خان صاحب اور ان کے سہولت کار

" شاہ زیب جیلانی "

کہتے ہیں کہ ریاست بھی ماں جیسی ہوتی ہے، جو چاہے تو اپنے بچوں سے پیار و محبت سے پیش آئے، چاہے تو اُنہیں باغی بنا دے۔

بچے جب ضد کرتے ہیں، روتے ہیں یا تکلیف میں ہوتے ہیں تو ہم کیا کرتے ہیں؟ بعض غصے والے والدین انہیں ڈانٹ کر چُپ کرانے کی  کوشش کرتے ہیں۔ جو ذرا زیادہ سخت دل ہوتے ہیں وہ پٹائی بھی کر ڈالتے ہیں۔

لیکن بحیثیت والدین ہم میں سے اکثر لوگ بچوں کی پرورش کے دوران کچھ ایسے گرُ سیکھ لیتے ہیں کہ یہ سب کرنے کی نوبت نہیں آتی۔ یعنی طریقہ واردات ایسا ہو کہ جس سے بظاہر مسئلہ حل ہو جائے اور کوئی بدمزگی بھی نہ ہو۔

اس کام کے لیے کچھ تخلیقی صلاحتیں درکار ہوتی ہیں اور کچھ اداکاری آنی چاہیے۔ آپ کو یکایک کوئی ایسا تماشہ کرنا پڑتا ہے کہ بچہ اپنا غم بھول کر آپ کے من گھڑت  چکر میں الجھ جائے۔ جب تک اُسے اپنا مسئلہ یاد آتا ہے تب تک بات آئی گئی ہوجاتی ہے۔ بچے چونکہ معصوم ہوتے ہیں اس لیے ہماری اس قسم کی چالاکیوں کو سمجھ نہیں پاتے۔

بعض لوگ کہتے ہیں کہ ریاست بھی ماں جیسی ہوتی ہے، جو چاہے تو اپنے بچوں سے پیار و محبت سے پیش آئے، چاہے تو اُنہیں باغی بنا دے۔

ہماری ریاست چونکہ بنیادی طور پر ایک نظریاتی عسکری ریاست ہے، اس لیے اپنے حقوق کی بات کرنے والے سبھی لوگوں کو مزاحمت کارتصور کرتی ہے۔

بلوچستان والے ہوں، پی ٹی ایم، اپوزیشن یا پھر میڈیا والے، ان سب پر ہماری ریاست برہم ہے: آواز کیوں نکالی؟ شور کیوں مچایا؟ فلاں افسر کا نام لے کر کیوں تنقید کی؟ ہماری ریاست کو اپنے ہی لوگوں سے خوف آتا ہے اس لیے وہ ایسے حالات پیدا کرتی ہے کہ پھر سب اُس کے خوف میں مبتلا رہتے ہیں۔

ان کے مقابلے میں ریاست نے بگڑے ہوئے بچوں کے اپنے ٹولے تشکیل دیے، انہیں چاہت سے پال پوس کر پروان چڑھایا۔ جیش اور لشکر نے پڑوسیوں کے گھروں میں آگ لگائی، گھر کے اندر توڑ پھوڑ کرتے رہے لیکن کسی جوابدہی سے ہمیشہ ماورا اور مقدم رہے بلکہ الٹا حب الوطنی کے سارے سرٹیفکیٹ انہیں کے حصے میں آئے۔

ریاست نے شک کیا تو اُن پر جو ملک کو آئین کے مطابق آگے لے جانا چاہتے ہیں۔ جیل میں ڈالا تو اُنہیں جو برابری کے حقوق مانگتے ہیں۔ عدالتوں میں گھسیٹا تو اُنہیں جو سچ بولنے سے باز نہیں آتے۔

لیکن تکلیف ہوتی ہے تو چیخیں تو نکلیں گی۔ جی وہی چیخیں جن کا وعدہ خود ہمارے 'خوبرو وزیراعظم‘ نے قوم سے کر رکھا ہے اور دن رات اس وعدے کی تکمیل میں مصروف نظر آتے ہیں۔

کیا وجہ ہے کہ کشمیر پر مودی سرکار کی جاریحانہ  پیش قدمی پر ہماری سرکار بے بسی کا مجسمہ بن کر رہ گئی۔ ہم قوم کو ستر سال سے یہ نعرہ دیتے آئے کہ کشمیر بنے گا پاکستان! اب ہم اسی قوم کو بین الاقوامی تعلقات میں حقیقت پسندی اور مفادات کی سیاست سمجھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ لیکن اگر کشمیر پاکستان نہ بن سکا تو کیا ہوا؟ کیا ہم پاکستان کو کشمیر نہیں بنا سکتے؟ کیا ملک کے کئی حصوں میں ہم نے اپنے لوگوں پر ایک عرصے سے کشمیر جیسے حالات مسلط نہیں کر رکھے؟

فی الحال ریاست ہماے ساتھ وہی کر رہی ہے جو ہم اپنے بچوں کے ساتھ کرتے آئے۔ اِسے چھوڑئیے کہ ملک کے اندر خان صاحب اور ان کے سہولت کار کیا کر رہیں، یہ دیکھئیے کہ کشمیر پر حکومت کیسے کھیل رہی ہے۔ اگر کشمیر پر روزانہ کی سرکار ی بھڑکیوں سے قوم کو اکتاہٹ  ہونے لگے تو اپنے کسی فرمانبردار کے ذریعے کوئی نیا شوشہ چھوڑ دیں۔

اچھا، اسرائیل کے ساتھ تعلقات کے بارے میں کیا خیال ہے؟ مقصد یہ ہے کہ قوم کسی نہ کسی چکر میں الجھی رہے تا کہ ہمارے حکمران اپنی نوکری پکی کرنے کے کام خاموشی سے کرتے جائیں۔

پچھلے دو تین برسوں میں یہ عسکری نظام تقریباً ہر ادارے کو اپنے تابع لا چکا ہے۔ یہ روش ہمیں کہاں لے جائے گی؟  اس کا جواب ہمارے سپہ سالار اور ان کے مبینہ جانشین کو کبھی نہ کبھی تو دینا پڑے گا۔ دعا بس یہ ہے کہ جب کبھی وہ وقت آئے کہیں بہت دیر نہ ہو چکی ہو۔

 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *