمزور معیشت  وعدوں کو پورا کرنے کے لیے ایک بڑی رکاوٹ رہی ہے۔ معیشت کا حل یقینا اولین ترجیح ہونی چاہیے۔ لیکن فی الحال کہیں ایسا نہیں لگتا کہ ملکی معیشت بحران سے نکل رہی ہے  اور حکومت کے لیے طویل المدتی پالیسی بھی موجود نظر نہیں آتی۔  لگتا ہے کہ حکومت صرف  ڈنگ ٹپاو طریقہ سےگزارا کرنا چاہتی ہے۔

بیل آؤٹ کے لیے سعودی عرب اور چائنہ پر انحصار کرنے کے باوجود حکومت کے پاس معیشت کو بہتر کرنے کے لیے اصلاحات لانے کا کوئی ارادہ نظر نہیں آتا۔حکومت کی فیصلہ سازی میں کمزوری کی وجہ سے آئی ایم ایف  پیکج کی زیادہ توقع نہیں کی جا سکتی ۔خان اپنے سیاسی منشور اور انتہائی مطلوب اصلاحات کے درمیان پھنسے ہوئے ہیں۔ جو چیز وزیر اعظم کی سمجھ میں نہیں آئی یہ ہے کہ وقتی  معیشت ملک کے گہرے معاشی مسائل کا  مستقل حل مہیا نہیں کر سکتی۔اس کے علاوہ طویل المدتی پروگرام کے باے میں مثبت سوچ اور صلاحیت کا بھی  سوال ہے۔ بھیک اور قرضے ہمارے مستقل مالی بحران کا حل فراہم نہیں کرتے۔ غیر ملکی مالی امداد کو سفارتی کامیابی کے طور پر پیش کرنا ناقابل قبول ہے ۔

یہ صاف ظاہر ہے کہ حکومت کو معاشی مسائل کی سنجیدگی کا واضح اندازہ نہیں ہے۔ یہ سچ ہے کہ یہ مسائل 100 دن میں حل نہیں ہو سکتے تھے، لیکن اب تک کچھ مستحکم اقدامات اٹھائے جانے چاہیے تھے۔ پس و پیش اور بے یقینی نے بحرانوں کو مزید بھڑکایا ہے۔ کوئی ایک بھی پالیسی اقدام نہیں کیا گیا جو سرمایہ کار کے اعتماد کو بحال کرنے میں مدد کرتا۔ حکومت کے مالیاتی صورتحال کو مستحکم کرنے کے دعوے سچ ثابت ہونے کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔

حکومت کے لیے یہ ضروری تھا  کہ کلیدی قومی معاملات پر اتفاق رائے قائم کرنے اور سیاسی مقابلہ بازی سے باز رہے کیونکہ اس کی اکثریت حد درجہ معمولی ہے ۔ لیکن حکومتی پارٹی نے مقابلہ بازی کی روش اپنا رکھی ہے  اور اکثر اوقات پارلیمنٹ کو بھی مفلوج کر کے رکھ دیا ہے ۔ اس حالت میں حکومت  کے لیے اہم معاملات پر قانون سازی کے لیے  اپوزیشن بنچز سے  تعاون حاصل کرنا مشکل ہو گا۔ ایک اہم سوال جو حکومت کو خود سے کرنا چاہیے یہ ہے کہ مخالف سیاسی فضا میں یہ اپنی اصلاحات کے ایجنڈا کو کیسے نافذ کرے گی؟

بلا شبہ ملک میں کرپشن ایک بڑا مسئلہ رہا ہے لیکن پی ٹی آئی حکومت  کرپشن کے خلاف اس مہم کو حد سے زیادہ آگے لے گئی ہے جس کی وجہ سے اسی پر سیاسی انتقام کے الزامات لگنے لگے ہیں ۔ خان کی مہم نیب کی خودمختاری کے بارے میں بھی سوال کھڑے کرتی ہے۔ یونیورسٹی کے وائس چانسلر اور پروفیسروں کو ہتھکڑیوں میں گھسیٹنے کا تماشا پی ٹی آئی حکومت پر ایک کالا دھبہ ہے۔ کرپشن کے خلاف مہم کے نام پر  بلا امتیاز کاروائیوں نے بیورو کریسی کی کارکردگی کو بھی متاثر کیا ہے۔

خارجہ پالیسی کے  معاملے میں بھی حکومت کی کارکردگی کم از کم قابل  رشک نہیں رہی۔ وزیر اعظم نے معاشی امداد کی غرض سے  یو اے ای اور سعودی عرب کے 2دورے کیے، اور خاص طور پر  ایک دورہ چین  کا بھی کیا۔ خان اپنی کوشش میں کامیاب رہے ہوں گے لیکن  انہوں نے یہ ظاہر کیا کہ یہ ملک بھیک کے بغیر نہیں چل سکتا۔

سعودی عرب اور چائنہ دونوں ممالک میں اور سرمایہ کاری کی کانفرنسوں میں بھی کرپشن کے پاکستان میں سب سے بڑا مسئلہ ہونے کے بارے میں بات کر کے عمران خان نے  ملک کو شرمندہ کیا۔  ماضی کی بمشکل ہی کوئی ایسی مثال ہو کہ پاکستانی لیڈر بین الاقوامی فورم پر اپنے ذاتی مسائل کے بارے میں بول رہا ہو۔ یہ یقینا قومی لیڈر  کے لیے مناسب نہ تھا۔ اس طرح کے رویہ کو ان کی محض نا تجربہ کاری پر محمول نہیں کیا جا سکتا۔

اقلیتی پارٹی ہونے کے باوجود پنجاب میں حکومت کی تشکیل نے پی ٹی آئی کو ایک انتہائی ضروری سیاسی تحفظ دیا ہے ۔ یہ بات واضح ہے کہ کوئی بھی وفاقی حکومت ملک کے سب سے بڑے اور طاقت ور صوبے کا کنٹرول لیے بغیر مؤثر نہیں ہو سکتی تھی۔ لیکن صوبائی حکومت کی بقا مختلف سیاسی گروہوں اور آزاد ارکان کی حمایت پر منحصر ہے۔ چند  افراد کے الگ ہونے سے ہی یہ حکومت ختم کی جا سکتی ہے ۔ ایک کمزور اور نا تجربہ کار چیف منسٹر  کی قیادت میں ، اور بہت سے طاقتور افراد کی آس پاس موجودگی  کی وجہ سے زیادہ اعتماد کی فضا نظر نہیں آتی ، خاص طور پر جب پی ٹی آئی کے اصلاحاتی پروگرام کی کامیابی کا انحصار صوبائی حکومت پر ہو۔

پی ٹی آئی حکومت میں جس چیز کی کمی ہے وہ نہ صرف ملک کو مالیاتی بحران سے نکالنے کی کی صلاحیت ہے بلکہ معیشت کو مستحکم کرنے کی پائیدار پالیسی اور معاشی اصلاحات کے ایجنڈا کی تیاری کی نا اہلیت ہے۔ عمران خان کو ایک بڑا فائدہ یہ ہے کہ انہیں ملٹری اسٹیبلشمنٹ اور عدلیہ کی حمایت حاصل ہے  جو ان کی انتظامیہ کو  استحکام  فراہم کرتی ہے۔ لیکن  اگر حکومت معاملات درست نہیں کرتی اور گورننس کے مسائل حل نہیں کرتی تو ملٹری اور عدلیہ کی سپورٹ بھی زیادہ دیر قائم نہیں رہ سکے گی۔ یقینا حکومت کے پہلے 100 دنوں میں اس کی کارکردگی اتنی بُری نہیں  لیکن یہ وزیر اعظم اور ان کی ٹیم کے لیے سیکھنے کے لیے ایک اہم موڑ ہے۔

 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *