معصوم انسانوں کا خون کیوں؟

جمعرات 14مارچ کو دفتر میں اپنے ساتھی روپٹ سے حسبِ معمول گفتگو ہورہی تھی۔ دراصل روپٹ کا تعلق نیوزی لینڈ سے ہے اور ہم اکثر روپٹ سے نیوزی لینڈ کے متعلق باتیں کرتے رہتے ہیں۔ جمعرات کو بھی میری روپٹ سے نیوزی لینڈ کے حوالے سے وہاں کے ماحول اور امن کے بارے میں بات چیت ہوئی۔ اس میں کوئی شک بھی نہیں کہ نیوزی لینڈ کو دنیا کا ایک خوبصورت اور امن و شانتی والا ملک جانا جاتا ہے۔وہاں کے لوگ کافی فراغ اور نرم دل ہوتے ہیں۔ میرے ہسپتال میں نیوزی لینڈ کے کئی اسٹاف کام کرتے ہیں جو نہایت محنتی اور سرگرم ہیں۔
جمعہ 15مارچ کی صبح حسبِ معمول فجر کی نماز کے لئے صبح پانچ بجے اٹھا۔ لندن میں ان دنوں موسم کا مزاج کافی بگڑا ہوا ہے۔ تیز ہوا کے ساتھ بارش اور کالے بادل نے لوگوں کا موڈ افسردہ کررکھا ہے۔ نماز کی ادائیگی کے بعد موبائل پر جیسے ہی بی بی سی کے ویب سائٹ پر نظر پڑی ایک دم سے سکتے میں رہ گیا۔ تاہم اس وقت کی خبر کے مطابق مساجد کے حملے میں چند لوگوں کی جان جانے کی خبر بتائی جارہی تھی۔ ذہن اچانک الجھ گیا کہ یا اللہ اب پھر کیسی قیامت ٹوٹی ہے۔ جوں جوں وقت بیتتا گیا ٹیلی ویژن اور ریڈیو پر نیوزی لینڈ کے کرائسٹ چرچ شہر کی دو مساجد میں انتہا پسند کے حملے سے مرنے والوں کی تعداد بڑھتی ہوئی بتائی جارہی تھی۔کلیجہ منھ کو آرہا تھا اور کوئی اور بات ذہن کو راس نہیں آرہا تھا۔ دفتر پہنچ کر ذہن اسی بات کی طرف اٹکا ہوا تھا اور خبروں پر مسلسل نظر لگی ہوئی تھی۔
صبح کی پہلی میٹنگ میں تمام انگریز ساتھی نیوزی لینڈ کے حملے سے افسردہ تھے۔ ایک انگریز خاتون نے اپنے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’پتہ نہیں ہم کس اور کیسے دور میں زندگی گزار رہے ہیں۔ کیوں معصوم بے گناہ انسانوں کی جان لی جارہی ہے۔ ‘ گویا کہ میٹنگ تمام ہونے کے باوجود سبھوں کو نیوزی لینڈ کے حملے سے سخت رنج و غم تھا۔ میں بھی اپنے انگریز ساتھیوں کے غمِ اظہار میں شریک تھا اور انتہا پسندی کے سبب سے کوسوں دور غمگین تھا۔
برطانوی پارلیمنٹ کے اسپیکر جون برکو نے گیارہ بجے پارلیمنٹ میں نیوزی لینڈ میں انتہا پسند کے حملے سے مرنے والے مسلمانوں کے لئے ایک منٹ کی خاموشی کا اعلان کیا۔ تاہم اس سے پہلے حکومت کی طرف سے پارلیمنٹ میں ایک رپورٹ پڑھا گیا جس میں نیوزی لینڈ میں 49مسلمانوں کو مارے جانے پر اظہارِ افسوس کیا گیا۔ ملکہ اوروزیر اعظم سمیت سبھی لوگوں نے نیوزی لینڈ میں مارے جانے والوں مسلمانوں کے لئے تعزیت کا اظہار کیا۔ لندن کے مئیر صادق خان نے جمعہ کی نماز کے بعد ایسٹ لندن کی مسجد کے باہر نیوزی لینڈ میں انتہا پسندی پر اپنے گہرے رنج و غم کا اظہار کیا۔ صادق خان نے یہ بھی کہا کہ لندن اور برطانیہ کے مساجد میں پولیس کا پہرہ بڑھا دیا گیااور ہم انتہا پسندی کو کچل کر رکھ دیں گے۔ انہوں نے لندن کے لوگوں کو اس بات کا بھی بھروسہ دلایا کہ لندن کے لوگ تمام مذہب کا احترام کرتے ہیں اور ایک دوسرے کے ساتھ مل کر رہنا پسند کرتے ہیں۔صادق خان نے مسلمانوں کو یقین دلایا کہ وہ بلا خوف مسجدوں میں عبادت کرے اور ہماری پولیس اور سیکورٹی ہماری حفاظت کے لئے چوکس ہے۔
برطانیہ کے ہوم سیکریٹری ساجد جاوید نے نیوزی لینڈ کے حملے کے متعلق کہا کہ ان کا جسم بیمار ہوگیا ہے۔ ساجد جاوید نے سوشل میڈیا کے فیس بُک ، انسٹا گرام اور یوٹیوب کو بھی وارننگ دی ہے کہ براہِ راست کے بارے میں وہ اپنا موقف صاف کرے اور انتہا پسند کے حملے کو براہِ راست دکھانے کی بھی مذمت کی۔ساجد جاوید نے ’ڈیلی ایکسپریس‘ میں ایک خط لکھ کر سوشل میڈیا کی کمپنیوں سے کہا ہے کہ وہ آئندہ ایسی چیزیں براہ راست دکھانے پر کوئی پابندی لگائے ورنہ اس سلسلے سے سخت قانون نافذ کر دئیے جائیں گے۔ساجد جاوید نے لوگوں سے اپیل کیا ہے کہ وہ نیوزی لینڈ کے حملے کے ویڈیو کو نہ تو شئیر کریں اور نہ ہی کسی کو بھیجیں۔ساجد جاوید نے اپنے خط میں یہ بھی لکھا کہ انتہا پسند نے محض اس لئے ان لوگوں کو مارا کہ وہ مسلمان تھے اور عبادت کرنے کے لئے مسجد میں موجود تھے۔ساجد جاوید مزید کہتے ہیں کہ انہیں وہ دن یاد ہے جب وہ اپنے مرحوم والد کے ساتھ جمعہ کی نماز پڑھنے جاتے تھے اور کتنا پر سکون ماحول ہوتا تھا۔ ان کے والد کبھی جمعہ ناغہ نہیں کرتے تھے۔‘
نیوزی لینڈ کی وزیراعظم جاسیندا آردین نے قوم کو خطاب کرتے ہوئے اپنی غمگین آواز میں بتایا کہ انتہا پسند برینٹن ٹارینٹ ایک آسٹریلوی شہری ہے۔ جس کے پاس سے کافی مقدار میں گولہ بارود پایا گیا ہے۔ اس کا مقصد مزید خون خرابہ کرنے کا تھا لیکن وہ ناکام ہو گیا۔ وزیراعظم نے یہ بھی کہا کہ وہ اس حملے سے کافی دل برداشتہ ہوئی ہیں۔ انہیں امید ہی نہیں تھی کہ ان کے امن پسند ملک میں ایساحادثہ ہو جائے گا۔نیوزی لینڈ ایک ایسا ملک ہے جہاں تمام مذہب اور نسل کے لوگ ایک ساتھ مل جل کر رہتے ہیں۔آسٹریلوی وزیر اعظم اسکوٹ موریسن نے نیوزی لینڈ حملے کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا کہ برینٹن ٹارینٹ ایک انتہا پسند، دائیں بازو،تشدد پسنددہشت پسند ہے۔
انتہا پسندی کا ننگا ناچ ناچنے والے اٹھائیس سالہ برینٹن ٹارینٹ کا تعلق آسٹریلیا سے ہے۔ وہ پچھلے کچھ سالوں سے نیوزی لینڈ میں مقیم ہے۔ تاہم سیکورٹی حکام ابھی اس بات کا پتہ لگا رہے ہیں کہ کن وجوہات کی بنا پر انتہا پسند برینٹن نے مسجد میں داخل ہو کر اتنی لوگوں کی جان لے لی۔ سنیچر 16مارچ کو برینٹن کو مجسٹریٹ عدالت میں پیش کیا گیا جہاں اس کے وکیل نے اس کی حمایت میں کوئی درخواست نہیں دی۔
اس سے قبل بھی خود کش حملہ آوروں نے دنیا بھر میں کئی عبادت گاہوں کو نشانہ بنا کر کافی تعداد میں لوگوں کی جان لے چکے ہیں۔تاہم امریکہ اور یورپ میں زیادہ تر عبادت گاہوں کے حملے میں بندوق کا استعمال کیا گیا ہے۔ جس کی ایک وجہ امریکہ اور مغربی ممالک میں ان بندوقوں کا لائسنس کے ذریعہ آسانی سے دستیابی ہے۔امریکہ میں عبادت گاہوں پر حملے کے کئی واردات ہو چکی ہیں جن میں زیادہ تر افریقی عیسائی چرچ میں شرکت کرنے والے لوگ تھے۔ لیکن نیوزی لینڈ کے کرائسٹ چرچ شہر کے النور اور لِن ووڈ مساجد پر جو حملہ کیا گیا وہ اس نوعیت سے الگ تھا کہ اس میں انتہا پسند برینٹن نے اپنے جسم پر کیمرہ نصب کیا تھا جس کے ذریعہ وہ دنیا کو اپنے گھناؤنے کام کو فیس بُک کے ذریعے براہِ راست دِکھا رہا تھا۔ بدقسمتی سے میں نے بھی اس ویڈیو کو فیس بک پر بعد میں دیکھا جسے دیکھ کر میری طبعیت ناساز ہوگئی اور میں یقین ہی نہیں کر پارہا تھا کہ یہ ایک سچا واقعہ ہے۔
پچھلے کچھ برسوں سے انتہا پسندی نے پوری دنیا میں انسانی جان لینے کا ایک سلسلہ چلا رکھا ہے۔ تاہم اس سے قبل بھی انتہا پسندی کا دور رہا ہے جہاں زیادہ تر واقعات ملک کی آزادی یا قوم پرستی پر مبنی تھے۔لیکن پچھلے چند برسوں میں دنیا کے کچھ لیڈروں کی ایک خاص مذہب کے خلاف زہر اگلنے سے دائیں بازو کے انتہا پسندوں نے مختلف مذاہب کے عبادت گاہوں کو نشانہ بنانا شروع کر دیا ہے۔ جس سے کہیں نہ کہیں اس بات کا اندازہ ہوتا ہے کہ دائیں بازو کے شدت پسند حامیوں کو مذہبی لوگوں سے سخت دشمنی ہے۔
اس واقعہ سے یورپ سمیت دنیا بھر کے مسلمانوں میں خوگ وہراس کا ماحول پیدا ہوگیا ہے۔ ظاہر سی بات ہے کہ جس صفائی سے انتہا پسند نے اس کام کو انجام دیا ہے دراصل اس نے انتہا پسند کے حامیوں کے لئے ایک نئی ترکیب دِکھائی ہے۔ تاہم حکومت اور سیکورٹی حکام اس بات کا دعویٰ کر رہے ہیں کہ ایسے واقعات سے سختی سے نمٹا جائے گا۔ لیکن کیا حکومت کے پاس اتنی پولیس ہے کہ وہ تمام عبادت گاہوں کی حفاظت کر سکے ۔ مجھے نہیں لگتا یہ ممکن ہے۔تاہم اس کے خلاف عام لوگوں کو متحد ہو کر انتہا پسندی کا سر کچلنا ہوگا تبھی ہم اور آپ آزادی سے اپنی زندگی جی سکیں گے۔
میں نیوزی لینڈ کی مساجد میں ہوئے حملے کی سخت مذمت کرتاہوں اور اس بات کی امید بھی کرتا ہوں کہ حکومت انتہا پسندوں کے ساتھ سختی سے نمٹے تا کہ مزید معصوم لوگوں کی جان نہ جا سکے۔ لیکن میں اب بھی اس بات کو سمجھے سے قاصر ہوں کہ کیوں معصوم انسانوں کا خون ہوا جو محض عبادت کے لئے مسجد میں موجود تھے۔

 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *