بہروپ

ہماری نفسیات کا تعلق ہمارے ذہن سے نہیں بلکہ ہمارے ماحول سے ہوتا ہے اور ماحول کس کے اختیار میں ہے اس کے بارے میں کوئی نہیں جانتا ، ہر لمحہ بدلتے حالات اور ذہنی انتشار کی وجہ آج کل کی افراتفری تو ہے ہی لیکن کچھ ایسی غیر مانوس قوتیں بھی ہیں جو دنیا کو اپنے اختتام کی طرف لے جانا چاہتی ہیں اور ان کا تعلق ضرور قدرت سے ہی ہے. انسانی مزاج ہے کہ وہ بدلتے ماحول کے ساتھ ڈھل جاتا ہے لیکن کچھ اذہان ایسے بھی ہوتے ہیں جو بدلتے وقت اور ماحول کے باوجود بھی اپنے اندر قید ہو جاتے ہیں اور اس قید کی اندرونی زندگی باہر کی زندگی سے قدرے مختلف ہوتی ہے. باہر کے انسان اور اندر کے انسان میں زیادہ نہیں تو کم فرق بھی نہیں ہوتا، یقیناََ ہر کسی کے پاس مختلف چہرے تو ہوتے ہیں مختلف پناہ گاہیں بھی ہوتی ہیں کہ جب باہر کی زندگی سے بے زاری ہونے لگی تو اپنے اندر ہی سب سے محفوظ امان اور پناہ ملتی ہے اور میں اکثر اسی پناہ میں رہتی ہوں
ہمیں کون بتاتا ہے کہ ہم کس وقت اداس ہیں اور کس وقت خوش، کس وقت ہم الجھے ہوئے ہیں اور کس وقت تھکے ہوئے، یقیناً ہمارا بول چال اور ہمارا رویہ، بعض اوقات ہمیں خود کو بھی خبر نہیں ہوتی کہ ہمارے اندر کی اداسی کس وقت ہمارے چہرے پہ سجے پردے کو زیر کرتی ہوئی ہمارے ماتھے کا جھومر بن کر آ سجتی ہے اور ہم کسی بھی خوشی کی محفل یا تقریب میں ہوتے ہوئے بھی اپنے آپ سے ہم کلام ہو جاتے ہیں اور اپنے آپ سے کلام کرتے ہوئے لب نہیں ہلا کرتے اور کوئی ہمیں اچانک کاندھے پہ ہاتھ رکھ کر مخاطب کرتا ہے کہ ارے آپ کہاں کھو گئیں یا آپ کہاں گم ہیں؟ اس وقت معلوم ہوتا ہے کہ ہاں ہم تو اس جہان میں بھی موجود ہیں جہاں ہماری موجودگی ہمیں یہاں حاضر ہونے کا بھی پابند کرتی ہے اور ہم مسکرا کر کہتے ہیں کچھ نہیں وہ بس ۔۔۔۔ رات کے اندر ٹمٹماتے ستارے اور اڑتے جگنوؤں میں بھی فرق ہوا کرتا ہے اور صبح کے اجالے اور دن کی تپتی روشنی میں بھی فرق ہوا کرتا ہے اور یہ سب ماحول سے نہیں احساس کا فرق ہوتا ہے بلکہ اسی طرح ہمیں اپنے اندر جلنے والی اداسی کی شمع یا اپنے آپ سے مایوس ہو جانے والی زندگی کا بھی اندازہ نہیں ہوتا اور ہم وقت کے بہتے تیز دھارے میں بالکل بے اختیار بہے جاتے ہیں اور بہے جاتے ہیں
معاملہ نفسیات کا ہے، ہم میں سے تقریباً تمام یا پھر یونہی کہیے اکثریت کسی نہ کسی شخصی بیماری میں مبتلا ہے ، سو ہم اپنے اپنے مدار میں رہتے ہوئے بھی دوسرے مدار کے متلاشی رہتے ہیں، بہتر سے بہترین اور تکمیلیت تک کی تلاش بھی نفسی خامی ہے، ہم حال میں خوش نہیں رہتے یا ماضی کے لیے پچھتاتے ہیں یا پھر مستقبل کے لیے تشویش ظاہر کرتے ہیں، ہماری کوئی کیفیت متوازن نہیں ہوتی کوئی حالت مستقل نہیں ہوتی، کبھی ہم خوشی حاصل کرنے کے باوجود بھی نالاں رہتے ہیں اور کبھی حالتِ غم میں بھی مطمئن ہو جاتے ہیں، ہمارے ذہن ہماری مرضی کے مطابق نہیں اور ہماری خواہشات ہمارے ذہن کے مطابق نہیں
ان سب باتوں کا تعلق مخصوص زاویہ نظر سے ہے اور اس نظر میں دیکھنے کی کس قدر طاقت موجود ہے یہ منظر کھولنے کی ضامن ہے، بعض لمحوں کو کہانیوں میں سن کر جلد بھول جانے کا دل نہیں کرتا اور بعض انسانوں سے مل کر بچھڑنے کا دل نہیں کرتا، معاملہ افسانوی ضرور ہے لیکن ہر افسانے کے پیچھے لکھے جملے حقیقت پر مبنی ضرور ہوتے ہیں جنہیں پڑھتے ہوئے قصہ خواں آنکھیں چرا رہے ہوتے ہیں، نفسیاتی دباؤ کا شکار نوجوان اپنے آپ سے باتیں کرتے ہوئے سڑک پر دور نکل جاتے ہیں اور مائیں ان کے مستقبل کی فکر کرتی بوڑھی ہو جاتی ہیں، ہر سطر پہلو ہے اور ہر پہلو کے بے شمار زاویے سو آئیے کچھ زاویے دیکھتے ہیں :
راہ چلتے مسافروں میں اپنائیت کا احساس اور ساتھ بیٹھے ہوؤں سے اجنبیت ،
تیز ہوا میں منہ پر پڑنے والے جھکڑ اور جھیل کے کنارے پھولوں کی خوشبو میں گندھی مست صبا،
گھر کے فانوس میں قید شعلہ اور روشن دان سے پڑتی تیز بھڑکیلی اور پرجوش روشنی،
راہ میں بیٹھے ہوئے فقیر اور بڑے بڑے ہوٹلوں میں رقص کرتے جوڑے،
اینٹوں کے بھٹے پہ کام کرتی سانولی لڑکی اور بیرون ملک مزدوری کے لیے گیا ہوا نوجوان،
ہاتھوں میں چھپی لکیریں اور انگلیوں میں سجی مہنگی انگوٹھیاں،
گرے ہوئے مکانوں کے دروازے اور پاؤں تلے آنے والے پیسے،
بے چین کر دینے والی وائلن کی دھن اور انجان لکھاریوں کی لکھی داستانیں
سب وقت کے روپ ہیں اور لکھنے والے بہروپ

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *