افغان مفاہمتی عمل، امریکا پاکستان کی مدد کا متلاشی

اسلام آباد: افغانستان میں قیامِ امن کے لیے جاری کوششوں کو بحال کرنے اور طالبان کو ایک مرتبہ پھر مذاکرات میں شامل کرنے کے لیے سینئر امریکی عہدیدار لیزا کرٹس پاکستان کے دورے پر ہیں جس میں انہوں نے کئی اہم ملاقاتیں بھی کی ہیں۔

اس سلسلے میں افغانستان میں امن اور بحالی کے لیے نامزد امریکی خصوصی مندوب زلمے خلیل زاد کی بھی اسلام آباد میں آمد متوقع تھی تاہم سفری پروگرام میں تبدیلی کی وجہ سے وہ ابھی تک یہاں نہیں پہنچ سکے۔

واضح رہے کہ زلمے خلیل زاد کے خطے کے حالیہ دورے میں متعدد غیر معمولی تبدیلیاں سامنے آئیں اور اب وہ اس سلسلے میں افغانستان میں موجود ہیں۔

اس ضمن میں سفارتی ذریعے کا کہنا تھا کہ ’زلمے خلیل زاد کا دورہ پورے ہفتے پر محیط ہے، اور امریکی خصوصی مندوب چند ایک روز میں اسلام آباد کا دورہ کریں گے۔

تاہم لیزا کرٹس کے دورے کے حوالے سے کوئی تفصیل معلوم نہ ہوسکی البتہ گمان یہی ہے کہ وہ دو طرفہ مسائل کے حل اورطالبان کی امن عمل میں شمولیت کی بحالی کے لیے کوششیں کرنے آئی ہیں۔

خیال رہے کہ گزشتہ ماہ پاکستان نے امریکی مندوبِ خصوصی اور طالبان نمائندوں کے درمیان ابو ظہبی میں ملاقات کا اہتمام کیا تھا جس میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے حکام نے مبصر کی حیثیت سے شمولیت اختیار کی تھی۔

ابو ظہبی میں ہونے والی اس ملاقات میں مذاکراتی عمل کو جاری رکھنے پر اتفاق اور آئندہ ملاقات کا تعین کیا گیا تھا تاہم اس کے لیے تاریخ اور مقام کا اعلان نہیں کیا گیا۔

اس بارے میں ایک اور سفارتی ذریعے کا کہنا تھا کہ ’طالبان حکومتِ افغانستان کے ساتھ مذاکرات کرنے پر رضامند نہیں، چناچہ امریکا چاہتا ہے کہ پاکستان، اپنی سرزمین پرموجود طالبان قیادت پر افغان حکومت سے براہ راست بات چیت کرنے کے لیے دباؤ ڈالے‘ جبکہ پاکستانی حکومت اس بات پر مصِر ہے کہ اب اس کا طالبان پر گہرا اثرورسوخ نہیں۔

دوسری جانب وزیر اعظم عمران خان نے ایسٹ-ویسٹ انسٹیٹیوٹ کے صدر اور پاکستان کے لیے سابق امریکی سفیر کیمرون منٹر سے ملاقات کی جس میں ان کا کہنا تھا کہ ’پاکستان افغانستان میں سیاسی حل کی بھرپور حمایت کرتا ہے جو اس تنازع کو ختم کرنے کا واحد راستہ ہے‘۔

وزیر اعظم نے اس بات پر بھی زور دیا کہ خطے کی سالمیت معاشی استحکام کے لیے نہایت ضروری ہے۔

اس موقع پر کیمرون منٹر کا کہنا تھا کہ وہ اسلام آباد اور واشنگٹن کے درمیان مضبوط تعلقات کے لیے کردار ادا کرتے رہیں گے کیوں کہ پاکستان اس خطے کا ایک اہم ملک اور امریکی قومی سلامتی کے مقاصد کے لیے لازم و ملزوم ہے۔

 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *