مہاتیر کے دیس میں (قسط 5)

ملائشیا روانگی سے قبل میں نے جینی سے کہا تھا کہ میرے لئے کسی مقامی لڑکی کا بندوبست کررکھے۔ جو گھومنے پھرنے کی شوقین اور کوالالمپور کے راستوں سے واقف ہو۔ جس دن میں ملائشیا پہنچی، جینی نے مجھے اطلاع دی کہ اس نے میرے لئے اپنی شاگرد خاص ماہیما بختانی (عرف ماہی) کو چنا ہے۔ میں سمجھ گئی کہ یہ ملائشین ہندو لڑکی ہے۔ ماہی کانفرنس کے پہلے اور دوسرے دن بار ہا میرے پاس آئی۔ میں چونکہ مصروف تھی، لہذا ہم ایک دوسرے کا حال احوال پوچھنے تک محدود رہے۔ کانفرنس کے آخری روز اس کے ساتھ تفصیلی نشست ہوئی۔ ابھی میں نے بات کا آغاز کیا ہی تھا کہ وہ کہنے لگی۔ میم، میکو (مجھے) ہندی آتی ہے۔ اگر آپ برا نہ مانیں تو مجھ سے ہندی میں بات کریں۔ میں نے کہا ضرور اور اسے بتایا کہ جسے تم ہندی کہہ رہی ہو اسے ہم اردو کہتے ہیں۔ ماہی نے بتایا کہ اسکی دادی سندھی تھیں۔وہ اکثر پاکستان کا ذکر کیا کرتی تھیں۔ پاکستان میں انکی بہت سی سہیلیاں ہوا کرتی تھیں۔ کہنے لگی کہ دادی کی وجہ سے مجھے اور میرے والد کو پاکستان سے بہت دلچسپی ہے۔ میں نے اسے پاکستان آنے کی دعوت دی تو وہ کہنے لگی۔ میم، میکو(مجھے) ایک دن پاکستان آنا ہی ہے۔ کیونکہ میری روٹس (جڑیں) تو وہیں ہیں ناں۔ یہ سن کر میں نے لاشعوری طور پر اس کے مختصر لباس پر نگاہ ڈالی۔ اور سوچا کہ یہ لڑکی ہندی فلموں سے بہت متاثر ہے اور میرے ساتھ فلمی ڈائیلاگ بول رہی ہے۔ اگلے ہی لمحے میں نے یہ بات اسے کہہ ڈالی اور پوچھا کہ ماہی یہ تو مجھے کسی ہندی فلم کا ڈائیلاگ معلوم ہوتا ہے۔ سچ سچ بتاو کہ تم نے یہ ڈائیلاگ کس فلم میں سنا تھا؟ میری بات سن کر اس نے ایک بلند قہقہہ لگایا اور کہنے لگی کہ یقین جانیں یہ میرے دل کی آواز ہے۔ مجھے واقعی پاکستان پسند ہے اور میں وہاں جانا چاہتی ہوں۔ پھر کہنے لگی کہ مجھے پاکستانی ڈرامے اور فلمیں بھی بہت پسند ہیں۔ میں اور میرے دوست نیٹ فلیکس پر باقاعدگی سے دیکھتے ہیں۔مجھے خیال گزرا کہ وہ محض مجھے خوش کرنے کے لئے ایسا کہہ رہی ہے۔ میں نے دریافت کیا کہ تمہیں کونسے پاکستانی ڈرامے پسند ہیں؟ کہنے لگی کہ ایک لمبی فہرست ہے۔ مگر " ہمسفر" اور" زندگی گلزار ہے" مجھے اسقدر پسند ہیں کہ انہیں کئی بار دیکھ چکی ہوں۔ پھر اس نے کچھ پاکستانی فلموں کے نام لئے اور بتایا کہ کچھ دن پہلے میں نے پاکستانی فلم "کیک" دیکھی ہے۔ کیا زبردست فلم ہے۔ ماہی نے بتایا کہ وہ پاکستانی اداکارہ صنم سعید کی بہت بڑی مداح ہے۔ انتہائی حسرت کیساتھ اس نے کہا کہ کاش میں زندگی میں کبھی اس سے آٹو گراف لے سکوں۔اس کا یہ انداز دیکھ کر میں نے اس سے وعدہ کر لیا کہ پاکستان جا کر اسے صنم سعید کا آٹوگراف بھجوا دوں گی۔ میری بات سن کر اس نے حیرت اور بے یقینی سے مجھے دیکھا۔ غالبا اسے میری بات پر اعتبار نہیں آیا تھا۔بہرحال اس کی باتیں سن کر مجھے ضرور یقین ہوا کہ وہ فلمی ڈائیلاگ ہرگز نہیں بول رہی تھی۔ پاکستانی ڈراموں اور فلموں کی پذیرائی سے متعلق جان کر بھی مجھے انتہائی خوشی ہوئی۔ مجھے خیال آیا کہ بھارت میں پاکستانی ڈرامے ہمیشہ مقبول رہے ہیں۔ تاہم کسی ملائشین ہندو کے منہ سے پاکستانی ڈراموں کی تعریف سننا منفرد اور خوشگوار تجربہ تھا۔ میں نے سوچا کہ کاش پاکستان آنے اور جانے والے طیاروں (air lines) کی دوران پرواز تفریح (inflight entertainment)میں حکومت پاکستان کچھ پاکستانی فلمیں اور ڈرامے شامل کروا سکے۔ لمبے سفر کے دوران وقت گزاری کیلئے جب بھی میں بالی وڈ اور ہالی وڈ کی فلمیں دیکھا کرتی تھی، مجھے اکثر یہ خیال آتا تھا۔ البتہ ماہی کی باتیں سن کر میں نے پختہ ارادہ کیا کہ میں یہ تجویز ضرور ارباب اختیار تک پہنچاوں گی۔ اس دن پاکستان سے متعلق ایک اور بات سن کر مجھے دلی خوشی ہوئی۔ ڈاکٹر نکول نے بتایا کہ انکی یونیورسٹی میں جس پروفیسر کے تحقیقی مضامین (research articles) کا سب سے ذیاد ہ حوالہ (cite) دیا جاتا ہے وہ ایک پاکستانی خاتون ہیں۔یونیورسٹی میں ہفتہ وار چھٹی کی وجہ سے وہ پروفیسر غیر حاضر تھیں۔لہذا ان سے ملاقات نہ کر سکی۔
اگلے دن طے شدہ وقت کے مطابق ماہی صبح سویرے میرے ہوٹل کے باہر موجود تھی۔ وہ تقریبا دو گھنٹے کی مسافت کے بعد یہاں پہنچی تھی۔ اس نے تجویز دی کہ یہاں سے ہمیں بذریعہ ٹیکسی اسٹیشن تک جانا چاہیے۔ تاکہ ٹرین اور میٹرو میں سوار ہو سکیں۔ یوں بھی سیاحت کااصل لطف پبلک ٹرانسپورٹ اور پیدل سفر میں ہے۔ اس روز شام ڈھلے تک میں اور ماہی کوالالمپور گھومتے رہے۔ سیاحت اور تفریح کے لئے ملائشیا بہت اچھا ملک ہے۔ملائشیا کا ویزہ بھی نہایت آسانی سے مل جاتا ہے۔ صاف ستھری کشادہ سڑکیں۔ عجائب گھر، قدیم غاز، تفریحی پارک، ساحل، بڑے بڑے شاپنگ مال۔ہر درجے کے ریسٹورنٹ۔ میرا تجربہ ہے کہ ملائشیا اس قدر مہنگا ملک نہیں ہے۔ اس مرتبہ مگر مجھے کچھ مہنگائی محسوس ہوئی۔ اس کی وجہ پاکستانی روپے کی قدر میں ہونے والی بے تحاشا گراوٹ تھی۔ جسکی وجہ سے مجھے مہنگے داموں ملائشین رنگٹ خریدنا پڑے تھے۔ ملائشیا میں بے شمار ہوٹل موجود ہیں۔ اکیلی خواتین کے لئے تو بہرحال پنج ستارہ ہوٹل ہی مناسب ہیں۔ یا ذیادہ سے ذیادہ فور سٹار۔تاہم اگر آپ خاندان کے ساتھ یا گروپ میں سفر کر رہے ہیں۔ تو بہت سے سستے مگر معیاری ہوٹل اور گیسٹ ہاوس با آسانی دستیاب ہیں۔ کھانے پینے کا معاملہ بھی ایسا ہی ہے۔ میرا اندازہ اور مشاہدہ ہے کہ ملائشیا میں ہوٹل اور کھانا اتنا ہی مہنگا ہے جتنا ہمارے ہاں مری میں۔

مزید پڑھئیے "مہاتیر کے دیس میں (قسط 4)"

سفر کے لئے مناسب کرایہ پر ٹرین اور میٹرو دستیاب ہیں۔ اسکے لئے مگر راستوں سے واقفیت ضروری ہے۔ بصورت دیگر ٹیکسی اچھی، مگر مہنگی آپشن ہے۔ اور اس وقت مزید مہنگی جب آپ رش میں پھنس جائیں۔ یا لاعلمی میں بغیر میٹر والی ٹیکسی میں جا بیٹھیں۔ تاہم موبائل پر گریب اپلیکیشن ڈاون لوڈ کر لی جائے تو ٹیکسی بھی کچھ خاص مہنگی نہیں رہتی۔ اسکے لئے مگر مقامی موبائل سم کا ہونا شرط ہے۔تاہم اپنے ہوٹل، ریسٹورنٹ یا شاپنگ مال میں آپ کسی مقامی شخص سے درخواست کر کے ٹیکسی بک کروا سکتے ہیں۔ عمومی طور پر ملائی کافی خوش اخلاق لوگ ہیں۔ پاکستانیوں سے گرم جوشی سے ملتے ہیں۔ سیاحوں کی مدد کے لئے تیار رہتے ہیں۔
ملائی سماج کثیر المذاہب اور کثیر الثقافت ہے۔ مسلمان اکثریت میں ہیں۔چینی بدھسٹ، عیسائی اور بھارتی ہندو بھی خاصی تعداد میں موجود ہیں۔یہی وجہ ہے ملائشیا میں ملائی، بھارتی اور چینی ریسٹورنٹس کی بھرمار ہے۔ ان مذاہب سے متعلقہ عبادت گاہیں بھی اسی تناسب سے موجود ہیں۔ ملائشیاسیکولر ملک ہے۔ وہاں بسنے والوں کو مذہبی آزادی حاصل ہے۔ تاہم مسلم اور غیر مسلم کی سنجیدہ بحث بھی موجود ہے۔ کچھ حلقوں میں یہ معاملہ زیر بحث رہتا ہے کہ سرکاری سطح پر ایک مذہب (اسلام) سے متعلق سرگرمیوں کی خصوصی سرپرستی کیوں کی جاتی ہے؟ ماہ رمضان میں سرعام کھانے پینے کی ممانعت ہے۔ غیر مسلم اس قانون پر بھی کچھ معترض نظر آتے ہیں۔ ملائشیا جائیں تو آپ کو انڈین جا بجا دکھائی دیں گے۔ انکی نسلیں دہائیوں سے ملائشیا میں آباد ہیں۔ ٹیکسی ڈرائیور سے لے کر یونیورسٹی کے وائس چانسلر کے عہدے تک بھارتی النسل ہندو براجمان ہیں۔سچی بات یہ ہے کہ مجھے اس صورتحال پر ہمیشہ صدمہ ہوتا ہے۔ میں سوچتی ہوں کہ یقینا یہ افراد ملائشیا میں بھارتی مفادات کا تحفظ کرتے ہوں گے۔ بر سبیل تذکرہ ، وہ صورتحال جسے پاکستان میں ہم برین ڈرین(brain drain) گردانتے ہیں۔ بھارت نے اسے دنیا بھر میں اپنی نیٹ ورکنگ کے لئے بطور پالیسی اختیار کر رکھا ہے۔ دنیا کے مختلف ممالک میں موجود بھارتی النسل ہندو، بھارت کے مفادات کا خیال رکھتے ہیں۔ ملائشیا میں پاکستانی بھی آباد ہیں۔ مختلف شعبوں میں کام کرتے نظر آتے ہیں۔یونیورسٹیوں میں پاکستانی طالب علم بھی زیر تعلیم ہیں۔ گنے چنے پاکستانی تدریس کا فریضہ بھی سر انجام دے رہے ہیں۔
ملائشیا کا موسم ذیادہ تر گرم رہتا ہے۔ لیکن اچانک بادل امنڈ آتے ہیں اور بارش برسنے لگتی ہے۔ اور پھر یکدم چلچلاتی دھوپ نمودار ہو جاتی ہے۔ ملائشیا کا بے اعتبار موسم دیکھ کر مجھے ہر بار احمد فراز کا وہ شعر یاد آنے لگتا ہے۔۔۔۔ یوں ہی موسم کی ادا دیکھ کے یاد آیا ہے ۔۔۔ کس قدر جلد بدل جاتے ہیں انساں جاناں۔۔۔ فراز نے تویقینا یہ شعر کسی آدمی کے بارے میں لکھا تھا، تاہم ملائشیا کے موسم پر بھی یہ شعر خوب صادق آتا ہے۔ (جاری ہے)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *