انڈیا پاکستان تنازعہ: جھوٹوں کی ایک لمبی داستان

" فرہاد منجو "

انٹرنیٹ واقعی ایک سپر ڈوپر  جعلی پن کا نام ہے۔  ڈیجیٹل میڈیا کو بدلنے کی صلاحیت کی وجہ سے ای ڈیجیٹل جھوٹ زیادہ تیزی سے پھیلایا جا سکتا ہے۔ یہ زیادہ نقصان دہ اور تباہ کن بھی ثابت ہو جاتا ہے۔

ہم سب یہ جانتے ہیں۔ پھر بھی انٹرنیٹ پر الزام دھرنے کا طریقہ اب بے فائدہ ہو چکا ہے   کیونکہ انٹرنیٹ  اب زندگی کے ہر شعبہ میں مدخل ہو چکا ہے۔سماجی نیٹ ورک اب اس گہرائی کے ساتھ عالمی کلچر میں سرایت کر گئے ہیں کہ انہیں بیرونی فورس کے طور پر سوچنا غیر ذمہ دارانہ محسوس ہوتا ہے۔ اس کے  باوجود جب غلط اطلاع کی بات آتی ہے تو معلوما ہوتا ہے کہ انٹرنیٹ دھوکہ دہی کی اتنی بڑی مشینری کا محض ایک پرزہ ہے۔ اس مشین کہ کچھ دوسرے اہم گیئرز ہیں: سیاست دان اور مشہورشخصیات، نیوز میڈیا کے کچھ حصے (خاص طور پر ٹیلی وژن، جہاں سے زیادہ تر لوگ خبریں سنتے ہیں)؛ اور ہر قسم کے محرک فنکار، حکومت سے لے کر سکیمرز سے لے کر ملٹی نیشنل برانڈز تک۔

کیونکہ یہ کھلاڑی ڈیجیٹل سیاست کے ماہر ہیں  اس لیے وہ خود بھی غلط معلومات پھیلاتے  ہیں اور غلط معلومات کا شکار بھی ہو جاتے ہیں۔ ان ساری قوتوں  نے ہی یہ حقیقی ڈراونا خواب ترتیب دیا ہے۔ ایک ایسا معاشرہ قائم کیا ہے جہاں ہر گفتگو جھوٹ اور غلط معلومات پر مبنی ہوتی ہے  جہاں دھوکے کو اپنایا اور دیانت داری کو دھتکارا جاتا ہے۔ سچ پر مشترکہ سوچ  کو مشکلات میں گھیر لیا جاتا ہے۔

آپ کو ایسا برا خواب دیکھنے کے لیے لمبا سفر کرنے کی ضرورت نہیں۔ لیکن فاصلہ تصویر کو واضح کرنے میں مدد گار ثابت ہو سکتا ہے۔ چولہے پر رکھے ہوئے برتن کی تعریف کرنا صرف اسوقت زیادہ آسان ہوتا ہے جب آپ اس کو باہر سے دیکھ رہے ہوں  نہ کہ اس میں ابلتے ہوئے۔

اور اس لیے میں نے پچھلے ہفتے کا زیادہ تر وقت دنیا کی دوسری سائیڈ ایک ابلتے ہوئے برتن کو دیکھتے ہوئے گزارا۔

پچھلے ماہ انڈین فوج پردہشتگرد حملے کے خلاف جوابی کاروائی میں انڈیا نے پاکستان کے خلاف فضائی حملہ کیا۔ جب مجھے اس بارے میں پتا چلا تو میں  نے غلط معلومات سے پردہ اٹھانے کا فیصلہ کیا تا کہ پتا کیا جا سکے کہ دونوں ایٹمی ممالک  میں کس طرح کی خبر اور درست معلومات فراہم کی جا رہی ہیں۔

مجھے جو معلوم ہوا وہ  ایک خطرناک حقیقت ہے جس سے  نہ صرف بھارتیوں اور پاکستانیوں بلکہ دنیا کے رونگٹے کھڑے ہو جانے چاہیے ۔ آپ نے اس کشیدگی کے دوران چاہے انڈیا یا پاکستان جہاں سے بھی خبر سنی ہو، آپ  کے لیے جھوٹ کی ایک کشمکش سے نکلنے کا راستہ مشکل ہو گیا ہو گا۔ تمام میڈیا ، فیس بک، ٹویٹر اور واٹس ایپ پر جھوٹ بولا جا رہا تھا، ٹی وی پر جھوٹ بولا جا رہا تھا، سیاست دانوں کی طرف  سے جھوٹ بولے جا رہے تھے، شہریوں کی طرف سے جھوٹ بولا جا رہا تھا۔

سفید جھوٹ کے علاوہ  یہ بھی حقیقت ہے کہ بہت سے بھارتی صحافیوں سمیت تقریبا ہر شخص نے  حقائق کو کچلنے میں بھر پور تیزی دکھائی۔ بہت سے بحث و بیانات  صرف مفروضوں اور افواہوں پر مشتمل تھے۔ تصویروں کو  ایڈیٹ کیا گیا اور جوڑی توڑی تصویروں کو نشر کیا گیا، اور اصل تصویروں کو  نقلی سمجھ کر نظر انداز کر دیا گیا۔ بہت سے جھوٹوں کی ہدایات دی گئیں نہ کہ وہ جنگ کی دھند میں غلطی سے جھوٹ بن گئے تھے بلکہ انہیں باقاعدہ کوشش کر کے دشمن کو نیچا دکھانے کے لیے ، قومی فخر کو بلند کرنے کے لیے،  اور جارحیت کی حمایت نہ کرنے والے کو شرم دلانے کے لیے  گھڑا گیا ۔ یہ جھوٹ ایک  مکمل پلاننگ کا حصہ معلوم ہوتے ہیں ۔ ان کا مقصد  جنگ کو بھڑکانا اور دونوں اطراف میں ایک ایسے معاشرے کا قیام ہے  جو عقل و فہم کا دامن چھوڑ کر  حقائق سے الگ راستہ اپنا لے۔

یہ جھوٹ اس کے فورا بعد شروع ہو گئے جب انڈین فورسز نے ان کے بقول دہشتگردوں کے پاکستان میں بالاکوٹ نام کے قصبے میں تربیتی ٹھکانے پر حملہ کیا۔ ہندوستانی حکومت نے ان حملوں کے کوئی  واضح شواہد پیش نہیں کیے، ٍاور اب تک ہندوستانی سیاست دانوں کے درمیان یہ بحث جاری ہے کہ کس چیز پر حملہ کیا گیا۔ پاکستان فوج نے جلد ہی بالا کوٹ سے تصویریں جاری کر دیں جن کے مطابق زیادہ نقصان نہیں ہوا تھا۔

تاہم، ہندوستانی میڈیا نے حکومت کی طرف سے اختیار کیا گیا بیانیہ ہی پروموٹ کرنے کو ترجیح دی۔  جیسے کہ  انڈیا کی فیکٹ چیکنگ سائٹ آلٹ نیوز  نے بتایا،  بہت سے میڈیا ذرائع جن میں  ملک کے سب سے بڑے ٹی وی چینل بھی شامل تھے، نے ایک ویڈیو شئیر کرنا شروع کیا  اور اس ویڈیو کو بالاکوٹ حملے کی ایکسکلوسو فوٹیج قرار دیا۔

 بھارتی  چینل انڈیا ٹوڈاے نے جو کلپ جاری کیا ہو ذیل میں ہے۔

لیکن ایسا نہیں تھا ۔  آلٹ نیوز نے بتایا کہ یہ فائٹر جیٹ فوٹیج اصل میں 2017 میں آن لائن شئیر کی گئی تھی ۔ معلوم ہوا کہ  یہ ویڈیو ایک ہفتہ قبل ایک بار پھر سوشل میڈیا پر ظاہر ہوئی اور بھارتی میڈیا نے اسے حملے کے ثبوت کے طور پر  استعمال کرنا شروع کر دیا۔

ایسا بھی نہیں ہے کہ پاکستانی میڈیا نے جھوٹ نہیں بولا۔ پاکستان ایئر فورس کے ایک انڈین جیٹ کے گرانے اور پائلٹ کو پکڑنے کے بعد جسے بعد میں رہا کر دیا گیا، پاکستانی میڈیا نے گرائے گئے ایئر جیٹ کی تصویریں نشر کرنا شروع کر دیں۔ لیکن حقائق کا جائزہ لیا گیا تو معلوم ہوا کہ میڈیا پر چلنے والی تصاویر کچھ عرصہ قبل حادثے کا شکار ہونے والے طیارے کی تھیں۔

آپ سوچتے ہوں گے کہ حقیقت کا جائزہ اس  صورتحال کو  کنٹرول کرنے میں مددگار ثابت ہو گا ۔ اس کے بجائے ہوا یہ کہ دونوں سمتوں نے حقیقت کے جائزے  کے عمل کو مسلح کر دیا، دوسرے   پر جھوٹ پھیلانے کے الزامات لگائے گئے لیکن اپنی طرف کسی بھی طرح غور کرنے کی تکلیف نہ اٹھائی گئی۔

ذیل میں ایک ویڈیو ہے جس میں بھارتی اینکر غلط تصویر استعمال کر کے پاکستان پر جھوٹ بولنے کا الزام لگا تے ہوئے پاک فیک کلیم کے نام سے ٹیگ  استعمال کر رہے ہیں۔

جو چیز یہاں میں نے شیئر کی ہے صرف ایک  نمونہ ہے۔ اگر آپ  علاقائی  حقائق پر نظر رکھنے والی ویب سائٹس کا جائزہ لیں  تو آپ کو پچھلے ہفتے کے مقابلے میں کہیں زیادہ جھوٹ ملیں گے  جن میں سے کچھ کا تعلق تنازعہ کے دونوں اطراف سے ہے  اور لوگ   اسے جھوٹ ماننے کی بجائے آسانی سے ان کی وضاحت فرما دیتے ہیں۔

یہ چیز آپ کو بہت مایوس کر دے گی۔

ہندوستانی حکومت  نے غلط معلومات کو کم کرنے کے لیے حال ہی میں کچھ بڑی ڈیجیٹل پابندیاں متعارف کروائیں۔ لیکن جب جھوٹ تمام اداروں اور میڈیا ذرائع پر غالب آ جائے  اور کلچر کا حصہ بن جائے  تو پھر ڈیجیٹل فورم پر تبدیلی یا پابندی بے معنی ہو جاتی ہے۔

ہندوستان، پاکستان اور ہر جگہ  میڈیا پر جھوٹ کی روایت کو ختم کرنے کے  لیے سماجی سطح پر ایک بڑی تبدیلی دریار ہے۔ " یہ جنگ لمبی اور مشکل ہو گی۔ " ایک صحافی گووند راج ایتھراج نے بتایا جو 'بوم' نامی ایک ویب سائٹ چلاتے ہیں جس کا مقصد بھارت میں حقائق  کھود نکالنا ہے۔ معلومات کی جنگ ہمیشہ کی جنگ ہوتی ہے۔ ابھی تو   صرف آغاز ہے۔

 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *