راہداریاں اور دوسرے امن کے راستے

" اشعر رحمان "

دیکھا تو پھر وہیں تھے چلے تھے جہاں سے ہم

کشتی کے ساتھ ساتھ کنارے چلے گئے

مندرجہ بالا شعر سیف الدین سیف کا ہے۔ آپ میں سے بہت سے لوگ ان کے نام سے واقف ہوں گے جنہوں نے شاعر کے طور پر اپنے شاندار ٹیلنٹ کے ساتھ اپنے وقت کے ترقی پسند لوگوں میں اپنی جگہ بنائی۔ انہوں نے امرتسر اور لاہور  میں ایک اچھی زندگی گزاری  اور اپنی شاعری لکھی جس سے انہیں اپنے زمانے کے لوگوں میں شہرت حاصل ہوئی۔

سیف ایک معلوماتی فلم میکر بھی تھے اور ان کا نام فورا ہی ذہن میں آیا جب پاکستانیوں اور ہندوستانیوں کا ایک گروہ ایک راہداری کے کھلنے پر ایک ساتھ اکٹھا ہوا جو ہندوستانی سیاحوں کو نارووال میں کرتار پور گردوارے میں آنے کی سہولتے فراہم کرے گی۔

سیف الدین سیف نے 1950 کے اواخر میں کرتار سنگھ کی ہدایتکاری کی، کہانی  لکھی  اور پروڈکشن بھی  کی۔ یہ فلم پاکستان میں بنائی جانے والی سب سے زیادہ تبصرے حاصل کرنے والی فلم ہے۔ حالیہ سالوں میں، فلم کی نمائش خاص نظریات کے ساتھ کی گئی اور اس کا انتہائی دیکھنے لائق ورژن انٹرنیٹ پر موجود ہے۔ یہ ان لوگوں کے لیے بے فائدہ مواد ہے جو پاکستان اور انڈیا کو اسی جگہ لٹکائے رکھنا چاہتے ہیں جہاں وہ اس وقت ہیں۔

سیف کی کہانی  انسانی تعلقات اور تنازعات کی ایک داستان ہے  جس میں دوسرے جنم  کے ذریعے دنیا میں آنے والا کرتار سنگھ حادثاتی طور پر بے رحمی سے مارا جاتا ہے  ایک ایسے وقت میں جب وہ اس پار کے لوگوں کو اپنے بچے اُس پار سے لا کر دینے کی کوشش کر رہا ہوتا ہے۔ یہ ایک سبق ہے کہ چیزیں کتنی جلدی کنٹرول سے باہر ہو جاتی ہیں اور بد تر ہو جاتی ہیں ایسے لوگوں کے لیے بھی جن کی ایک ہی وراثت ہو اور وہ صدیوں تک ایک ساتھ جیے ہوں۔

ایک سوشلسٹ یا شاید کمیونسٹ کے طور پر سیف ایسا نہیں چاہتے تھے لیکن کرتار سنگھ کے  تھیم پر کام کی رفتار بہت سست  رہی ہے۔ یہ حقیقت کہ ہم 'کرتار سنگھ'  کی ری میکنگ کو اس رفتار سے جاری نہ رکھ سکے جس طرح اس کی ضرورت تھی، ہمیں یہ بتاتی ہے کہ  یہ معاملہ ہمارے لیے کتنا مشکل رہا ہے۔

ہم، مطلب جو لوگ  پاکستان اور انڈیا میں امن کے خواہاں ہیں،  نے پچھلی سات دہائیاں ایک صحیح امتزاج کا انتظار کرتے ہوئے گزاری ہیں۔ ہماری طرف کا  صحیح سیٹ اپ اور  اس کا بھارت میں موجود سیٹ اپ کے ساتھ ایک جیسا امتراج امن و امان کی امید پیدا کرتا ہے۔ یہ دیکھا گیا ہے کہ  جہاں تک قابل ذکر کردار کی بات ہے تو ہمیشہ ہماری طرف سے ہی صورتحال کو بہتر کرنے میں مدد ملی ہے اور ہماری طرف سے بہتری کے امکانات ہمیشہ زیادہ رہے ہیں۔

امید ہمیشہ سے یہ تھی کہ دوسری طرف کے سنجیدہ لوگ جن کے ساتھ ہمارا ملا جلا ورثہ ہے،  اپنے مطابق لیڈر سامنے لا کر مسئلہ کا با معنی حل  تلاش  کریں۔  موقف کا تبادلہ اکثر ہوتا رہا ہے۔ ایسے فارمولے جن سے معجزاتی دوستی کا ماحول قائم ہو سکے  کہ آزادی سے قبل کی طرح لوگ آپس میں مل سکیں ۔ سب سے آسان فارمولا مشرف نے دیا جب وہ بھارت کے ساتھ آگرہ میں مذاکرات کرنے گئے ۔ اس موقع کی ناکامی کو ایک بہت بڑی ناکامی سمجھا جاتا ہے۔

ان کے کچھ ثنا خوان آج بھی یہ مانتے ہیں کہ جنرل مشرف کچھ ایسی خفیہ صلاحیتوں کے مالک تھے کہ وہ  خود سے ملنے والوں پر استعمال کر سکتے تھے ۔مختصر جوابات  کی تلاش کے ایک لمبے سلسلے میں،  وہ خود پاکستان کے ون مین سکواڈ بن گئے  اور اپنین شخصیت کے ذریعے تقریبا  ایک مستقل حل کے قریب بھی پہنچ گئے  جب انہوں نے اٹل بہاری اور ان کے ساتھیوں کے ساتھ مل کر مسئلہ کشمیر پر کام شروع کیا۔ ۔ لیکن اسی وقت ہندوستانی جمہوریت نے مشرف کی کوشش کو ناکام بنا دیا۔

ملک میں بہت سے لوگ یہ سمجھتے ہیں انہوں نے بہت قریب سے موقع ضائع کیا۔ چونکہ پاکستان میں ہم اکثر سمجھتے ہیں کہ اتفاق رائے جمہوریت کی  ہی ایک دوسری شکل ہے، یہ سمجھ لیا گیا کہ مشرف کی کوشش بے کار تھی  اور ہمیں کسی اور ایسے بھادر جرنیل کی ضرورت ہے  جو ہمیں بھارت پر فتح دلا سکے  یا پھر  ہمیں چاہیے تھا کہ ہم کوئی متبادل حل تلاش کرتے۔

متبادل حل اصل میں حقیقی جواب تھا۔ یہی حقیقی جواب ہو سکتا تھا۔ حالیہ عشروں میں شاید اس سے بھی بڑھ کر بلکہ شاید اس سے پہلے بھی، ہمیں پاکستان میں یہ بتایا جاتا رہا کہ چند ایسی پکی نشانیاں ہوں گی جو انڈیا پر اصل اور ناقابل واپسی مثبت تحریک کی علامت ثاببت ہوں گی۔ ہمیں یہ تصور دیا جاتا رہا کہ  بھارت سے بہتر تعلقات کے لیے پنجاب جیسے غالب اکثریت والے صوبے کی حکومت اور وزیر اعظم  کے آرمی چیف کے ساتھ مضبوط تعلقات   درکار ہوں گے۔

اس وجہ سے بھی وہ لوگ  تین بار منتخب وزیر اعظم نواز شریف پر آرمی چیف سے تعلقات کے معاملے میں پالیسی پر نظر رکھنے کے خواہاں تھے ۔ اس وقت نظر رکھنے والوں نے یہ محسوس کیا کہ میاں صاحب  دوسرے ممالک سے تعلقات کے معاملے میں اور خاص طور پر بھارت سے تعلقات کے معاملے میں اپنے آرمی چیف کو نمایاں حیثیت نہیں دینا چاہتے تھے۔اس نظریہ کی قسم کھانے والوں کو خواب چکنا چور ہوا  اور انہیں باجوہ اور عمران کی صورت میں ایک نیا کمبی نیشن دیکھنے کو ملا۔

نئی توقعات اور خوابوں کو 'جادو کی جپھی' کے نظریے سے منسلک کیا جاتا ہے یا معجزانہ شفایابی اثر سے  جوڑا جاتا ہے جس   کامظاہرہ جنرل باجوہ کے اگست میں سابق انڈین کرکٹر اور سیاست دان نوجوت سنگھ سدھو کے اسلام آباد میں پرتپاک استقبال کے موقع پر ہوا۔ کرتار پور کا راستہ جس کا افتتاح بدھ والے دن ہوا ایک نئی شروعات ہے ۔ امید ہے کہ اس موقع کو ضائع نہیں کیا جا ئے گا اور  نہ ہی یہ اقدام زیادہ متنازعہ معاملات  کو گہنانے کے لیے استعمال ہو گا جن میں سب سے اہم مسئلہ کشمیر ہے۔  ضروری ہے کہ  کشمیر کے مسئلہ کو  بھی مسئلہ سمجھ کر اس پر مذاکرات کے ذریعے حل تلاش کیا جائے۔

 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *