مدر ٹریسا ایوارڈ ہولڈر سلمان صوفی!

ہم لوگ اس لحاظ سے ’’دوسرے بہت سے لحاظوں ‘‘ کے علاوہ بہت بدقسمت ہیں کہ اگر خوش قسمتی سے کوئی ایسا شخص ہمارے درمیان پایا جائے جو غیر معمولی طور پر ذہین ہو، اپنی فیلڈ میں یکتا ہو اور ایماندار ہو، اول تو اسے ہم نظر انداز کرتے ہیں اور اگر خوش قسمتی سے وہ نظر انداز ہونے سے بچ جائے اور اس کے ذمے کوئی اہم کام لگا دیا جائے تو اس کے ساتھ کام کرنے والے نالائق اور سازشی قسم کے لوگ، اس کے خلاف سازشیں شروع کر دیتے ہیں۔ چونکہ وہ شخص اپنی تمام تر اہلیت کے باوجود سازش کرنے کا اہل نہیں ہوتا، چنانچہ وہ دل برداشتہ ہو جاتا ہے اور اپنا کام دلجمعی سے کر نہیں پاتا۔میں اس وقت ٹیکنو کریٹس کی بات کر رہا ہوں۔ان کے ساتھ ایک بدقسمتی یہ بھی ہوتی ہے کہ یا تو انہیں ان کی خدمات کے دوران فارغ کر دیا جاتا ہے ، ورنہ نئی حکومت اسے گزشتہ حکومت کا’’آدمی‘‘ سمجھ کر خود کو اس کی خدمات سے محروم رکھتی ہے ۔ میر ے ایک دوست شاہد ریاض گوندل جرمنی میں ہوتے ہیں وہ گزشتہ حکومت کے دوران پاکستان آئے تو ان کی صلاحیتوں کو دیکھتے ہوئے ان سے انرجی کے منصوبوں میں کام لیا گیا۔ انہوں نے اس شعبے میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا، مگر وہ بھی ایک دن مایوس ہو کر واپس جرمنی چلے گئے۔

قارئین سے معذرت کہ میری تمہید بہت طویل ہو گئی ہے جبکہ میں آج خصوصی طور پر ایک نوجوان (مجھ 76سال کے انسان کو پچاس سال کے لوگ بھی نوجوان تو کیا بچے بلونگڑے لگتے ہیں) کا ذکر کرنا چاہتاہوں۔ میں سلمان صوفی کی بات کر رہا ہوں جو اب غیر معروف نہیں ہیں بلکہ اس کی خدمات کو عالمی سطح پر سراہا گیا ہے۔ سلمان پاکستانی نژاد امریکی ہے اور ہر پاکستانی نژاد کی طرح اس کا دل پاکستان کی محبت سے لبریز ہے اور ان میں سے ہمیشہ اپنی سطح پر کچھ نہ کچھ کرنا چاہتے ہیں۔ سلمان صوفی بہت GNNOVATIVEہے۔ اس نے پاکستان میں اس لحاظ سے انوکھی چیزیں روشناس کرائیں جو ہماری ضرورت تھیں لیکن دقیا نوسی سوچیں ایک حد تک ہی سوچ سکتی ہیں۔ تاہم جنہیں احساس تھا کہ یہ اہم کام ہیں ، ان کی طرف سے سلمان صوفی کو بہت پذیرائی ملی ، مگر یہاں بھی اس کے خلاف سازشیں شروع ہو گئیں اور اب وہ واپس امریکہ چلا گیا ہے۔

سلمان صوفی نے گزشتہ حکومت نےا سٹرٹیجک ریفارمرز یونٹ کے نام سے ایک ادارہ قائم کیا۔ جس کی سربراہی سلمان صوفی کو سونپی گئی اس ادارے نے کئی بڑے اداروں کے مقابلے میں صرف پانچ لوگوں کی ٹیم کے ساتھ تیس سے زیادہ پروجیکٹ کیے اور ایک نئے نظام کی بنیاد رکھی۔ جس میںنئے گریجویٹس کو بیوروکریسی کے شانہ بشانہ کام کرنے کا موقع دیا گیا۔ اس چھوٹی سی ٹیم نے عوامی فلاح کے شہرہ آفاق کام کئے جس میں عورتوں کے تحفظ کے لئے بل ، انسدادِ تشدد مرکز برائے خواتین جس کو پوری دنیا میں سراہا جا رہا ہے، قائم کیا۔ ان مراکز میں تشدد کا شکار خواتین کو خاتون پولیس میڈیکولیگل، وکیل، پناہ گاہ، اور نفسیاتی مددایک چھت تلے فراہم کئے جاتے ہیں جس کی مثال پورے جنوبی ایشیا یا مشرق وسطیٰ میں بھی نہیں ہے۔ ان مراکز کو بنانے کے لئے اب اقوام متحدہ بھی سر گرم عمل ہے۔

شہر خموشاں ماڈل قبرستان جو اپنی نوعیت کے واحد قبرستان ہیں ۔جن میں غمزدہ گھرانوں کو اپنے پیاروں کی تدفین کے لئے تمام معاملات ایک کال پر فراہم کر دئیے جاتے ہیں ۔ ان قبرستانوں میں عالم اسلام کے تمام ممالک کی نسبت بہترین سہولیات فراہم کی جاتی ہیں۔ ہمارے گھروں میں وفات پا جانے والے کو غسل کا نہایت ناقص نظام ہوتا ہے۔ ان شہر خموشاں میں غسل دینے کی باعزت جگہ کے علاوہ سرد خانہ بھی فراہم کیا جاتا ہے۔ اور درختوں سے گھرے ہوئے اس شہر خموشاں میں تدفین پوری تکریم کے ساتھ کی جاتی ہے ۔ شہر خموشاں کے علاوہ گاڑی یا موٹر سائیکل کو ڈیلر شپ پر ہی نمبر پلیٹ فراہم کرنے کا سسٹم بنایا گیا جس سے اب تک نہ صرف اربوں کا ریونیو اکٹھا ہوا بلکہ ایجنٹ مافیا سے عوام کی جان بھی چھڑائی گئی۔

اس طرح شروع کئے گئے ای چالان کی قانون سازی بھی اسی ادارے نے کی تھی۔ وویمن پروٹیکشن بل اور شہر خموشاں ماڈل قبرستان کو صحیح طور پر عملدرآمد کے لئے اس ادارے نے دو نئے ڈیپارٹمنٹ بنائے تاکہ ان پروجیکٹس پر عملدرآمدپروفیشنل لوگ کریں اور انہیں صحیح طور پر پورے پنجاب میں پھیلایا جا سکے۔ پنجاب کی کتابوں میں عورتوں کے تحفظ کے لئے مضامین شامل کئے گئے تاکہ نوخیزذہن تشدد کے خلاف تیار ہو سکیں۔ عورتوں کو خود مختار بنانے کے لئے تاریخی پروجیکٹس ’’وویمن اون ویلز‘‘ شروع کیا گیا جس نے پاکستان کی تاریخ میں پہلی دفعہ عورتوں کو سستی موٹر سائیکل ٹریننگ کے بعد فراہم کیں۔ اس کی وجہ سے عورتوں کو معاشی دھارے میں شامل کر کے ایک انقلاب برپا کر دیا ۔ اس یونٹ نے نہایت کم عرصے میں حکومت پنجاب کے پہلے تھنک ٹینک کا درجہ حاصل کیا اس کے علاوہ کئی اور پروجیکٹ ہیں جن کے لئے ایک علیحدہ کالم درکار ہو گا۔ اس ادارے نے اپنے ساتھ کام کرنے والے تمام ڈیپارٹمنٹس کو پورا کریڈٹ دیا اور کبھی تمام کریڈٹ اپنے کھاتے ڈالنے کی کوشش نہیں کی۔ اس ادارے کے ساتھ کام کرنے والے ایک اور ادارے اسپیشل مانیٹرنگ یونٹ نے نہ صرف گھوسٹ اسکولوں کا ناسور ختم کروایا بلکہ ای ویکسینیشن کا نظام بھی متعارف کروایا۔ جس سے پنجاب کے نونہالوں کی بروقت ویکسینیشن کو ممکن بنایا گیا۔

سلمان صوفی نے چار میں سے تین سال رضاکارانہ کام کیا۔ سلمان کو دنیا میں عورتوں کے تحفظ کے لئے کام کرنے والے پانچ افراد میں ہیلری کلنٹن کی فائونڈیشن نے شامل کیا۔ پچھلے ماہ تمام تر تنائو کے باوجود سلمان صوفی کی خدمات کو بھارت میں بھی تسلیم کیا گیا اور انہیں دنیا کے معتبر ترین مدر ٹریسا ایوارڈ سے نوازا گیا جس سے پاکستان کی تمام دنیا میں پذیرائی ہوئی۔ آج اس یونٹ کے کئے گئے تاریخی اقدامات مشکلات کا شکار ہیں اور وجہ وہی سازشیں ہیں، جن کا ذکر ابتدا میں کیا جا چکا ہے۔

سلمان اب خاموشی سے سماج کی خدمت میں مشغول ہیں، و ہ اس کیلئے زیادہ وقت پاکستان میں گزارتے ہیں۔ حکومت وقت کو ان پروجیکٹس کی آبیاری کرنی چاہئے کیونکہ یہ عوامی فلاح کے علاوہ ثواب کا باعث بھی ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *