“اللہ کی مہمان”

" نزہت وسیم "
یہ لندن کی مرکزی مسجد ہے جو ریجنڈ پارک میں واقع ہے ۔  لندن میں مسجد کی تعمیر کیسے  ہوئی یہ ایک لمبی داستان ہے جس میں بے شمار لوگوں کی کوشش ، محنت اور دولت شامل ہے ۔ انیسویں صدی کے آغاز سے ہی لندن میں مسلمانوں کے لیے ایک مسجد کی ضرورت محسوس کی جا رہی تھی جہاں نہ صرف یہ کہ مسلمان نماز کی ادائیگی کر سکیں بلکہ اس خطے میں ان  کی موجودگی کا اظہار ہو سکے ۔
۴جون ۱۹۳۷؀ کو جمعہ کے دن نظامیہ مساجد کے زیر اہتمام شہزادہ اعظم جاہ نے جو مملکت حیدر آباد کے آخری حاکم میر عثمان علی خان کے بڑے بیٹے تھے  لندن میں  مسجد کی تعمیر کے لیے ہدیہ دیا اور مسجد کمیٹی کی بنیاد رکھی ۔
۱۹۳۹؀ میں ڈلوبرن کے لارڈ للوئڈ  “برٹش کونسل کے چیئرمین “ سے لندن کی  مشہور مسلم  شخصیات اور  نمائندگان  نے مسجد کی تعمیر کے  سلسلے میں بات چیت کی ۔  اس نے  مسجد کمیٹی سے معلومات لیں اور مدد کرنے کا وعدہ کیا ۔
۱۹۴۰؀ میں لارڈ للوئڈ نوآبادیات کا سکریٹری بن گیا  اس  نے لندن کے پرائم منسٹر ونسنٹنٹ چرچل کو ایک تجویز بھیجی جس میں واضح کیا  کہ  یورپ کے کسی بھی دارالحکومت سے زیادہ مسلمان لندن میں رہائش پذیر ہیں لیکن ان مسلمانوں کے پاس عبادت کرنے کے لیے کوئی مرکزی جگہ موجود نہیں ۔ حکومت برطانیہ کی طرف سے مسلمانوں کے لیے مسجد اور کمیونٹی سنٹر تعمیر کرنے سے جہاں برٹش مسلمانوں میں برطانوی حکومت سے وفاداری کا احساس پیدا ہوگا وہیں مشرقِ وسطٰی کے عرب ممالک پر بھی اس کا بہت اچھا پڑے  گا ۔
ان ہی دنوں  شاہ مصر و سوڈان “فاروق الاول “ نے قاہرہ  میں عیسائیوں کو چرچ بنانے کے لیے وسیع و عریض رقبہ تحفے میں دیا ۔ جواباً جارج ششم نے برطانیہ کے مسلمانوں کو مسجد اور کمیونٹی سنٹر کے لیے زمین تحفے میں دے دی ۔ اور
 ۲۴ اکتوبر کو چرچل وار کیبنٹ اتھارٹیز نے 100.00پونڈ مسجد اور کمیونٹی سنٹر کی تعمیر کے لیے منظور کرلیے ۔
لندن میں مقیم مسلمانوں نے نظامیہ مسجد کمیٹی سے مشورے کے بعد حکومت برطانیہ کا یہ تحفہ قبول کرلیا اور اس پراجیکٹ کا نام بدل کر اسلامک کلچرل سنٹر مع مرکزی جامع مسجد لندن رکھ دیا گیا ۔ جارج ششم نے اس کا باقاعدہ طور پر افتتاح کیا ۔
ستمبر ۱۹۴۷؀میں یہ مسجد کمیٹی  “لندن سنٹرل مسجد ٹرسٹ لمیٹڈ “کے نام سے رجسٹر کر دی گئی اور چھ مسلم ممالک کے سات افراد کو ٹرسٹی مقرر کیا گیا ۔
۱۹۵۴؀سے ۱۹۶۷؀تک  تعمیر کے لیے بے شمار ڈیزائن تجویز کیے گئے لیکن کوئی فیصلہ نہ ہوسکا آخر کارمسجد کے ڈیزائن کے لیے  ایک بین الاقوامی مقابلہ منعقد کیا گیا  جس میں مسلم و غیر مسلم دونوں کی طرف سے تقریبا ایک ہزار ڈیزائن جمع کروائے گئے ۔
 مشہور برطانوی آرکیٹیکٹ فیڈرک گبرڈ  کے  ڈیزائن کا انتخاب کیا گیا جو  لندن کی بے شمار خوبصورت عمارات کو ڈیزائن کرچکے تھے  ۔
مرکزی مسجد اور اسلامک سنٹر کی تعمیر پر تقریباً چھ اعشاریہ پانچ ملین ڈالر لاگت آئی ۔
شاہ فیصل بن عبد العزیز نے دو ملین ڈالر مسجد کی تعمیر کے لیے ہدیہ کئے ۔ اس کے علاوہ متحدہ عرب امارات کے شیخ زید بن سلطان النہیان نے بھی ایک بڑی رقم  سے تعمیر میں اپنا حصہ ڈالا ۔
۱۹۷۴؀ کی ابتداء میں مسجد کی تعمیر کا آغاز ہوا اور جولائی ۱۹۷۷؀میں تکمیل کو پہنچا ۔
۱۹۹۴؀ میں مکمل ہونے والے تعلیمی اور تنظیمی مرکز کے لیے شاہ فہد بن عبد العزیز نے مزید رقم فراہم کی ۔
۱۹۹۷؀ میں راجہ محمودآباد اسلامک سنٹر کے پہلے ڈائریکٹر منتخب ہوئے ۔
مسجد کے مرکزی ہال پر ایک عظیم الشان سنہری گنبد تعمیر کیا گیا  جس میں تقریبا 5٫000 افراد کے لیے نماز کی ادائیگی کی سہولت موجود ہے ۔ عورتوں کے لیے اسی ہال میں بالکونیاں بنائی گئی  ہال میں ایک بہت بڑا ،  خوبصورت فانوس لگایا گیا ، بالکونیوں میں بھی ایک قطار میں رنگین بلبوں والے فانوس لٹکے ہوئے ہیں ۔ پوری مسجد میں خوبصورت ، دبیز اور دیدہ زیب قالین بچھے ہیں اور بہت تھوڑا فرنیچر ہے جو بیٹھ کر نماز پڑھنے والوں کے لیے کرسیوں اور چند ایک رحلوں پر مشتمل ہے
گنبد کے چاروں طرف مخصوص اسلامی طرز تعمیر کے پلرز بنائے گئے ہیں مسجد کا ایک مینار بھی ہے ۔ اس جگہ اسلامی کتب پر مشتمل ایک دکان اور حلال ریستوران بھی بنایا گیا ہے ۔
مزید پڑھئیے: پردے میں رہنے دو
مجھے ریجنڈ پارک مسجد واسلامی سنٹر دیکھنے کی بہت خواہش  تھی ۔ کہیں پڑھا تھا کہ وہاں بہت سے غیر مسلم حلقۃ اسلام میں داخل ہوتے ہیں دل چاہتا تھا کہ وہ جگہ دیکھوں ۔ پہلی بار جب لندن آئی تو بہن سے ذکر کیا لیکن وہاں جانے کی کوئی سبیل نہ بن پائی ۔ اس بار ایک شوق اور لگن تھی جو آخرکار وہاں تک لے گئی ۔ عصر کی جماعت کا وقت گزر چکا تھا اس لیے وہاں نماز عصر انفرادی طور پر ادا کی ۔ بھوک لگ رہی تھی چنانچہ راستے سے لیا ہوا کھانا مسجد کے صحن میں پتھر کے بینچ پر بیٹھ کر کھایا ۔ دسمبر کی ٹھنڈی ہوا بہت ہی سکون بخش تھی مغرب کی نماز میں تقریبا پون گھنٹا باقی تھا اس لیے دوبارہ اندر آگئے ۔ دروازہ کھولتے ہی سامنے کتابوں کی دکان پر نگاہ پڑی کچھ دیر کتابوں کا جائزہ لیا ۔  وہاں سے نکلے تو چائے پینے کے ارادے سے سامنے دکھائی دینے والے ریسٹورنٹ کی طرف چل دئیے جہاں مختلف قسم کے عربی کھانے ، آئس کریم ، طرح طرح کے کیک اور چائے و کافی سب کچھ دستیاب تھا ۔ بہن سے شکوہ کیا آپ نے یہاں سے گرم گرم کھانا کیوں نہیں کھلایا ۔  جواب آیا اب چائے پی لیں ۔ مینیو میں امریکن چائے ، کافی وغیرہ نظر آرہی تھیں دل میں یہی خیال تھا یہاں سے خواہش کے عین مطابق پاکستانی چائے ملنی مشکل ہے ۔ نماز مغرب کا وقت بھی ہونے والا تھا سوچا پہلے نماز باجماعت ادا کرتے ہیں پھر اطمینان سے بیٹھ کر کافی پئیں گے اور ریستوران سے باہر نکل آئے ۔ اچانک بائیں طرف نگاہ پڑی تو چند سیڑھیاں نیچے جاتی دکھائی دیں ذرا غور کیا تو وہاں محمد صلی الله علیہ وسلم ایگزیبیشن کا بورڈ نظر آیا ۔ بے اختیار اس طرف قدم اٹھ گئے ۔ دیوار پر آمنے سامنے چند پینٹنگز لگی تھیں جن میں تصاویر کے ساتھ انگلش میں نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کی حیات مبارکہ کا مختصر تذکرہ تھا ۔ ایسا محسوس ہوا کہ اندر کسی بہن کے قبول اسلام کی مبارکباد دی جا رہی ہے ۔ جلدی سے آگے بڑھے تو ایک بڑا سا ہال کمرہ تھا جس میں ایک طرف خواتین اور دوسری طرف مرد  کرسیوں پر تشریف فرما تھے ۔ ایک خاتون ٹرے میں بہت سے چائے کے کپ رکھے سب خواتین کو پیش کر رہی تھیں اور دوسری خاتون کئی طرح کے بسکٹس  کی ٹرے لیے سب کو کھانے کی دعوت دے رہی تھیں ۔ انہی خاتون سے عرض کی ہم بن بلائے مہمان ہیں تو انہوں نے بہت خوبصورت جواب دیا کہ آپ بن بلائے نہیں بلکہ بلائے گئے مہمان ہیں ۔ ہر ہفتے کی سہہ پہر تین سے چار بجے عصر حاضر کے مسائل سے نبٹنے کےاسلامی طریقوں سے آگاہی کے لیے یہاں بیان اور سوال وجواب کا سیشن ہوتا ہے ۔ جس میں مشہور اسکالرز کی تشریف آوری ہوتی ہے  اختتام پر مختصر تواضح  ہوتی ہے ۔ اگرچہ مجلس ختم ہوچکی ہے لیکن آپ تشریف رکھیں اور چائے وبسکٹ سے لطف اندوز ہوں یہ آپ کے لیے ہیں ۔ انہوں نے زبردستی ہاتھوں میں کپ پکڑا دئیے ۔ وہ پاکستانی چائے تھی ۔ احساس تشکر سے میری آنکھیں بھیگ گئیں ۔ میں یہاں اس چائے کا تصور بھی نہیں کرسکتی تھی ۔ یہ میرے لیے الله سبحانہ وتعالی کے گھر میں خاص دعوت تھی  ۔ چائے پیتے ہوئے جب میں نے اپنی گالوں پر بہتے آنسو صاف کیے تو میری بہن پوچھنے لگی کیا ہوا میں نے  کہا کچھ نہیں اس کیفیت کا بیان ممکن نہیں اس لیے
 “پردے میں رہنے دو”

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *