وزارت سچائی

یاسر پیرزادہ Yasir Pirzada

 1948میں جارج آرول نے ایک ناول لکھا ‘نام تھا ’’1984‘‘۔اس ناول میں مصنف نے ’’وزارت سچائی ‘‘ کا ایک نہایت دلچسپ محکمہ تخلیق کیا جس کا اصل کام سچائی کو چھپانا تھا۔ میرا ارادہ جارج آرول کے مخصوص طنزیہ انداز تحریر پر روشنی ڈالنے کا ہے اور نہ ہی’’1984‘‘ پر تنقیدی مضمون لکھنے کاکیونکہ اس کام کے لئے بندے کا پڑھا لکھا ہونا ضروری ہے ‘میں چونکہ زیادہ پڑھا لکھا نہیں اس لئے آرول کے فن اور شخصیت پر تنقید کرنے سے پرہیز کرتے ہوئے فی الوقت اس کے وزارت سچائی کے خیال کو’’چرانے ‘‘ پر ہی اکتفا کروں گا ‘فرق صرف اتنا ہوگا کہ آرول کی وزارت سچائی تو حقیقت پر پردہ ڈالنے کے لئے بنائی گئی تھی جبکہ میری تجویز کردہ وزارت کا کام بظاہر سچ سمجھی جانے والی باتوں کے پیچھے اصل سچائی کو بے نقاب کرنا ہوگا۔مثلاً ہم آئے دن سنتے ہیں کہ تمام انسان برابر ہیں ‘ امریکہ کے اعلامیہ آزادی میں بھی یہی لکھا ہے ‘ مگر سچائی یہ ہے کہ تمام انسان برابر نہیں ‘ ہم آئے روز اٹھتے بیٹھتے اپنی آنکھوں کے سامنے یہ حقیقت دیکھتے ہیں ‘خود اسی کی روشنی میں اپنی زندگیوں کے فیصلے کرتے ہیں ‘ مگر کہتے یہی ہیں کہ تمام انسان برابر ہیں ‘ جارج آرول نے غالباً یہی سوچ کے کہا تھا کہ All men are equal but some are more equal than othersسو مجوزہ وزارت سچائی اس قسم کے بیانات کی چھان پھٹک کرے گی اور جہاں ضرورت محسوس ہوئی عوام کو سچائی سے آگاہ کرے گی۔پاکستان کو ایسی وزارت کی جتنی ضرورت ہے شاید دنیا کے کسی اور ملک کو نہیں ‘ یہاں بڑے سے بڑا واقعہ ہو جائے ‘ کوئی اعلیٰ عہدہ دار ذمہ داری سے کوئی بھی بیان دے مگر اس کے بعد ہر کوئی ایک دوسرے سے یہی پوچھتا ہے کہ ’’ وچلی گل کی اے (اصل بات کیا ہے ) ؟‘‘ سو میں نے ایسی کچھ باتیں جمع کرنے کی کوشش کی ہے جو بظاہر سچ لگتی ہیں مگر ادھورا سچ ہیں ‘میری تجویز کردہ وزارت سچائی ایسی تمام باتوں کی مکمل سچائی لوگوں کے سامنے لائے گی:
٭ ملک میں قانون سے بالا تر کوئی نہیں ۔غریب اور عام آدمی کے لئے یہ بات سچ ہے تاہم اندھا دھند اس بیان پر ایمان لانے کی ضرورت نہیں ورنہ آپ کو قانون کا ہیضہ ہو سکتا ہے کیونکہ بقول فرانسیسی ادیب Honoré de Balzac’’قانون مکڑی کے جال کی طرح ہوتا ہے جس میں چھوٹی مکھی پھنس جاتی ہے اور بڑی نکل جاتی ہے۔‘‘سو ملک میں اگر وزارت سچائی ہو تو وہ کھل کر عوام کو ایک مرتبہ صراحت کے ساتھ بتا دے کہ فلاں فلاں قوانین غریبوں کے لئے ہیں اور فلاں قانون صرف امیروں کے لئے ہے ‘ جبکہ اشرافیہ کے لئے کوئی قانون نہیں ‘ وہ اگرآئین شکنی بھی کرے تو چھاتی چوڑی کر کے ملک میں پھر سکتے ہیں۔یقین کیجئے یہ سچ ملکی مفاد میں ہے‘ اس سے ہماری زندگیوں میں آسانی پیدا ہوگی‘ نظام ہضم درست رہے گا ‘ نظر تیز ہوگی ‘ جسم چاق و چوبند رہے گا اور پٹھوں کا درد جاتا رہے گا۔
٭ ہر کام میرٹ اور صرف میرٹ پر کیا جائے گا۔ مطلب اس کا یہ ہے کہ میری اپنی کوئی سوجھ بوجھ نہیں ‘ مجھے سرکاری افسران فائل پر جو انگریزی نوٹنگ دکھا دیں گے میں اسے مان لوں گا اوریہی میری نظر میں میرٹ کی تعریف ہے ۔تاہم اگر معاملہ کسی خوش شکل خاتون کا ہو تو وہاں میرٹ کو یقینی بنایا جائے گا بشرطیکہ خاتون بھی میرٹ پر پورا اترتی ہو۔(خواتین سے معذرت کے ساتھ‘ان کی دل آزاری مقصود نہیں )۔
٭ بچپن حسین ہوتا ہے ۔یہ دولت بھی لے لو ‘یہ شہرت بھی لے لو مگر مجھ کو لوٹا دو وہ بچپن کا ساون‘ وہ کاغذ کی کشتی وہ بارش کا پانی ۔کیوں ؟خوامخواہ!اکثر ہم یہ باتیں سن کر جذباتی ہو جاتے ہیں جبکہ حقیقت میں ضروری نہیں کہ بچپن ایسے ہی یاد آئے اتنی مشکل سے تو بڑے ہوئے ہیں کہ کچھ کام اپنی مرضی سے کر سکیں ‘دوبارہ بچپن میں جا کر خود پر پابندیاں لگوا ئیں ؟سچائی یہ ہے کہ ہر دور کی اپنی یادیں ہوتی ہیں جو حسین ہوتی ہیں ‘ وہ بچپن بھی ہو سکتا ہے ‘ لڑکپن اور جوانی بھی اور ادھیڑ عمری بھی ۔میں نے گورنمنٹ کالج سے ایف ایس سی اور بی اے کیا اور پنجاب یونیورسٹی سے ایم اے ‘ مجھے گورنمنٹ کالج کا کوئی ناسٹلجیا نہیں جیسے عموماً لوگوں کو ہوتا ہے لیکن پنجاب یونیورسٹی کے پولیٹکل سائنس ڈیپارٹمنٹ کا وقت بھلائے نہیں بھولتا۔لہٰذا مجھے کاغذ کی کشتی اور بارش کا پانی نہیں چاہئے ‘ یہی سچ ہے ۔
٭ آمریت کے خلاف جدو جہد کرنے والوں پر ہمیں فخر ہے ۔یہ بھی ادھورا سچ ہے ‘ مکمل سچ یہ ہے کہ آمریت کے خلاف جدو جہد کرنے والوں پر یقینا ہمیں فخر ہے مگر آمر یت کے ساتھی تو کابینہ میں ساتھ بٹھائے جانے کے قابل ہیںاور اگرکابینہ میں جگہ نہ بچے تو انہیں ہم سر آنکھوں پر بٹھالیں گے‘یہی عوام کے لئے مکمل سچ ہے کہ جمہوریت اچھی چیز ضرور ہے ‘اس کا ساتھ دینا چاہئے مگر خدانخواستہ اگر ملک میں آمریت آ جائے تو جان ہتھیلی پر رکھ کر اس کے خلاف مزاحمت کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ‘ بلکہ ہو سکے تو آمر کے ترجمان بن جائیں اور جب وہ رخصتی کے قریب ہو تو چپ کرکے اس سے الگ ہو ں اور ساتھ ہی اس پر تنقید شروع کرکے اپنا نام شہیدوں میں لکھوا لیں تاکہ آنے والی جمہوری حکومت میں آپ کی جگہ ہموار ہو سکے۔
٭ سچی محبت صرف عورت کو ہوتی ہے اور اگر اس کا محبوب بے وفائی کرے تو اس کی سانسیں رُک جاتی ہیں۔ یہ سچ صرف خواتین کے ناولوں یا ٹی وی ڈراموں میں ملتا ہے ‘ حقیقی زندگی میں عورت کو ہی نہیں مرد کو بھی سچی محبت ہو سکتی ہے ‘لیکن ناکامی کی صورت میں سانسیں کسی کی نہیں رکتیں (خود کشیاں کرنے کے عوامل اور ہوتے ہیں)‘زندگی رواں دواں رہتی ہے ‘بچے پیدا کرنے اور خاوند کی فرمائشیں پوری کرنے میں گزرتی ہے ‘ شاپنگ کرنے اور دوستوں سے گپ شپ کرنے میں محبت کی یادیں صابن کی جھاگ بن کر بہہ جاتی ہیں ۔میری رائے میں تو وزارت سچائی کا ایک ’’محبت ونگ‘‘ ہونا چاہئے جو حقیقی زندگی کی مثالوں کی مدد سے اس قسم کے بیانات کی سچائی گاہے بگاہے لوگوں کے سامنے لانے کا کام کرے ۔
٭ ہر قسم کے حالات میں سچ بولنا چاہئے ۔اگر آپ کا ارادہ ملک میں رہنے کا ہے ‘ اگر آپ کی خواہش زندہ رہنے کی ہے ‘ اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کا نام کسی اندھی گولی پر نہ لکھاجائے‘ اگر آپ لا پتہ افراد کی فہرست میں شامل نہیں ہونا چاہتے اوراگر آپ اپنا تعزیتی ریفرنس منعقد کروانے میں بھی کوئی خاص دلچسپی نہیں رکھتے تو پھر جان لیجئے کہ یہ بیان کہ ہر حال میں سچ بولنا چاہئے ‘سچ نہیں ہے۔ لیکن یہاں میری تجویز کردہ وزارت سچائی کو کچھ مشکل درپیش آئے گی کیونکہ جیسا کہ میں نے شروع میں کہا تھا کہ اس وزارت کا تو کام ہی عوام کے سامنے مکمل سچ کی تصویر پیش کرنا ہوگا ‘اگر خود وزارت صرف مخصوص حالات میں ہی سچ بولے گی تو پھر اس کا مقصد ہی فوت ہو جائے گا‘اور اگر وزارت سچائی نے مکمل سچ عوام کے سامنے پیش کرنا شروع کردیا تو پھر خود وزارت فوت ہو جائے گی۔ایسی صورتحا ل میں بہترین حل یہ ہے کہ وہ حالات پیدا کرنے کی کوشش کی جائے جس میں اس قسم کی وزارت کی ضرورت ہی نہ رہے‘ ایسے حالات فقط دعائوں سے پیدا نہیں ہوتے ‘اس کے لئے قومیں انتھک محنت کرتی ہیں ‘اگر دعائوں سے ہمارا مقدر تبدیل ہونا ہوتا تو اب تک اللہ ہماری سن چکا ہوتا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *