ہیروز کی تلاش

سب ہیرہ کہاں چلے گئے؟ وہ کون سے رول ماڈل ہیں جنہیں نوجوانوں کواپنا لیڈر مان کر ان کی پیروی کرنی چاہیے؟

یہ موضوع پچھلی شام ڈنر ٹیبل پر زیر بحث آیا اور ہم سب نے ایک نام تلاش کرنے کی کوشش کی۔ میانمار کی  آنگ سین سو کئی  روہنگیا مسلمانوں کی  نسل کشی کے بعد ہیرو ہونے کے حق سے محروم ہو چکی ہیں۔  ان کی شان و شوکت ماند پڑ جانے کے بعد  وہ اس گروہ  کی پسندیدہ شخصیت نہیں رہی  جو کچھ عرصہ قبل انہیں جمہوریت کی خاطر اورڈکٹیٹرشپ  کے خلاف مزاحمت کی علامت سمجھتے تھے۔  ایسا بہت کم ہوتا ہے کہ کوئی بڑا  لیڈر بن کر ابھرے اور اتنی جلدی اس مقبولیت سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

اس کے علاوہ کون ہو سکتا ہے؟ میں  پوری دنیا پر نظر دوڑاتا ہوں اور واضح آمرانہ لگاؤ کے حامل پاپولسٹ رہنماؤں کو ابھرتے ہوئے دیکھتا ہوں۔ ان میں سب سے آگے ڈونلڈ ٹرمپ ہیں  اور بہت سے دوسرے بھی مقابلے میں ان کے بہت قریب ہیں۔ ایک وقت تھا جب ترکی کے صدر طیب اردگان کے بارے میں سنتے تھے کہ انہوں نے فوج کو بیرکس تک محدود کر دیا ہے اور ترکی کی معیشت کو تبدیل کر چکے ہیں ۔ لیکن 2016 میں ان کی حکومت کے خلاف مارشل لا کی ناکامی کے بعد  ان کی مطلق العنان بادشاہ ہونے  کی خواہش  نے انہیں ایکسپوز کر دیا ہے اور یہ ظاہر کر دیا ہے کہ انہیں جمہوری روایات سے کوئی لگاو نہیں ہے ۔

مجھے پتا ہے کہ مجھے اس کے لیے کافی تنقید کا سامنا کرنا پڑے گا، لیکن بینظیر بھٹو، اپنی خامیوں کے باوجود ایک اصلی پاکستانی ہیروئن تھیں۔اگرچہ  اقتدار میں ان کے دو مختصر ادوار کا ایک بڑاحصہ کرپشن کی سزا کی وجہ سے متاثر ہوا  لیکن  جمہوریت کے لیے ان کی  کمٹمنٹ بہت مضبوط اور متاثر کن تھی۔  میرے لیے ان کا قتل اور جس حوصلہ سے انہوں نے دشمنوں کا سامنا کیا،  ایک اہم سبق تھا۔

عمران خان نے اپنی  کرشماتی شخصیت اور مقبولیت کے زعم  میں اور اقتدار کے حصول کی خاطر کئی ایسے سمجھوتے کر لیے جن کی وجہ سے انہیں ایک ہیرو قرار نہیں دیا جا سکتا۔ طاقت کے بڑے ستونوں سے سمجھوتے کی افواہوں نے ان کی الیکشن جیت کو گہنا دیا ہے  اور ان کے اپنے پرستار ان کی آئیڈیلزم پر سوال اٹھانے لگے ہیں۔

پاکستان کو واقعی ہیروز کی ضرورت ہے۔ اس کے دارالحکومت کا مرکزی علاقہ مبینہ طور پر زیرو پوائنٹ کہلاتا ہے۔ تقریبا بغیر استثنا کے ہر لیڈر اقتدار سے چلے جانے کے بعد  بے معنی ہو جاتا  ہے۔  اسلام آباد کی گلیوں اور سیکٹرز کو ایسے لوگوں کا نام نہیں دیا جاتا جو کبھی اقتدار میں تھے، یاجنہوں نے کسی طرح سے ہماری تاریخ یا کلچر میں  اہم کردار ادا کیا۔ اس کے بجائے انہیں اعداد اور حروف دیے جاتے ہیں جیسے E7, G2، وغیرہ وغیرہ۔

اس کے باوجود ہم خوش قسمت ہیں کہ ہمارے پاس انسانی حقوق کے کارکن، ڈاکٹر ادیب رضوی اور جبران ناصر جیسے لوگ موجود ہیں، اور افسوس کہ عبد الستار ایدھی اور عاصمہ جہانگیر اب ہمارے اندر موجود نہیں ہیں۔

اختلاف اور ظلم  زندگی سے بڑی   شخصیت کو جنم دیتے ہیں جو مزاحمت کرنے والوں کے رہنما بنتے ہیں۔ امریکہ میں مارٹن لوتھر کنگ اور مالکولم ایکس جیسی شخصیات  نے جب امریکی نسل پرستی کے خلاف جد و جہد شروع کی تو انہیں  قتل کر دیا گیا ۔ صاف طاہر ہے  کہ نسلی مساوات کی مخالفت کرنے والے تیار نہیں تھے کہ سیاہ فام لیڈرز کو کامیاب ہوتا دیکھ سکیں۔

ایک عشرہ قبل، امریکن سیاسی افق پر باراک اوباما ایک چمکتے ستارے کی طرح ظاہر ہوئے اور لگتا تھا کہ وہ امریکا کی نسلی تقسیم کو ختم کر دیں گے۔ لیکن ہمارا اندازہ غلط نکلا۔ جیسا کہ ہم دیکھ سکتے ہیں۔ 2016 کے انتخابات میں ٹرمپ کی فتح نے واضح کیا کہ کچھ بھی تبدیل نہیں ہوا، اور صدر  ٹرمپ کی  ظاہری نسل پرستی  نہ صرف امریکی معاشرے کی تقسیم بلکہ اوباما کی ناکامی کا بھی ثبوت ہے۔  ایک ستارے کی طرح وہ ابھرے اور زمین پر گر پڑے۔

یورپ  نے رواداری، جمہوریت اور سماجی فلاح   پر  اتفاق رائے پر منبی ایک سیاسی نظام تیار کیا  جس نے ابھی کچھ عرصہ قبل  bland conformity کا نفاز کیا ہے ۔ اس فیصلے سے ہیروز کی اہمیت کم ہو گئی ہے اور بہت کم ہیرو سامنے آے ہیں۔ اب یہ اتفاق رائے مہاجرین کے بحران کی وجہ سے ختم ہو چکا ہے جس نے سیاسی نظام میں ایک بڑا خلا   پیدا کر دیا ہے ۔صرف جرمنی کی انجیلا مارکل کے پاس اپنے سیاسی کیرئیر کو لائن میں رکھنے کا حوصلہ تھا جب انہوں نے ایک ملین کے قریب مہاجرین کو پناہ دی۔ میرے نزدیک سیاسی بہادری کا یہ عمل انہیں ایک ہیروئن ثابت کرتا ہے۔

عمران خان نے آغاز میں افغان  بنگلہ دیش کے مہاجرین کو شہریت دینے کی پیشکش کی۔ لیکن کچھ غصیلی آوازین سن کر ہی انہیں الٹے پاوں مڑ کر اپنا فیصلہ واپس لینا پڑا۔  افسوس کی بات ہے کہ جب کہ ہمارے وزیر اعظم بات  کر کے اس پر عمل کر سکتے ہیں لیکن  جب انہیں یو ٹرن لینے پر مجبور کرنے کی کوشش کی جاتی ہے تو وہ مزاحمت نہیں کر سکتے۔

افریقہ میں نیلسن منڈیلا ایک عظیم شخصیت تھی جنہوں نے نسل پرستی کے خلاف لڑتے ہوئے اپنی  زندگی وقف کر دی اور اپنی مزاحمت کے لیے عشروں تک جیل میں رہے۔ ایک طرح سے ان کی کوششوں کی اثرات ان کے ملک اور بر اعظم سے دور دور تک پہنچ گئے۔  ان کے خیالات نے پوری دنیا کے لوگوں کو مرغوب کیا۔ نسلی مساوات  کے خاتمہ کے علاوہ جنوبی افریقہ کی سفید حکومت کے خلاف انتقام  سے ان کے انکار نے کشیدگی کو  کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔

منڈیلا نے ہمیں انتقام کو نظر انداز کرنا سکھایا، اور اس کے بجائے پر امن جمہوری راستہ چننے کا سبق دیا۔ آج کی منقسم دنیا میں یہ سبق ہے جسے ہر سیاست دان کو دل میں بٹھانا چاہیے۔ بد قسمتی سے جنوبی افریقہ کے عظیم لیڈر کے ایک مثال چھوڑ جانے کے باوجود زیادہ تر مرد اور عورتیں معاملات میں غصے، تلخی اور عارضی فائدے    کا شکار ہو جاتے ہیں ۔

یہی وجہ ہے کہ ہمیں ہیروز کی ضرورت ہے۔ آج نوجوانوں کے پاس  بہت کم ایسے رو ماڈل ہیں جن کی وہ پیروی کر سکیں ۔ نوجوان  ٹی وی پر ہونے والے شوز میں شور اور ایک دوسرے پر الزامات کی بوچھاڑ دیکھ کر فیصلہ کرتے ہیں ۔ انہیں اس سے بہتر ماحول ملنا چاہیے۔

 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *