سکھ مسلم داستان کا آخری حصہ

ماسٹر تارا سنگھ نے کہنے کو تو کہہ دیا تھا کہ وہ کانگریس سے آزاد سکھ ریاست بنانے کا فیصلہ کرائیں گے لیکن جب انھوں نے جواہر لال نہرو کو اپنا وعدہ یاد دلایا تو وہ بولے کہ سردار صاحب آپ کتنے بھولے آدمی ہیں ۔ ھندستان ایک سیکولر ریاست ہے ، وہ مذہب کی بنیاد پر کسی ریاست کے بننے کی ہامی کیسے بھر سکتے ہیں ۔ مزید یہ کہ جس بنیاد پر کانگریس پاکستان بننے کی مخالف رہی ہے اسی بنیاد پر ہم اپنے ہاتھوں سے خالصتان کی بنیاد کیسے رکھ سکتے ہیں ،اس سے تو ایک پنڈورا باکس کھل جائے گا۔ یوں ماسٹر تارا سنگھ کو معلوم ہو گیاکہ ایک آزاد سکھ ریاست کے خواب کے بارہ بج چکے ہیں ۔ لیکن مسئلہ یہ تھا کہ وہ تو اپنی قوم کو اسی وعدے کی بنا پر پاکستان سے توڑ کر لائے تھے۔ دکھانے کی خاطر یا حقیقت میں ، وہ بیچارے چودہ برس تک بھارتی حکومت سے یہ مطالبہ کرتے رہے۔ لیکن کوئی پیش رفت نہ ہوئی۔ جب ان کی قوم نے ان کے اخلاص ہی پر سوال اٹھا دیے تو اپنی بات کو سچ ثابت کرنے کے لیے انھوں نے 1961 میں مرن بھرت یعنی تادم حیات بھوک ہڑتال کرنے کا اعلان کردیا۔ اب موصوف کو ئ گاندھی جی تھوڑے تھےجو اپنی بات کا واقعی پالن کرتے . اڑتالیس دنوں میں ہتھیار ڈال دیے اور کوئی سنجیدہ یقین دہانی لیے بغیر ہی ہڑتال ختم کر دی۔ اب تو سکھ برادری ان سے بہت ناراض ہو ئ اور ان کو غدار کہنا شروع کر دیا۔ سکھوں کی ایک مخصوص عدالت نے انھیں اپنی صفائی پیش کرنے کے لیے کہا۔ مگر وہ اپنی وفاداری نہ ثابت کے سکے اور انھیں باقاعدہ غدار قرار دے دیا گیا۔ چنانچہ جسونت سنگھ نے اپنی کتاب A history of Sikhs میں لکھا ہے کہ ماسٹر تارا سنگھ اپنے مطالبے کے ساتھ مخلص نہیں تھے۔ اور ان پر واضح تھا کہ ھندستان کے لیے خالصتان کا قیام ایک ناممکن العمل مطالبہ ہو گا۔ ماسٹر تارا سنگھ کے ساتھ تو سکھوں نے لعنت ملامت تک معاملہ رکھا لیکن جب انتہا پسند سکھوں نے 1971 میں اپنے مطالبے منوانے کے لیے باقاعدہ علیحدگی کی تحریک چلانے کا اعلان کیا تو ان کی بیٹی راجندر کور نے متحدہ بھارت کے ساتھ وفاداری کا اعلان کر دیا۔ وہ ایک معروف صحافی خاتون تھیں ۔ باپ کا غصہ ان پر نکالا گیا اور 1989 میں انھیں قتل کر دیا دیا۔ یوں ماسٹر تارا سنگھ اور ان کے خاندان کا سکھوں کی آزادی کی تاریخ سے خاتمہ ہو گیا۔

مزید پڑھیئے: سکھوں سے دوستی اور دشمنی کی داستان ہوش ربا! قسط 1

جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا کہ حکومت سےمایوس ہونے کے بعد علیحدگی پسند سکھوں نے اب آخری حد تک جانے کا اعلان کر دیا تھا۔ چنانچہ 1971 میں ایک دولت مند سکھ جگجیت سنگھ چوہان نے نیویارک ٹائمز میں آزاد خالصتان کا اشتہار دے کر بھارت سرکار کی نیندیں حرام کر دیں۔اس وقت اندرا گاندھی کی حکومت تھی۔ اس نے اپنی طرف سے ایک نیا ماسٹر تارا سنگھ بنانے کی کوشش کی اور ایک قدرے کم مقبول لیڈر جرنیل سنگھ بھنڈراں والا کی اکالی دل کے مقابلے میں حمایت کر دی۔ مگر وہ بھارتی حکومت کے گلے میں ہڈی بن گئے۔ وہ کانگریس کی مدد سے الیکشن جیتے لیکن پھر اپنے خالص سکھ تشخص کو لے کر آگے بڑھتے گئے۔ ایک وقت وہ آیا جب انھوں نے اکالی دل ( تقسیم سے پہلے قایم ہونے والی سکھوں کی سیاسی جماعت)کوبھی ساتھ ملایا اور" دھرم یدھ مورچہ " کے نام سے متحدہ محاذ بنا لیا۔ تحریک متشدد بھی ہو گئی۔ یہاں تک کہ تین ہواءی جہاز بھی اغوا ہوءے ۔ 1985 میں ٹورنٹو جانے والے بھارتی طیارے کو اغوا کیا اور پھر طیارہ تباہ ہوگیا اور 328 مسافر مارے گئے۔ پورے پنجاب میں فسادات پھیل گئے۔ یہ صورتحال اس وقت شدید ہو گئی جب بقول بھارتی حکومت پاکستان سے بھی اس تحریک کو مدد ملنے لگی۔ یہ ضیاء الحق کا زمانہ تھا جو امریکہ کے ساتھ مل کر افغانستان میں روس کے خلاف جنگ کر نے کی وجہ سے اس کی آنکھوں کا تارا بن چکے تھے ۔ اور اس کا ضیاء نے یہ فایدہ اٹھایا کہ ھندستان کے اندر متعدد علیحدگی کی تحریکوں کو ہوا دی تاکہ پاکستان ہندستان سے بالکل بے فکر ہو جائے۔ اور امریکی حکومت نے پاکستانی موقف کو مان لیا اور یوں پاکستان کو مشرقی پاکستان کا بدلہ لینے کا موقع مل گیا۔ پھر قدرت نے عجیب نظارہ دیکھا کہ جس سکھ فوجی میجر جنرل شا بیگ سنگھ نے مکتی باہنی ( پاکستان کے خلاف بغاوت کرنے والی بنگالیوں کی تنظیم)کی تربیت کی تھی اسی نے جرنیل سنگھ بھنڈراں والے کے ساتھ ملنے کا اعلان کیا اور سکھ باغیوں کی تربیت کی۔ کہا جاتا ہے کہ تاریخ کا سب سے بڑا سبق یہ ہے کہ اس سے کسی نے سبق نہیں لیا۔ شاید یہ بات برصغیر پاک و ہند کے حکمرانوں کے لیے زیادہ درست ہو۔ چنانچہ جب معاملاتِ اس حد تک بگڑ گئے کہ پنجاب کی پولیس تک مرکزی حکومت کی باغی ہو گئی تو 1984 میں آپریشن بلیو سٹار ہوا۔ امرتسر گولڈن ٹمپل میں مورچہ زن جرنیل سنگھ بھنڈراں والا اپنے تمام ساتھیوں سمیت ہلاک کر دیا گیا۔ پاکستان میں اوریا مقبول جان اور زید حامد قسم کے لوگ بہت خوش تھے کہ آج سکھوں سے1831 میں بالا کوٹ میں سید احمد شہید اور شاہ اسماعیل شہید کا بدلہ لے لیا۔ اس آپریشن اور پورے پنجاب سے کشمیر جیسا سلوک کرنے کی وجہ سے خالصتان تحریک کا وقتی طور پر صفایا ہو گیا۔ لیکن اسی برس اندرا گاندھی کے قتل نے اس تحریک کو ایک بالکل ہی نیا رخ دے دیا۔

مزید پڑھئیے: سکھوں سے محبت کی قیمت قسط 2
آپریشن بلیو سٹار کا حکم دینے والی اور مشرقی پاکستان کو بنگلہ دیش بنا کر اپنی قوم کی اس آہنی خاتون کو اس کے دو سکھ گارڈوں نے اکتوبر کی ایک صبح قتل کر دیا۔ یہ دونوں بہت ہی سکھ قسم کے گارڈتھے۔ ایک کا نام بے انت سنگھ اور دوسرے کا ستونت سنگھ تھا۔ اس کے بعد پورے ھندستان میں سکھوں کا قتل عام ہوا۔ مجھے ان دنوں نوائے وقت کی سرخیاں یاد ہیں :
دہلی میں 1947 کے مناظر۔۔۔ ہر طرف سکھوں کی لاشیں ۔۔۔۔ اٹھانے والا کوئی نہیں۔وغیرہ
ان فسادات میں ہونے والے خوف ناک مظالم نے عام سکھوں کے اندر خالصتان تحریک کے لیے نئی ہمدردیاں پیدا کر دیں ۔ یوں اس واقعے نے اس میں زندگی پیدا کردی ۔ اس کا ایک دوسرا پہلو یہ ہوا کہ ہزاروں سکھ برطانیہ،کینیڈا، آسٹریلیا اور خلیج ممالک میں چلے گئے۔ ان کے رشتے دار پہلے ہی وہاں ہر تھے ۔ ۔سکھوں کی بڑی مضبوط روایت ہے کہ وہ مانگتے نہیں۔ آپ کو کوئی بھکاری سکھ آج تک نہیں ملا ہوگا۔ اپنی قوم کے لوگوں کی مدد کرنے کا بہت خوب صورت جذبہ رکھتے ہیں ۔ چنانچہ خود ہندستان میں تو جنرل ضیاء کے بعد آہستہ آہستہ خالصتان تحریک دبتی گئی لیکن بیرون ملک وہ آج بھی بہت توانا ہے۔ اور کینیڈا،امریکہ اور یو کے میں ان کی بہت سی تنظیمیں آج میں ایکٹو ہیں۔ بھارت کا اصل خوف یہی ہے کہ یہ تنظیمیں کرتار پور کے گوردوارے کے ذریعے سے پاکستان کی آلہ کار بن سکتی ہیں ۔ کیونکہ جن لاکھوں سکھوں کے انسانی حقوق کو پامال کیا گیا ہے وہ اپنا بدلہ لینے کے لیے کسی بھی حد کو پھلانگ سکتے ہیں ۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ مودی حکومت بلوچستان اور افغانستان میں جو کھیل پاکستان کے خلاف کھیل رہی ہے وہ اسے بند کرنا پڑے گا ورنہ خالصتان کا جن دوبارہ بوتل سے باہر آسکتا ہے۔اور اب اس جن کے اندر چینی ٹکنالوجی بھی شامل ہو سکتی ہے۔ وزیر اعظم عمران خان نے درست کہا ہے کہ سکھوں کے لیے لاہور ، کرتار پور اور پنجہ صاحب مکہ مدینہ کی حیثیت رکھتا ہے،اس لیے مودی سرکار اب کم از کم اس مسءلے میں بیک فٹ پر ہے۔ اس سب کے باوجود
ہمارا ماننا ہے کہ تخریب سے کبھی تعمیر ممکن نہیں ۔ خالصتان ہو یا کشمیر ،بلوچستان ہو یا افغانستان ،مذہبی جذبات کے ذریعے سے تخریب کاری کبھی کسی کو منزل تک نہیں پہنچا سکتی۔آپ اس کا نام جو بھی رکھ لیں، سب کا انجام ایک جیسا ہے ۔ اس بزم میں جو بھی گیا،اس کا حال وہی ہے جو چچا غالب نے بہت پہلے بیان کر دیا ہے کہ
بوئے گل نالۂ دل دود چراغ محفل

جو تری بزم سے نکلا سو پریشاں نکل

مزید پڑھئیے: سکھوں سے محبت کی قیمت قسط 2

مزید پڑھیئے: سکھوں سے دوستی اور دشمنی کی داستان ہوش ربا! قسط 1

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *