عِطرناک

مجھے آج وہ بزرگ صورت بابا جی یاد آرہے ہیں جو جامع مسجد میں نمازیوں کو عطّر لگایا کرتے تھے۔یہ تذکرہ ہمارے سابقہ محلّے کا ہے جہاں ہم کرائے کے مکان میں رہائش پزیر تھے۔اب سچ پوچھئے تو اس محلے کو چھوڑنے کا سبب بھی یہی نیک سیرت مردِبزرگ ہی تھے۔محلے کے بیچ میں جامع مسجد واقع تھی جہاں ہم جمعہ پڑھنے کے لئے حاضر ہوتے۔یہ بزرگ بڑی باقاعدگی سے وہاں تشریف لاتے۔ان کے پاس ہمیشہ رنگین کڑھائی داررومال میں لپٹی ایک چھوٹی سی عطّرکی شیشی ہوتی۔یہ صاحب مسجد کے اندرونی مرکزی دروازے پر تشریف رکھتے۔اپنے چوغے کی سینے والی اندرونی لمبی جیب سے رومال نکالتے،اس کی پرتیں بڑی احتیاط سے کھولتے،شیشی میں پلاسٹک کا ’’ سُرمچو‘‘ڈالتے اور اس کا اگلا کونا عطر میں ڈبو کر باہر نکالتے اور پھر آنے والے خوش نصیب نمازی کے دائیں ہاتھ کی پُشت پر وہ عطر لگاتے اور اُسے معطّر ہاتھ کو اپنے سینے اور ملحقہ علاقے پر پھیرنے کو کہتے۔ہاتھ پھرتے ساتھ ہی خوشبو کی ایک لپٹ اُٹھتی۔اس پر وہ صاحب اس نمازی کی طرف تحسین طلب نظر سے دیکھتے۔اس عطر میں اور بھی کوئی خوبیاں ہوں گی !لیکن میرے نزدیک اس کے تین خصائص ایسے تھے جو اسے دوسرے عطریات سے ممتاز کرتے تھے اور آج تک کسی اور میں نہیں مِل سکے۔ایک تو یہ انتہائی بد بودار تھا۔دوسرے انتہائی تیز!کسی منہ پھٹ ،بدتمیز مراثی کی طرح جسے اک ذرا چھیڑئیے تو اس کی آواز دوسرے محلّے میں بھی سنائی دے۔تیسرے اس کا اثر بے حد دیر پا تھا ! یعنی ایک جمعے لگایا جاتا تو اگلے جمعے کو بھی اس لباس سے خوشبو کے ’’ بھبھکے ‘ ‘ اسی طرح اُٹھ رہے ہوتے اور بندہ آسانی سے جھوٹ بول سکتا تھا کہ ابھی لگایا گیا ہے ۔۔ان خصائص پر مستزاد مولانا صاحب کاوہ اہتمام و انصرام تھا جس کا مُظاہرہ وہ عطر لگاتے وقت کرتے تھے۔انہی دنوں میں بھی کہیں مسجد میں داخل ہوا ۔مولوی صاحب نے ’’عطّرِکم یاب‘‘ کی سلائی بھری، میرے دائیں ہاتھ کی پُشت پر لگائی اور اُسے ایک جھٹکے سے مروڑتے ہوئے پیچھے سینے کی طرف لے کر آئے۔میری چیخ نکلتے نکلتے رہ گئی۔تندوتلخ بُو کا ایک بھبھکا میرے نتھنوں سے ٹکرایا،سانس رُکنے لگا۔انہوں نے حسبِ عادت تحسین طلب کی۔شومئی قسمت!میں مسکرایا اورمروّتاً مُنہ سے نکل گیا کہ کیا کمال شے ہے! اُن صاحب نے اسے داد سمجھا۔چنانچہ اس کے بعد میں اُن کے التفات کا خاص حقدار ٹھہرا۔اب ہر جمعے کو آنکھ مچولی کا کھیل ہوتا!میں اُن سے چھپتا لیکن وہ کہیں نا کہیں ڈھونڈنکالتے۔پھر وہی عطر کی دو سلائیاں،میری ’’ مونا لیزی‘‘ مسکراہٹ اور سانس وآواز بند۔بچے بالکے اُن کے پیچھے ہوتے کہ ہمیں بھی عطر لگائیں لیکن وہ اُن سے بچتے۔کوئی بچہ اگر اپنا ہاتھ آگے کرتا تو وہ کہتے،’’ابے ! چل ہٹ! تُو عطر لگائے گا!!!بندر کیا جانے ادرک کا سواد‘‘۔ مجھے چونکہ وہ متذکرہ جانور سے بہر طور بہتر خیال کرتے لہذا’’ عطر نوازی‘‘ میں میرا خاص حصہ تھا۔
مذکورہ عطّر سے میرے فرارکی ایک وجہ تو ظاہر ہے کہ اس کی بدبُو تھی،(جبکہ ہمیں خوشبو بے حد پسند ہے)۔لیکن اس سے بھی بڑا سبب یہ تھا کہ اک زمانے میں ہمارے گاؤں میں اسی ’’بُو‘‘ کا حامل عطرمُردوں کے کفن پر لگایا جاتا تھا۔عطر لگتے ہی پورا گاؤں ایک انتہائی ناگوار بُو کی لپیٹ میں آ جاتا۔گلیوں سے میّت گزر جاتی لیکن عطر ٹھہر جاتا۔گھنٹوں وہاں سے گزرنے والوں کو پتہ چلتا رہتا کہ یہاں سے میّت گزری ہے۔نجانے کس خوش ذوق نے اس کا آغاز کیا تھا ،لیکن اب یہ ’’عطر چھڑکاؤ‘‘ کی رسم تدفین کا لازمی حصہ بن چکی تھی۔اس رسم کا بیک گراؤنڈ جو بھی تھا ،بہرحال اب یہ ایک کامیاب کوشش تھی کہ کوئی مُردہ کم از کم ذ ہنی سکون کے ساتھ قبر تک نہ پہنچے۔قبر کا حال تو اللہ پاک کو معلوم ہے لیکن! !بظاہر اُس بیچارے مُردے کا عذاب کفن اُوڑھتے ساتھ ہی شروع ہو جاتا۔انہی بچپن کے دنوں کی بات ہے کہ میں ایک دو سطری وصّیت لکھ کر ہمہ وقت اپنی جیب میں رکھتا تھا اور وہ یہ تھی کہ ، ’’ موت فوت بندے کے ساتھ ہے میری وصّیت ہے کہ بعد از وفات مجھے یہ عطّر نہ لگایا جائے ‘‘۔
اب جب وہی عطّر برسوں بعد ان بابا جی کو مسجد میں لگاتے دیکھا تو ہمارا ذہنی کرب،گویا،دوبارہ شروع ہو گیا۔انہیں دیکھتے ہی ذہن میں ایک فلم چلنا شروع ہو جاتی،،کفن میں لپٹی میّت نظر آتی اور لاشعورسے کلمہ شہادت کی آوازیں آنا شروع ہو جاتیں۔ لاچار! وہ محلّہ چھوڑا تب کہیں قرار آیا۔

 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *