مولاناحسن جان کے رحلت سے پیدا ہونے والا خلاء مدتوں پر نہیں ہوسکے گا

شیخ مولانا حسن جان ایک جید عالم دین اور اتحاد بین المسلین کے داعی تھے اور ایسے ہستیاں صدیوں میں بہت کم پیدا ہوتے ہیں۔جے یوآئی
چمن ۔۔۔۔ جمعیت علماء اسلام ضلع قلعہ عبداللہ چمن کے رہنماء اور مدرسہ بحرالعلوم چمن کے نائب مدیر مولانا حافظ محمد صدیق مدنی نے بقیۃ السلف شیخ الحدیث والقرآن حضرت مولانا حمداللہ جان  کی اس دار فانی سے رحلت ہونے پر دلی رنج وغم کے اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس ہستی کے رحلت سے جوامت مسلمہ میں پیدا ہونے والا خلاء مدتوں پر نہیں ہوسکے گا ۔مولانا حمداللہ جان ا ایک جید عالم دین اور اتحاد بین المسلین کے داعی تھے اور ایسے ہستیاں صدیوں میں بہت کم پیدا ہوتے ہیں اور بعض فہم وعقل، اخلاص وللہیت اور عزم و استقلال کی پیکر خدا شناس ہستیاں ایسی ہوتی ہیں کہ جن کا کاز اور مقصد حیات اس قدر عالی کردارکاحامل ہوتا ہے کہ ان کی داستانِ حیات آب زر سے کتابت کے لائق ہوتی ہے،جو اس دارِ فانی کو خیرباد کہہ کر اُس میں ایسا رستا ہوا زخم چھوڑ جاتی ہیں کہ جس کا مندمل ہونا عرصہ دراز تک بہت مشکل اور بے امکان ہو تا ہے، زمانہ ہزاروں کروٹیں لے، تب جا کر کہیں وہ خلا پر ہونے کو آتا ہے۔ موصوف جامع کمالات، عجز و نیاز کے پیکر، علمی و عملی طور پر پختہ کار اور سادگی و مستقل مزاجی میں اکابر کی یاد گار تھے۔ افہام و تفہیم کا خاص ملکہ اور درس و تدریس کے شہسوار تھے۔ علوم وفنون پر مکمل عبور اور کئی درسی کتابیں آپ کو حفظ تھیں۔ آپ اپنے مخلصانہ دینی جذبے، بے پناہ قوتِ عمل، اشاعت دین کی خاطرانتھک محنت اور قومی و ملی اصلاحات میں دور اندیشی اور ہمت و استقلال کے لحاظ سے ان برگزیدہ ہستیوں میں سے تھے، جو کسی بھی قوم کے لئے باعث فخرہو سکتی ہیں۔آپ کی طبیعت میں انتہائی سادگی اور تکلف وبناوٹ کا نام و نشان تک نہ تھا،مگر استغناء وخودداری اور کفایت شعاری کا جوہر اتم اپنے اندر ودیعت لئے ہوئے تھے۔ ہمیشہ حرص و ہوس اور خود غرضی وشہرت سے کوسوں دور محض بندگانِ خدا کی بھلائی، دین متین کی اشاعت اور حق گوئی کواپناشعار بنائے رکھا۔ خود بھی عملی نمونہ بنے رہے اور اشاعت دین کے کئی مراکز کی آبیاری بھی کی۔ مولانا محمدصدیق مدنی نے مزید کہا کہ موصوف درس و تدریس اور علمی و اصلاحی خدمات میں آپ کا نمایاں و صف علماء و صلحا اورحضرات اکابر کے ہاں آپ کا بے مثال اعتماد تھا۔ دینی وعلمی حلقوں میں آپ کو قدرو منزلت کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔تمام عمر اخلاص سے عوام و خواص میں قرآن و سنت کی تعلیم کو عام کیا اور اساتذہ کا نام روشن کیا۔ آخر کار جب قدرت کو آپ کا اس دار فناء میں رہنا نا منظور ہوا توطویل تدریسی خدمات کے بعد یہ پاک روح اپنے اصلی گھر کی طرف روانہ ہوگئی۔
مولانا محمد صدیق مدنی نے مزید کہا کہ برگزیدہ شخصیات کا جانبِ حق رحلت فرماناان کے حق میں تو خوش آئندہوتا ہے کہ وہ بے سکونی کے گھر سے اپنے پروردگار، مالک حقیقی کے جوار میں منتقل ہو جاتے ہیں اورمقصد حیات پالیتے ہیں، مگرپسماندگان اور متوسلین کے لئے یہ داغِ مفارقت فیوض وبرکات سے محرومی اورقلبی اضمحلال کاسبب بن جاتا ہے۔
اللہ تعالیٰ اس پاک رو ح کو اپنے جوار میں مقاماتِ عالیہ عطا فرمائیں اورجمیع متوسلین میں قرآن وسنت کے علوم وبرکات کی بہاریں قائم فرمائیں۔اللہ تعالیٰ حضرت کے تمام پسماندگان کو صبر جمیل عطا ء فر ما ئیں۔

" مولانا محمدصدیق مدنی "

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *