کرائسٹ چرچ: 'نیوزی لینڈ آپ کے ساتھ سوگوار ہے، ہم ایک ہیں'

کرائسٹ چرچ حملے: ہلاک ہونے والی کی یاد میں نیوزی لینڈ میں پہلی بار سرکاری سطح پر اذان نشر، دو منٹ کی خاموشی

نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ میں 15 مارچ کو دو مساجد میں حملوں میں ہلاک ہونے والوں کی یاد میں نیوزی لینڈ میں پہلی بار سرکاری سطح پر اذان نشر کی گئی جس کے بعد دو منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی اور منعقدہ تقاریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم آرڈرن نے اظہار یکجہتی کا پیغام دیا۔

نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم جاسنڈا آرڈرن نے بھی ہزاروں سوگواران کے ساتھ النور مسجد کے قریب منعقدہ تقریب میں شرکت کی اور ملک میں مقیم مسلم برادری سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ 'نیوزی لینڈ آپ کے ساتھ سوگوار ہے، ہم ایک ہیں۔'

کرائسٹ چرچ

کرائسٹ چرچ میں گزشتہ جمعہ کو دو مساجد پر ہونے والے حملوں میں پچاس افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوگئے تھے۔

حملہ کرنے والے سفید فام انتہاپسند آسٹریلوی نژاد برینٹن ٹرینٹ پر قتل کا فرد جرم عائد کیا گیا ہے اور ان پر مزید الزامات لگنے کی توقع ہے۔

جمعرات کو وزیر اعظم جاسنڈا نے ملک میں تمام ملٹری سٹائل نیم خود کار اسلحے پر پابندی عائد کرنے کا اعلان کیا تھا۔

جمعہ کو کیا ہو رہا ہے؟

نیوزی لینڈ میں ہزاروں افراد گزشتہ جمعے کو دہشت گردی کے واقعہ میں ہلاک ہونے والوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کا قومی دن منانے کے لیے النور مسجد کی قریب ہیگلے پارک میں جمع ہوئے۔

کرائسٹ چرچ

النور مسجد کے امام جمال فودہ نے 'حملہ آور سے بچانے پر اپنے دروازیں کھولنے کے لیے' پولیس، مقامی شہریوں اور وزیر اعظم جاسنڈا کا شکریہ ادا کیا

مسلمان برادری کے ساتھ اظہار یکجہتی کے قومی دن کی مناسبت سے جمعہ کی اذان کو سرکاری ٹیلی ویژن اور ریڈیو پر مقامی وقت کے مطابق ڈیڑھ بجے نشر کیا گیا جس کے بعد دو منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی۔

اس سے قبل نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم جاسنڈا آرڈرن نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 'پیغمبر اسلام کے مطابق تمام مسلمان ایک جسم کی مانند ہیں۔ اگر جسم کے ایک حصہ میں تکلیف ہو تو پورا جسم اس کی تکلیف محسوس کرتا ہے۔'

امام مسجد جمال فودہ کا جمعہ کے خطبہ میں کہنا تھا کہ 'حملہ آور نے گزشتہ ہفتے دنیا بھر میں لاکھوں افراد کے دل دکھائے ہیں لیکن آج میں اسی جگہ سے محبت اور ہمدردی دیکھ رہا ہوں۔ ہمارے دل ٹوٹے ہوئے ہیں لیکن ہم نہیں ٹوٹے۔ ہم زندہ ہیں، ہم متحد ہیں اور کسی کو اپنے اندر پھوٹ ڈالنے کی اجازت نہیں دیں گے۔'

کرائسٹ چرچ

نیوزی لینڈ بھر میں آج بہت سی مساجد میں مسلمانوں کے علاوہ دیگر زائرین کی بھی آمد متوقع ہیں جہاں مسلمانوں کے تحفظ اور اظہار یکجہتی کے طور پر مساجد کے باہر علامتی انسانی زنجیریں بنائی جائے گی۔

النور مسجد کے باہر کے مناظر

کرائسٹ چرچ

کرائسٹ چرچ کی النور مسجد کے باہر موجود ایک شخص جان کلارک کا کہنا تھا کہ آج کا پیغام بہت گہرا تھا، اب لوگ یہ غور کریں گے کہ وہ کیسے عمل کریں، وہ کیسی سوچ رکھیں اور وہ کبھی کیسی زبان استعمال کریں اور اس کا معاشرے پر کس حد تک اثر پڑتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ان کا گمان تھا کہ ہمارا معاشرہ ایک روشن خیال معاشرہ ہے لیکن ہم جانتے ہیں کہ ہمارے اندر بھی چند خامیاں ہیں۔ گزشتہ جمعے کو پیش آنے والا واقعہ سے نیوزی لینڈ میں مثبت تبدیلی آئے گی اور شاید ہمارے پاس دنیا کو دینے کے لیے پہلے سے بھی زیادہ ہو۔'

کرائسٹ چرچ

سیکڑوں خواتین شہریوں نے سرپر سکارف پہن کر مسلمانوں سے اپنی ہمدردی کا اظہار کیا

النور مسجد کے قریب پارک میں ہزاروں افراد جمع ہوئے اور مسلم برادری سے اظہار یکجہتی دکھاتے ہوئے ایک بڑی سکرین پر 'ہمیں آپ سے پیار ہے' اور اپنی روائتی ماؤری زبان میں 'ٰثابت قدم رہیں' کی عبارتیں لکھیں گئی تھیں۔

سیکڑوں خواتین شہریوں نے سرپر سکارف پہن کر مسلمانوں سے اپنی ہمدردی کا اظہار کیا۔ جبکہ اس موقع پر النور مسجد کے امام مسجد جمال فودہ نے 'حملہ آور سے بچانے پر اپنے دروازیں کھولنے کے لیے' پولیس، مقامی شہریوں اور وزیر اعظم جاسنڈا کا شکریہ بھی ادا کیا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *