ججزکا احتساب

احتساب کے عمل کو ان لوگوں سے شروع کرنا چاہیے جو دوسروں کو جج کرتے ہیں۔شفا فیت اور  اعتماد  کی  کمی کی موجوددگی میں احتساب کا عمل نہ صرف ناکام ہوتاہے بلکہ الٹا  نقصان کا باعث بنتا ہے۔ پائیدار جمہوریت  کے لئے، غیر منصفانہ اور قابل عدلیہ کے ذریعے احتساب  کا ہونا ضروری ہے. آزاد عدلیہ کے لئےججوں کو  دیانتدار ،  ہر قسم کے الزامات سے پاک اور تمام اندرونی  اور بیرونی دباؤ سے آزاد ہونا چاہئے. چونکہ انصاف نہ صرف کیا جانا چاہئے بلکہ نظر  بھی آنا چاہیے۔ایک جج کا کام  انصاف کوعوا م کے سامنے ایک مجسم  کی طرح پیش کرنا ہے۔

پاکستان میں  برابر احتساب  کے نقطہ آغاز  کے طور پر ججوں اور اعلی درجے کے سول/سرکاری فوجیوں  کو اثاثوں اور واجبات  ڈیکلئیر کرنا چاہیے  جس طرح ہر سال آفیشل گزٹ میں سیاستدانوں کے اثاثوں کی تفصیلات شائع کی جاتی ہیں ۔پارلیمنٹ کو  رازداری، استثنا اور ا استحقاق جیسی سہولیات  دینے  والے تمام قوانین کو ختم کرنے پر مجبور کرنے کےلیے سول سوسائٹی اور میڈیا کو آپس میں ہاتھ ملا لینے چاہییں اور  ججوں اور جنرلوں  کی طرف سے  اثاثہ / ذمہ داری / ٹیکس  ڈیکلئیر کرنے کا آرٹیکل 19 جیسا قانون بنا دینا چاہیے ۔ہم اس سلسلے میں بھارت سے بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں. بھارت میں ججوں کا اثاثے ظاہر کرنے کا معاملہ اس وقت  سامنے آیا جب سبھاش اگروال نے سپریم کورٹ میں  معلومات حاصل کرنے کے قانون کے تحت درخواست    دی  تا کہ معلوم کیا جا سکے کہ ہائی  اور سپریم کورٹ کے ججز  اثاثے ڈیکلئر کرنے کے قوانین کی پابندی کر رہے ہیں یا نہیں۔ سپریم کورٹ کے  پبلک انفارمیشن آفیسر نے دعوی کیا کہ "سپریم کورٹ رجسٹری میں اس طرح کی  کوئی معلومات موجود نہیں ہیں".بعد میں سینٹرل انفارمیشن کمشنر (سی آئی سی)سے اپیل کی گئ    کہ  سپریم کورٹ نے سپریم کورٹ اور   چیف جسٹس آفس  کے درمیان معلومات میں فرق رکھا۔سی آئی سی نے  اس فرق کو مسترد کرتے ہوئے سپریم کورٹ کے پبلک انفارمیشن افسر  کو ہدایت کی کہ اس معلومات کو چیف جسٹس آفس سے حاص کر  کے سبھاش اگروال کو  مہیا کرے ۔

بھارتی سپریم کورٹ نے دہلی ہائیکورٹ میں سی آئی سی  کے حکم کو چیلنج کیا. سی آئی سی نے صرف  یہ حکم دیا تھا کہ بتایا جائے کہ آیا  ججز چیف جسٹس کے سامنے اپنے اثاثے ظاہر کر رہے ہیں یا نہیں  لیکن اپنی درخواست میں سپریم کورٹ نے  یہ موقف اختیار کیا کہ انفارمیشن سامنے لانے سے عوام کو انفارمیشن ایکٹ کے ذریعے ججز کے اثاثوں تک رسائی مل جائے گی۔یہ دعوی کیا گیا کہ  رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ سے ججز کو استثنا ہے کیونکہ   انفارمیشن چیف جسٹس کے پاس fiduciary relationship کے تحت موجود ہوتی ہے۔ دوسرا تنازع یہ تھا کہ  چونکہ یہ ذاتی معلومات ہیں اس لیے انہیں عوام کے سامنے لانے کا کوئی با معنی مقصد وجودد نہیں رکھتا۔ چیف جسٹس  کو  خوف تھا کہ   اثاثوں کے ظاہر کیے جانے کے اس عمل تک عوامی رسائی  ججز کی پرائویسی میں مواخلت کا ذریعہ بنے گی ۔ سب سے آخر میں یہ موقف اختیار کیا گیا کہ  چیف جسٹس پبلک اتھارٹی نہیں ہیں اس لیے ان پر یہ قانون لاگو نہیں ہوتا۔ مسئلہ  مزید تب سامنے  آیا   جب بھارتی حکومت نے ججوں کاا ثاثے کو ظاہر کرنے کے لئے پارلیمان میں ایک بل متعارف کرایالیکن  حفاظتی شق کے ساتھ  کہ یہ معلومات لوگوں کےلیے قابل رسائی نہیں ہوں گی  اورججوں کو  انکے  اثاثے ظاہر کرنے کے معاملے میں عوام کے سامنے جوابدہ نہیں ہونا پڑے گا۔  اس سے پارلیمان میں ہنگامے کھڑے ہوگئے اورپارٹی کے ممبروں  نے ملکر سختی سےاس شق کی مذمت کرتے ہوئے حکومت کو بل  واپس لینے پر مجبور کیا۔پارلیمنٹ   میں بحث اور عوامی مہم کی وجہ سے بہت سے ہائی کورٹ ججز نے اپنے اثاثے ظاہر کر دیے   (پاکستان میں صرف مسٹر جسٹس منصور علی شاہ  نے  لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کے طور پر  ایساکیا)،انھوں نے خود کو ہندوستان کے چیف جسٹس  کے اس موقف سے الگ کر لیا کہ اثاثے ظاہر کرنے سے ججز کی ہیراسمنٹ کے واقعات ہو سکتے ہیں ۔ اس مہم میں معروف  سابق ججز اور معروف  قانون دانوں نے سول سوسائٹی کا ساتھ دیااور   کھلم  کھلا ججوں سے  اثاثوں  کو پبلک کرنے کا مطالبہ کیا۔پوری  سول سوسائٹی اور ذرائع ابلاغ نے متفق  ہو کر  اور اعلانیہ طور پر بھارتی چیف جسٹس کے موقف کی مخالفت کی۔ اندر ونی اور بیرونی مخالفت کی وجہ سےآخر کار انہوں نے اعلان کیا کہ ججوں کی اثاثہ جات کی تفصیلات آفیشل ویب سائٹ پر ظاہر کی جائیں گی۔  اس کے بعدجلد ہی سپریم کورٹ کے بیس ججزجن میں بھارت کے چیف جسٹس   کےجی با لکریشنان بھی شامل تھے انہوں نے اپنے  اثاثوں کا اعلان کیااور قابل انتقال  اور ناقابل انتقال جائیداد  جس کے وہ  خود یا ان کی بیویاں مالک تھیں  کے بارے میں  تفصیلات فراہم کیں. ہندوستان میں  اس اعلامیے کے بعد بھی اثاثے ظاہر کرنے کے معاملے پر ججز اور ان کی بیویوں کو تنقید کا نشانہ بنایا جاتا رہا۔  یہ مطالبہ کیا گیا  کہ دوسرے قریبی رشتہ دار جیسے بیٹے  اور بیٹیاں  بھی اپنے اثاثے ظاہر کرنے کے پابند ہونا چاہیے۔ پاکستان کے سیاق و سباق میں  بھی یہ درست اقدام ہو گا کیونکہ  اثاثے ظاہر کرنے کے بعد بھی  بہت سے ججز کے لاء ہاوسز  ان کے رشتہ دار چلا رہے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ  مفادات کے ٹکراو سے بچنے کے لیے  اور دفتر کے وقار کومجروح کرنے سے بچانے کے لیے  ججز کو  ہر قسم کی سیاسی، صدقاتی اور کاروباری دلچسپیوں سے علیحدگی اختیار کیے رکھنی چاہیے۔  61 9 1تک بھارت میں ایسی صورتیں موجود تھیں جن میں وکلا ایسی عدلاتوں میں پیش ہوتے جہاں کے ججز ان کے رشتہ دار ہوتے تھے لیکن ایڈووکیٹ ایکٹ 1961 نے اس معاملے پر قواعد و ضوابط کرنے کے لئے بھارت کے بار کونسل کو بااختیار بنایا اور اس طرح کے واقعات کم ہو گئے. اس  ایکٹ  کی شق  6  کے  تحت بار کونسل نے  طے کیا کہ "عدالت میں کوئی وکیل  وہاں کام نہیں کر سکتا جہاں اس کا  رشتہ دار جج کے طور پر کام کرتا ہے". اس طرح کے رشتہ داروں کی فہرست میں ان کے والد، دادا، بیٹا، پوتے، چاچا، بھائی، بھتیجے، شوہر، بیوی، بیٹی، بہن، چاچی، بیٹی، بھا بھی، سسر، دیور ،نند شامل تھے. تاہم اس  پر تنازعہ رہا کہ آیا اس قانون میں ذکر کردہ عدالت'صرف اس مخصوص جج یا پورے عدالت کے لیے  ہے جہاں رشتہ دار کام کرتے ہیں. پاکستان میں آج تک  ایسی  کوئی پابندی موجود نہیں .جب ہندوستان میں جسٹس پی بالکرشنا  ایور مدراس ہائی کورٹ کے وکیل بن گئے  تو ان کے بیٹے پی بی کرشنا مورتھے نے اپنی پریکٹس کو دوسری ریاست میں منتقل کر دیا. جب جسٹس وی آر کرشنا آئیر سپریم کورٹ کے جج بن گئے ان کا بیٹے نے  جو وکیل تھا بھارت میں کسی اور  کورٹ کی بجائے نجی ملازمت کو چنا۔کیرالا ہائی کورٹ کے جسٹس وی. سائورامان نائر نے جسٹس کرشنا اییر کے ایک  جونیر کے طور پر کام کیا. لیکن جیسے ہی اس کی بیٹی اور بہو  نے کیرول ہائی کورٹ میں وکالت  شروع کی تو انہوں نے ہندوستان کے صدر سے درخواست کی کہ وہ اسے کسی اور ریاست میں منتقل کردیں.ایسی کوئی مثال پاکستان میں نہیں ہے. اس کے برعکس بہت سے  لوگ ججوں  کے   رشتہ دار ہونے کے باوجود  اسی عدالت میں  پریکٹس کرتے نظر آتے ہیں ، اور چند سالوں  میں ہی بہت سے اثاثے جمع کر لیتے ہیں ۔ یہ  اس چیز سے بلکل بر عکس ہے جس میں ججز کے بیٹے اور دوسرے رشتہ دار اپنے رشتہ دار سے کوئی فائدہ حاصل نہ کر پاتے ہوں  بار بار میں دوسرے وکیلوں کی طرح دھکے کھاتے پھریں۔اب صرف امید ہی کی جا سکتی ہے کہ  معزز ججز  دوسرے ججز کو جوابدہ بنائیں  اور عدالتوں میں رشتہ داروں کو کام کی اجازت کا معاملہ سو موٹو کے ذریعے نمٹائیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *