اوتھل میں صنفی مساوات

لسبیلہ یونیورسٹی آف ایگرکلچر واٹر اینڈ میرین سائنسز اوتھل میں  فیکلٹی آف سوشل اینڈ منیجمنٹ سائنسز کے زیر اہتمام Gender inquality in pakistan ,challaenges and glimmers of hope کے عنوان سے لیکچر پروگرام کا انعقاد کیا گیا۔لیکچر پروگرام کے مہمان خاص وائس چانسلر لسبیلہ یونیورسٹی آف ایگرکلچر واٹر ایند میرین سائنسز ڈاکٹر دوست محمد تھے۔جبکہ اس موقع پر ڈین  فیکلٹی آف  سوشل اینڈ منیجمنٹ سائنسز ڈاکٹر منظور بلوچ بھی موجود تھے۔لیکچر پروگرام میں یویورسٹی کے مختلف ڈپارٹمنٹ کے سربراہان اور طلبا و طالبات  نے شرکت کیا ۔ لیکچر پروگرام سے وائس چانسلر لسبیلہ یونیورسٹی آف ایگرکلچر ،واٹر اینڈ میرین سائنسز اوتھل ڈاکٹر دوست محمد اور ڈاکٹر سید منظور بلوچ نے بھی خطاب کیا۔ لیکچر پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے لاہور یونیورسٹی آف منیجمنٹ سائنسز میں سوشیالوجی کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر ندا کرمانی کا کہنا تھا کہ عورتوں کو برابری کے حقوق نہ دینا معاشرتی رویوں پر منحصر ہے۔  ہمارے معاشرے میں عورتوں پر گھریلو تشدد بڑا مسلئہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ چالیس فیصد عورتوں کو انکے شوہر جبکہ پندرہ فیصد عورتیں گھر سے باہر جاکر کام کرنا نہیں چاہتے ہیں۔ عورتوں پر تشدد کے واقعات بہت بڑھ رہے ہیں مگر زیادہ تر واقعات رپورٹ نہیں ہوتے ہیں۔ عورت جب خود کمائے گی تو وہ بااختیار ہوکر اپنے فیصلے کرنے میں آزاد ہوگی۔ عورتوں کو بااختیار بناکر ترقی کے سفر میں ہم دنیا کے مقابلہ کرسکتے ہیں۔ ندا کرمانی نے اپنے لیکچر میں اظہار خیال کرتے ہوئے مذید کہا کہ معاشرے کے لوگوں کو اپنے رویے اور سوچ بدلنے ہوں گے۔ کیونکہ معاشی ترقی میں مرد اور عورت دونوں ملکر کام کرکے اس میں اضافہ کرسکتے ہیں۔روزگار کے حوالے سے  عورت کو برابری کے حقوق دینے سے معاشی ترقی میں 30فیصد اضافہ ہوگی جس سے ملکی معیشیت میں اضافہ ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ جس کام کو ہم ویلیو نہیں دیتے ہیں تو عورت کو اس کام میں شامل کرکے کم معاوضہ دیا جاتا ہے۔ جبکہ گھریلو ذمہ داریوں کی وجہ سے زیادہ تر عورتیں پارٹ ٹائم جاب پر توجہ دیتے ہیں۔ پوری دنیا کا یہ المیہ ہے کہ عورت کو مرد کے مقابلے میں کم معاوضہ دیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر مرد اور عوت ایک ہی جاب کررہے ہیں تو دونوں کو برابری کے حساب سے تنخواہ ملنا چاہیے۔ پاکستان میں عورتوں کو کام پر جانے کے لئے سخت جدوجہد کرنا پڑتا ہے کیونکہ ہمارے معاشرے میں مردوں کی مداخلت زیادہ ہے۔ عورت اس لئے باہر کام پر جانے سے ڈرتے ہیں کہ جنسی حراساں کا خطرہ ہوتا ہے۔ انکا کہنا تھا کہ ایسے ماحول بنایا جائے جس سے عورتوں کو کام کرنے میں آسانی ہو۔  ڈاکٹر کرمانی کا کہنا تھا کہ شہر کے عورتوں کو گاؤں کے عورتوں سے زیادہ سہولیات میسر ہیں۔ چائلڈ میرج کی وجہ سے لڑکیوں کی تعلیم متاثر ہورہی ہے۔ شہری معاشرے میں مرد بھی عورت کے ساتھ ملکر گھریلو کام کرتے ہیں۔ جبکہ دیہی معاشرے کی ثقافت اسکی اجازت نہیں دیتا ہے۔ کیونکہ دیہی معاشرے میں یہ سمجھا جاتا ہے کہ گھریلو کام کاج صرف عورت کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ جبکہ شہری معاشرے میں  تعلیم کی ریشو زیادہ ہونے کی وجہ سے عورت کو دیہی علاقوں کی نسبت زیادہ آزادی حاصل ہے۔  انکا کہنا تھا کہ عورت چونکہ زیادہ تر گھریلو کام کاج کرتی ہے اور یہ کام بغیر معاوضہ کی ہوتی ہے۔ جنوبی ایشیا میں 95فیصد عورتیں غیر رسمی ملازم ہیں۔ ندا کرمانی نے ایک سروے کے حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کہ بلوچستان کے دیہی علاقوں کے 64فیصد خواتین کبھی بھی سکول نہیں گئے ہیں۔ جس کی وجہ سے بلوچستان میں خواتین کے تعلیمی ریشو محض 26 فیصد ہے۔ اس وقت پوری دنیا میں نیو لبرزم کا دور چل رہی ہے ۔آزاد تجارت کے فروغ میں عورت کو بھی یکساں مواقع فراہم کرنا ہوگا۔ لیکچر پروگرام کے آخر میں سوال جواب کے سیشن میں ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر ندا کرمانی کا کہنا تھا کہ مرد اور عورت کو برابری کا رتبہ دیا جائے ۔معاشرے کے ترقی کے لئے ضروری ہے کہ ایک کو دوسرے پر فوقیت نہیں دیا جائے۔ کیونکہ اس سے معاشرے میں بگاڑ پیدا ہوسکتی ہے۔

 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *