ٹویٹر پر پاک بھارت جنگ

پاکستان اور انڈیا کے وزیر خارجہ کے درمیان بچگانہ ٹویٹس کا تبادلہ یہ  ظاہر کرتا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان ڈپلومیسی کس حد تک  پستی کا شکار ہو چکی ہے۔

ایک وقت تھا جب دشمن  ممالک بھی اپنے جوابات میں تہذیب کے دائرے کا خیال رکھتے تھے۔  اب، ٹویٹر کے اس دور میں ، ٹویٹر پر ایک دوسرے پر گھٹیا زبان میں حملوں کو بھی پالیسی سمجھا جاتا ہے۔ جب ہمارے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی  نے بڑے فاتحانہ انداز میں یہ ٹویٹ کیا کہ عمران خان نے سکھ حاجیوں کے لیے کرتار پور راہداری کھول کر ''گوگلی ماری ہے''، تو لگتا ہے کہ وہ اس بات سے بے خبر تھے کہ خان ایک فاسٹ باؤلر تھے جنہوں نے غالبا زندگی میں کبھی گوگلی نہیں پھینکی۔

ان کی انڈین ہم منصب سشمہ سواراج نے اپنی  خاص  صلاحیت کے مطابق جوابی ٹویٹ کیا  جس سے  ان کی طرف سے بھی کوئی عقلمندی کا طریقہ اختیار کرنے کا تاثر نہیں ملا۔  درحقیقت انہوں نے  یہ بتانے کی کوشش کی کہ اس چھوٹے سے اقدام سے ہمسایہ ممالک میں تعلقات کی بہتری کی امید نہ رکھی جائے۔ اس  جواب نے وزیر اعظم کے اس اقرار پر ٹھنڈا پانی پھیر دیا جس میں انہوں نے کہا تھا  کہ اگر انڈیا امن کی طرف ایک قدم بڑھاتا ہے وہ دو قدم بڑھائیں گے۔ لگتا ہے اب وہ امن کی کوششوں کے حوالے سے اگلے سال الیکشن کے انتظار پر ہی اکتفا کرنے پر راضی ہیں۔

تاہم، مسئلہ یہ نہیں ہے کہ کونسی پارٹی جیتے گی تو  امن کی راہ کھلے گی کیونکہ امن کے لیے بھارت میں کچھ شرائط پر ساری پارٹیاں متفق نظر آتی ہیں۔ دہشت گردوں کے حملوں ، جن کا الزام ہمیشہ پاکستان کو دیا جاتا ہے کی وجہ سےبھارت میں امن کی تحریک کمزور پڑ گئی ہے  اور شدت پسندوں کو غلبہ حاصل ہو گیا ہے۔  2008 میں ممبئی میں ہونے والے وحشی حملے کو لشکر طیبہ کے ساتھ جوڑا جاتا ہے جس نے 166 زندگیاں لیں۔ یہ حقیقت کہ اس حملے کے مشتبہ افراد کو ایک عشرہ بعد بھی ابھی تک پاکستانی عدالت نے سزا نہیں سنائی، ہمارے لیے بہتر تعلقات میں ایک مستقل رکاوٹ ہے۔

انڈیا کی  فوجی اور معاشی قوت تیزی سے بڑھ رہی ہے  اس لیے اس کے لیے ہمارے چھوٹے چھوٹے اقدامات پر جواب دینا اتنا ضروری نہیں سمجھا جاتا۔ اور جب کبھی ا من کی بات ہوتی ہے تو انڈین ہمیں واجپائی کے لاہور دورے کی یاد دلاتے ہیں جس کے فوری بعد مشرف نے کارگل جنگ چھیڑ دی تھی۔  دنیا کی نظروں میں پاکستان ایشیا میں جارحیت کو فروغ دینے والا ملک ہے۔

ہمارے ہمسایے کے اندازے کے مطابق پاکستان کو ہمارے مسائل سے انڈیا کی بنسبت زیادہ فائدہ حاصل ہونے کا امکان ہے۔ ہماری معیشت ہلچل کا شکار ہے، اور ہماری وسیع  دفاعی اخراجات کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ انڈیا کے ساتھ تجارت ہماری  معیشت میں  بہتری  کی ضامن ہو گی ۔ یہی وجہ ہے کہ اسٹیبلشمنٹ حکومت کے تعلقات کو نارمل کرنے کی کوششوں میں حکومت کے ساتھ ہے۔ اسٹیبلمشنٹ کا یہ رویہ نواز شریف کے ساتھ بھارت سے تعلقات کے معاملے میں اختیار کیے گئے رویہ کے بر عکس ہے۔ اپنے حالیہ عہدے تک پہنچنے سے پہلے عمران خان  بھی دوسرے لوگوں  کی طرح شریف حکومت کی تعلقات کو نارمل کرنے کی  کوشش پر سخت تنقید کرتے تھے۔

پاکستان کی طرف سے بہتر تعلقات  نہ صرف معاشی وجوہات کے لیے بلکہ ہمارے ڈیفنس اخراجات کے بوجھ کو کم کرنے کے لیے بھی ضروری ہیں۔ ہرسال پاکستان اور بھارت کی فوجی صلاحیتوں میں فرق بڑھتا  جاتا ہے  کیونکہ بھارت نہ صرف اہم ممالک سے ہتھیار درآمد کرتا ہے بلکہ مقامی سطح پر بھی  ہتھیار بنانے میں مگن رہتا ہے۔ روس سے S-400 اینٹی ایئر کرافٹ اور اینٹی میزائل سسٹم  انڈیا کے اسلحہ خانے میں آنے والا تازہ ترین اضافہ ہے ۔ یہ ہتھیار بھارت نے  5 ارب  ڈالر سے زائد قیمت ادا کر کے خریدیے ہیں جو پاکستان  کے لیے ناممکن ہے۔

تعلقات کو راہ پر لانے کی مد میں  کشمیر سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ 7 دہائیوں سے پاکستان اور انڈیا اس معمے کو حل کرنے میں ناکام رہے ہیں، اور دونوں نے اپنے  اپنے موقف پر اڑے رہنے کی ضد لگا رکھی ہے جس میں کوئی بہتری  یا جان چھڑانے کی صورت نظر نہیں آتی۔  ہم کشمیر کے لیے ایک جنگ کے دھانے پر ہیں اور ہمیں سیکھنا ہو گا کہ اس مسئلے کا حل طاقت سے کبھی نہیں ہو سکتا۔ اس معاملے کو حل کرنے میں ڈپلومیسی بھی ناکام ہو چکی ہے۔

آج زندگی میں پہلی مرتبہ پاکستان تنہا کھڑا ہے اور دوستوں سے مدد کے حصول کے لیے بے تاب ہے۔ حتی کہ چین نے بھی اس معاملے کو حل کرنے کے لیے  باہمی مذاکرات  کی تجویز دی ہے۔ہم بار ہا اقوام متحدہ سے درخواست کر چکے ہیں کہ  وہ رائے شماری کے بارے میں اپنی قراردادوں پر عمل کرے  لیکن سلامتی کونسل کا کوئی بھی رکن ملک بھارت کو ناراض نہیں کرنا چاہتا اس لیے بھارت کے کشمیر پر دعوے پر سوال نہیں اٹھائے جاتے۔ سچ یہ ہے کہ دنیا کشمیر کے مسئلے سے تنگ آ چکی ہے۔اگرچہ ہم پاکستانی کشمیریوں سے اس نا انصافی کو نا پسند کرتے ہیں لیکن ہمیں یہ یاد رکھنا ہے کہ  دنیا کوئی اچھی جگہ نہیں ہے۔

تو اگر کوئی ملٹری یا سفارتی حل نہیں ہے تو پھر کیا رہ جاتا ہے؟ ہم اس عشروں کی اس مشکل کو کیسے حل کر سکتے ہیں؟ ہم ایک طرفہ اقدام کر سکتے تھے جو انڈیا کے لوگوں اور سیاست دانوں کو آمادہ کرتا کہ امن کے معاملے میں ہم مخلص ہیں۔ یہ اقدام ویزوں پر پابندیاں ہٹانے اور پھر بھارت کے افغانستان اور دوسرے ممالک میں اشیا لے جانے والے ٹرکوں کے لیے بارڈر کھولنے سے شروع ہو سکتے  ہیں۔

سوویت یونین امریکن ڈیفنس اخراجات کی برابری کرنے کی کوشش  میں برباد ہوا۔  یقینا یہاں ہمارے لیے ایک سبق ہے۔ ہمارے علاقائی سطح پر عدم توازن اور ہماری معیشت کو فروغ دینے کی ضرورت کے پیش نظر ترقی میں حد سے زیادہ تیزی دکھانے کے علاوہ  کوئی اور بہتر طریقہ نہیں ہے۔ متبادل حل یہ ہے کہ ہم مزید پستی کی طرف سفر جاری رکھیں  اور ہمسایہ ممالک ترقی کرتے ہوئے ہم سے بہت آگے نکل جائیں۔

 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *