دوسرے ممالک کی نظر میں پاکستان کا کرنٹ اکاونٹ

نادر چیمہ "

غیر معمولی ایکسچینج ریٹ ایڈجسٹمنٹ  اور آئی ایم ایف کے پاس بار بار جانے  جیسے معاملات  کا تعلق پاکستان کے کرنٹ اکاونٹ خسارے سے ہے۔

ہر پانچ چھ سال بعد  ملک کوبیرونی مالی حالات میں تنگی  بڑھ جاتی ہے، جس کی بنیاد یہ چند وجوہات ہیں : خرچ یا انوسٹمنٹ  میں عدم توازن، سیاسی عدم استحکام، یا پھر ایک غیر متوقع عالمی معاشی تبدیلی (مثلا آئل کی قیمت میں کمی یا تیزی)

اس بار بھی کچھ الگ نہیں ہو رہا۔ 2015 میں   کرنٹ اکاونٹ خسارہ کی شرح $2.7 بلین (GDP کا ایک فیصد ) تھی جو 2018 میں $18.2 بلین(GDP کا  5.9 فیصد) تک پہنچ گئی جس کی وجہ امپورٹس میں اضافہ ہے  جس میں سی پیک پراجیکٹ بھی شامل ہے، سیاسی عدم استحکام جو الیکشن تک جاری رہا اور تیل میں قیمتوں میں کمی ہیں۔

اصل سوال یہ ہے کہ  اپنے ساتھی ممالک کے بر عکس ہم کیوں بار بار ایک غیر یقینی صورتحال کا سامنا کرتے ہیں؟  ساتھی ممالک کو بھی ایسی ہی حقیقتوں کا سامنا رہتا ہے لیکن وہ کبھی بھی IMF کے دروازے  نہیں کھٹکھٹاتے۔  کیا یہ سب اس لیے ہوتا ہے کیوں کہ  ان کے پاس بڑے   سرمایا کار ہیں یا وہ تجارت میں اتنا نہیں بڑھے  اس لئے انہیں  تجارت سے متعلق جھٹکے نہیں  لگتے یا ان کی سرمایا کاری  اور  کرنٹ ااکاونٹ کا ڈھانچہ بہت مضبوط ہے؟

یہ کچھ اہم سوالات ہیں جو پوچھے بھی جانے چاہیں  اوران کے  جواب   بھی ملنے چاہیں۔ جیسا کے وزیر خزانہ  نے کہا: اس بار آخری بار ہم آخری بار آئی ایم ایف کے پاس جائیں گے ۔

اس آرٹیکل میں پاکستان کے مقابل ممالک کے ساتھ موازنہ کرتے ہوئے  کرنٹ اکاونٹ سٹرکچر  اور اس کے فنانسنگ کمپونینٹس  کا تجزیہ پیش کیا جائے گا۔ ان ممالک میں بنگلہ دیش، مصر، انڈیا، انڈونیشیا، ملائشیا، مراکش، فلپائن، سری لنکا، تھائی لینڈ، تیونیزیا، ترکی اور ویتنام شامل ہین۔ ہمارا خیال ہے کہ پاکستان کے کرنٹ اکاونٹ خسارے کے سٹرکچرل روٹ پر نظر ڈالی جائے تا کہ آئی ایم ایف پروگرام کو سامنے رکھتے ہوئے ایک مستقل حل تجویز کیا جا سکے۔ یہاں ہم کچھ اہم مشاہدات کا ذکر کریں گے۔ جن ممالک کے ساتھ پاکستان کا موازنہ کیا جاتا ہے ان کے مقابلے میں پاکستان کا کرنٹ اکاونٹ خسارہ اتنا زیادہ نہیں ہے۔ ہمارا کرنٹ اکاونٹ خسارہ 2.5 فیصد ہے جب بھارت کے 2.2 فیصد سے معمولی مقدار میں زیادہ ہے۔ مصر، مراکش، سری لنکا، ترکی ، تیونیزیا اور ویتنام کے مقابلے میں یہ خسارہ کم ہے۔

اس سے یہ اندازہ ختم ہو جاتا ہے کہ  پاکستانی نیشنلز  پچھلی ایک دہائی سے اپنی کمائی سے زیادہ  خرچ کرتے رہے ہیں۔ اس کے باوجود جی ڈی بی کے 2.5 فیصد کی شرح سے پاکستان کے کرنٹ اکاونٹ خسارہ  پاکستان کے ہمسایہ ممالک  (ملیشیا، تھائی لینڈ اور ترکی جیسے امیر ممالک کو چھوڑ کر ) میں سب سے آگے ہے۔  لیکن یہ صورتحال ٹریڈ کے لیے کھلا ہونے سے مشروط نہیں ہے ۔ پاکستان کی ٹریٹ ٹو جی ڈی پی کی شرح اس گروپ میں سب سے کم ہے۔ سب سے بڑا ایشو کم زخائر ہیں ۔ پاکستان کے فاریکس ریزروز کی ایوریج  گروپ ایویج کی جی ڈی پی کے 19 فیصد کے مقابلے میں جی ڈی پی کا 5 فیصد ہے    جب کہ ملائیشیا  کے لیے یہ شرح 35 فیصد کی متاثر کن سطح پر پہنچی ہوئی ہے۔ کرنٹ اکاونٹ  کے سٹرکچر میں بہت گہرائی تک جانا مناسب نہیں ہو گا۔  یہ واضح ہے کہ ہمارے بیرونی عدم توازن  کا معاملہ تجارتی اشیا کے خسارے کو کور کرنے کے  لیے استعمال ہوتا ہے جو جی ڈی پی کا 7 فیصد ہے  اور باقی ممالک کے مقابلے میں  زیادہ ہے۔  ایشین ممالک جن مین انڈونیشیا، تھائی لینڈ اور ملائشیا شامل ہیں،  اور یہاں تک کہ ویت نام اور بنگلہ دیش کے ساتھ بھی ایک مقابلے کی فضا قائم ہے  کیونکہ ان سب مالک کے سرپلس اور معمولی خسارہ  ہے۔  حیرت کی بات یہ ہے کہ ہمارا اشیا کا خسارہ بھارت کے مقابلے میں کم ہے۔

لیکن جہاں ایک طرف انڈیا کی نیٹ سروس ایکسپورٹ ٹورام اور آئی سی ٹی سیکٹر کی وجہ سے  جی ڈی پی کا 3.4 فیصد ہے، اس نے اشیا کے خسارے کو کسی حد تک کنٹرول کیا ہوا ہے ، پاکستان کی نیٹ سروس بیلنس  میں جی ڈی پی میں 1.4 فیصد کا خسارہ واقع ہو رہا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کا اشیا اور سروس کا مشترکہ تجارتی خسارہ  گروپ میں سب سے زیادہ ہے جو کہ جی ڈی پی کا 8.4 فیصد بنتا ہے ۔ اس چیزسے یہ اندازہ بھی ہوتا ہے کہ پاکستان میں کس حد تک قابلیت کی کمی ہے۔ لیکن اس خسارے کو بیرون ملک موجود پاکستانیوں کی دولت سے کور کر لیا جاتا ہے ۔ ساتھی ممالک میں پاکستان  کا جی ڈی پی کا 6 فیصد سب سے زیادہ ہے  اور صرف بنگلہ دیش، مراکش اور فلپائن پاکستان سے آگے ہیں ۔

اگرچہ اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اوورسیز پاکستانی ملک کے لیے ایک اثاثہ ہیں لیکن  اس سے   وہ رسک بھی سامنے آتے ہیں جو اس طرح کی کمائی سے جڑے ہوتے ہیں۔اگر  پاکستان کے گلف ریاستوں سے یا مغربی ممالک سے  تعلقات خراب  ہوتے ہیں اور تیل کی قیمتں مسلسل گرتے رہنے سے گلف ممالک کی معیشت کمزور ہوتی ہے  تو یہ ذریعہ آمدن بری طرح متاثر ہو گا۔ اگر یہ بڑھنے میں ناکام رہا تو بھی بہت زیادہ کرنٹ اکاونٹ خسارے کا سامنا رہے گا۔ پاکستان کے کرنٹ اکاونٹ خسارے کی فائنانسنگ سائیڈ  زیادہ واضح نہیں ہے  لیکن اس میں کچھ فوائد ضرور پوشیدہ ہیں ۔

ویتنام کی طرح اگر پاکستان کو آنے والے سالوں میں چین کی فیکٹری بنا دیا جائے تو غیر ملکی سرمایہ کاری ملک میں آ سکتی ہے۔ فارین پورٹ فولیو انویسٹمنٹ  اب تک بہت کم یا ایورج سطح پر رہی ہے  اور اس معاملے میں ہم سری لنکا اور بھارت سے بھی پیچھے ہیں۔ اگرچہ پورٹ فولیو اِن فلو ایک قسم کی   وقتی رقم ہوتی ہے جو کسی بھی وقت رک بھی سکتی   ہے لیکن اس پراسیس میں  قیمت گرتی ہے جس کا ایک مطلب انویسٹر کے ساتھ رسک شئیر کرنا بھی قرار دیا جا سکتا ہے۔ اوورسیز پاکستانیوں کے معاملے میں حکومت پاکستان یہ طریقہ اپنا سکتی ہے۔

اسد عمر  نے درست کہا ہے کہ   ملک میں سٹرکچرل ریفارمز کی ضرورت ہے۔ مذکورہ تجزیہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ ان ریفامز کا  فوکس فارین ایکسچینج ریزروز کو بہتر کرنے پر ہونا چاہیے تا کہ بیرونی جھٹکوں سے ڈیل کرنے میں آسانی ہو سکے۔ (اس معاملے میں ملائشیا سے سبق سیکھا جانا چاہیے)۔ اس کا مقصد پاکستان کی گلوبل انٹگریشن اور تقابل  پر بھ فوکس ہونا چاہیے  خاص طو ر پر سروس سیکٹر میں (جیسا کہ سری لنکا اور انڈیا کی مثال سامنے ہے)۔ ایک اور مقصد ڈائریکٹ  اور پورٹ فولیو چینلز کے ذریعے غیر ملکی سرمایہ کاروں کی توجہ حاصل کرنا بھی ہونا چاہیے  تا کہ ہمیں باہر سے قرض پر انحصار نہ کرنا پڑےے۔ (اس معاملے میں ترکی اور ویتنام کی مثالیں سامنے ہیں) ایسا کرنے کے لیے ہمیں خوشحالی کے دنوں میں زیادہ بچت کرنا ہو گی ، ساتھیوں سے سیکھنے میں دلچسپی دکھانا ہو گی اور گلوبل انویسٹرز سے زیادہ روابط رکھنا ہوں گے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *