ستلج کی پیاس کسی آبی کوریڈور کی منتظر

عناصر اربعہ یعنی آگ، ہوا ، مٹی اور پانی میں سے پانی کو یونیورسل محلل ہونے کا درجہ حاصل ہے جس کے بغیر حیات کا تصور ہی ناممکن ہے کیونکہ پودے جو غذائی زنجیر میں پیداکاران کہلاتے ہیں پانی کے بغیر خوراک تیار نہیں کر سکتے اور اگر خوراک تیار نہیں ہو گی تو صارفین یعنی جانورناپید ہو جائیں گے ، پاکستان چونکہ ایک زرعی ملک ہے اور زراعت کا تو مکمل انحصار ہی پانی پر ہے لیکن تقسیم پاکستان سے لے کر اب تک چانکیہ کے چیلوں کی بھر پور کوشش رہی ہے کہ کسی نہ کسی طرح سے پاکستان کو صفحہ ہستی سے مٹا دیں اور اس مقصد کے حصول کے لئے وہ ہر اوچھی چال چلنے سے بھی باز نہیں آتے ، ریڈ کلف ایوارڈ کے دوران گورداسپور اور فیروزپور کی مسلم اکثریت والے دونوں اضلاع کو بھارت کے حوالے کردیا گیا تاکہ کشمیر پر قبضہ کیا جا سکے جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ دریائے جہلم اور چناب کے پانی پر بھی بھارت کا قبضہ ہو گیا ۔ پاکستانی حکومت کے سخت احتجاج کے بعد ورلڈ بنک کی مداخلت پر 9سالہ مذاکرات کے بعد آخر کار1960ء میں پاکستان اور بھارت کے درمیان نہری پانی کے استعمال کا ایک معاہدہ سندھ طاس کے نام پر طے پایاجس کے تحت پاکستان نے تین مشرقی دریاؤں‘ راوی‘ بیاس اور ستلج کے زرعی پانی سے دستبرداری اختیار کرلی جبکہ مغربی دریاؤں کا پانی پاکستان کو دیا گیا۔سندھ طاس معاہدے کی تاریخ کے بغور مطالعے سے واضح ہوتا ہے کہ بھارت کے وفد کی سربراہی بھارت کے انجینئر این ڈی گلہاٹی اور پاکستان کی بیورو کریٹ جی معین الدین کر رہے تھے، اسی دوران گلہاٹی کی بیوی وفات پا گئی لیکن وہ اپنا کام یکسوئی سے کرتے رہے لیکن جی معین الدین واپسی پر نئی نویلی امریکی دلہن ساتھ لے کر آئے ۔
" قومے فروختند و چہ ارزاں فروختند" کے مطابق جی معین الدین اور اس کے حواریوں نے سندھ طاس معاہدے میں جان بوجھ کر غفلت کا ارتکاب کرتے ہوئے پاکستان کو بے آب و گیاہ کرنے کی پہلی اینٹ رکھ دی اس کے بعد ہمارے ا زلی دشمن بھارت نے اس معاہدے کی ہر شق کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے خاص طور پر دریائے ستلج کے میدان کو ایسا بنجر کیا جس کی مثال دینا مشکل ہے جس کی وجہ سے اس کے دونوں اطراف میں موجود انسانی آبادی اور آبی و جنگلی حیات کے لئے زندگی دن بدن تنگ ہوتی جا رہی ہے اور اکثریت اب نقل مکانی پر مجبور ہو گئی ہے حالانکہ اقوام متحدہ کے واٹر کورس کنونشن کی شق,21 20 اور 22 میں اس بارے میں بالکل واضح ہدایات ہیں کہ کوئی بھی ملک کسی بھی قدرتی آبی وسیلے کو مکمل طو پر اس طرح ختم نہیں کرسکتا کہ آبی حیات اور قدرتی ماحول کو نقصان پہنچے اور اس آبی وسیلے کے اردگرد آباد لوگوں کی کم از کم ضرورت کیلئے پانی لازمی فراہم کیا جائے۔ دنیا میں بہت سے دریا ایسے ہیں جو مختلف ممالک سے گزرتے ہیں لیکن ان تما م دریاؤں کا پانی ایک طے شدہ معاہدے کے تحت وہ تما م ممالک استعمال کرتے ہیں جہاں جہاں سے یہ دریا گزر تے ہیں، دریائے گنگا اور دریا ئے جمنا،دریائے مسس پی،دریائے ایمازون،دریائے ڈینیوب اور دریائے نیل اس کی بہترین مثالیں ہیں لیکن بھارت جان بوجھ کر پاکستان سے گزرنے والے دریائے ستلج، راوی اور بیاس کا پانی مکمل طور پر اپنے تصرف میں رکھے ہوئے ہے۔ سندھ طاس معاہدہ کے تحت پاکستان مشرقی دریاؤں (راوی‘ بیاس‘ اور ستلج) کا پانی صرف آبپاشی و زراعی استعمال کیلئے حاصل نہیں کرسکتا ،اگر دیکھا جائے تو پاکستان میں بہنے والے مغربی دریا‘ یعنی سندھ‘ جہلم اور چناب جب بھارتی علاقوں سے گزرتے ہیں تو وہ ان میں سے اس قدر پانی لیتا ہے جو کم از کم انسانی ضروریات اور ماحولیاتی تحفظ کیلئے درکار ہے لیکن مشرقی دریاؤں یعنی ستلج اور راوی کے پانی سے وہ ان بنیادی ضرورتوں کیلئے مقررہ مقدار یعنی سات فیصد پانی بھی نہیں دے رہا۔
کوئی بھی قدرتی آبی وسیلہ یعنی دریا یا ندی نہ صرف علاقے کی آبی ضروریات پوری کرتی ہے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ زیر زمین پانی کی سطح بھی برقرا رکھتی ہے اس لئے دریائے ستلج کے بند ہونے کا سب سے بڑا نقصان یہ ہو اکہ اس کے ارد گرد تمام علاقوں پاک پتن ، ساہیوال، رحیم یار خان، بہاولنگر اوربہاولپور میں زیر زمین پانی کی سطح نیچے چلی گئی ہے اوراس کے ساتھ TDSاور سنکھیا کی مقدار انتہائی حد تک بڑھ چکی ہے ، محکمہ تحفظ ماحولیات پنجاب کی ایک رپورٹ کے مطابق بہاولنگر اور بہاولپور کے اضلاع میں زیر زمین پانی کے نمونوں میں فلورائیڈز کی مقدار 34-35فیصد ہے جس کی وجہ سے ان علاقوں میں دانتوں کی بیماریاں بہت عام ہیں اس کے علاوہ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے معیار کے مطابق پینے کے پانی میں سنکھیا کی کم از کم مقدار 10ppbہونی چاہئے لیکن احمد پور شرقیہ ، رحیم یار خان اور بہاولپور کے پانی کے نمونوں میں سنکھیا کی مقدار 70ppb سے زیادہ جبکہ یزمان یعنی چولستان کے علاقوں میں اس کی مقدار 130سے بھی زیادہ پائی گئی ہے جس کی بنیادی وجہ دریائے ستلج میں پانی کی عدم فراہمی بھی ہے
سندھ طاس معاہدہ کے شق 4(1) میں تحریر ہے کہ مشرقی دریاؤں سے نکلنے والی نہروں کیلئے متبادل نظام کے طور پر 6 نئی رابطہ نہریں تعمیر کی جائیں جبکہ تریموں اسلام لنک کے ذریعے ہیڈ اسلام اور اس سے نکلنے والی نہروں کو پانی فراہم کیا جانا تھا۔ (اس مجوزہ لنک کینال کی گنجائش بیس ہزار کیوسک ہے)ان انہار کی تعمیرکے لئے پاکستان کوچھتیس ارب روپے دیئے گئے۔ لیکن کتنے افسوس کا مقام ہے کہ اس رقم سے سندھ طاس معاہدہ میں تجویز کی گئی تمام متبادل نہریں تعمیر توہوچکی ہیں لیکن صرف وہ نہر تعمیر نہیں کی گئی جسکے ذریعے دریائے ستلج کو پانی مہیا کیا جانا تھا حالانکہ اس کو 3 مارچ 1967ء تک تعمیر ہونا تھا۔ جبکہ اس کے مقابلے میں دریائے راوی کو آٹھ متبادل ذرائع سے پانی فراہم کیا جارہا ہے ۔
موجودہ حکومت جس کا منشور تھا کہ وہ جنوبی پنجاب کی محرومیوں کو دور کرے گی اور وسائل کی مساوی تقسیم کو یقینی بنائے گی اب اس کو چاہئے کہ وہ فوری طور پر تریموں اسلام لنک کینال کی تعمیر کا آغاز کرے اور ماضی کی غلطیوں اور ریاست بہاولپور کی عوام کے ساتھ جاری زیادتی کی تلافی کرے تاکہ اس خطے کو مکمل طور پر ماحولیاتی تباہی سے بچایا جا سکے ۔دوسری بات یہ کہ بھارت کو اس کی ذمہ داری کا احساس دلایا جائے اور بھارت پر سفارتی دباؤ ڈالنے کے ساتھ بین الاقوامی فورم پر اپنی آواز بلند کرے کہ وہ ماحولیات اوار آبی حیات کے تحفظ کے لئے 15سے 20فیصد پانی دریائے ستلج میں چھوڑے ،ویسے بھی آج کل یہی بحث چھڑی ہوئی ہے کہ مستقبل کی جنگ آ بی وسائل پہ ہو گی اور 2025ء تک ہم پانی کی بوند بوند کو ترس جائیں گے تو کیا اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مستقبل قریب کے لئے ایک ایسی منصوبہ بندی کرنا لازمی ہے جس سے دریائے ستلج کے ساتھ 300کلومیٹر تک آباد تین کروڑ عوام کا مستقبل بھی محفوظ ہو جائے اور ان کو بھی پینے کا صاف پانی مہیا ہو سکے تاکہ ان کے علاقوں میں بھی گردے اور معدے کی بیماریوں کا کوئی ہسپتال نہ ہو ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *