پی ٹی آئی تو سچ میں واشنگ مشین ہے

میرے ایک دوست جوپراپرٹی ڈیلر ہیں ۔ پراپرٹی ڈیلری ایسا کام ہے کہ اس میں اگر ذہانت(نوسربازی،دھوکہ ،فراڈ اور چالاکی ہوشیاری)سے کام لیا جائے تودنوں میں پیسہ آجاتا ہے ۔ دوست ذہین ثابت ہوئے ۔ پیسہ آگیا ۔ جب پیسہ آگیا تو موصوف نے سیاست (طاقت اور اختیارات کا حصول)کی جانب رخ کیا ۔ پہلے اپنی ذاتی سیاسی پارٹی کی بنیادی رکھی ۔ بہت پیسہ لگایا ۔ ہر اخبار میں خبر لگتی رہی ۔ کئی جتن کیے ۔ سیاسی شخصیات سے تعلقات بنانے کی کوشش کی جاتی رہی ۔ کئی سے تعلق بنے بھی مگر وہ بات نہیں بن سکی جس کی اندر خواہش انگڑائیاں لے رہی تھی ۔ ےار وں جوبے روزگاری کے باعث موصوف کے قریبی ساتھی ہیں نے مشورہ دیا کہ کسی بڑی سیاسی جماعت میں شامل ہوکر جدوجہد کی جائے ۔ مشورہ صائب تھا ۔ من کو لگا اور موصوف پاکستان کی سب سے بڑی عوامی پارٹی میں شامل ہوئے اور زور و شور سے سیاسی کام شروع کردیا ۔ لیڈر بننے کے لئے حد سے گزرنے پر تیار نظر آتے تھے ۔ الگ سے اپنا سیکرٹریٹ بنایاگیا ۔ اپنے نئے قائد کے پورٹریٹ لگائے گئے ۔ دھماکہ دار انڑی دی گئی تھی ۔ موصوف دن رات تنظیم سازی، غیرفعال کارکنان کو فعال کرنے اور جماعت کے احیا کا مشن لیکر مصروف عمل رہے ۔ جماعت کا تاسیسی پروگرام ہو ۔ جماعتی جلسہ ہو ۔ قائد کی سالگرہ ہو ۔ بانی جماعت کے ایام ہوں ۔ بڑھ چڑھ کر نہ صرف حصہ لیتے بلکہ پروگرامز کو کامیاب بنانے کےلئے بھرپور طریقے سے انتظامات بھی کرتے رہے ہیں ۔ قائد کی تصویروں کے قدآور پبلسٹی بورڈ اور دیکر پبلسٹی میٹریل کھلے دل سے بنواتے اور ہر جلسہ اور جماعتی پروگرام میں لگاتے رہے ہیں ۔ پارٹی چیئرمین اور دیگر قائدین سے ذاتی مراسم بنانے اور پارٹی میں ذاتی مقبولیت حاصل کرنے کےلئے اچھی خاصی سرمایہ کاری کی تھی ۔ گزشتہ عام انتخابات میں اور شاید پہلے بھی پارٹی نے راولپنڈی سے موصوف کو ایم این اے کا ٹکٹ بھی دیا گیا مگر بوجہ بھاری اکثریت سے ہار گئے ۔ یعنی غبارے سے ہوا نکل گئی ۔ دوسری جانب پراپرٹی کے کام پر ریاستی دباو دن بدن بڑھ رہا تھا ۔ کبھی ہاوسنگ سوساءٹیز کے فرانزک آڈٹ،کبھی این او سی اور کبھی فراڈ کے کیس کھل رہے تھے ۔ نیب ،ایف آئی اے اور دیگر ادارے نوٹس پر نوٹس بھیج رہے تھے ۔ مقدمات بھی بنے ہوئے ہیں ۔ انکوائریاں چل رہی ہیں مگر سیاست جماعت میں کی گئی سرمایہ کاری کسی کام نہیں آرہی تھی ۔ موصوف اپنی سیاسی جماعت سے بہت مایوس ہو رہے تھے ۔ یاروں کی مشاورت سے قائدین کو خط لکھے گئے ۔ جواب نہیں آئے ۔ مایوسی مزید بڑھتی رہی ۔ ادھر پراپرٹی کے کام پر قانون مزید سخت ہو رہے تھے ۔ راولپنڈی ترقیاتی ادارے اور ڈسٹرکٹ کونسل نے موصوف کے ہاوسنگ پراجیکٹس کے این او سی کینسل کر دیئے ۔ فراڈ کے کئی الزامات پر مقدمات کھلے ہوئے تھے ۔ نیب پچھے پڑی ہوئی تھی ۔ یاروں نے مشورہ دیا کہ پی ٹی آئی میں شامل ہوجائیں سب کچھ ٹھیک ہوجائے گا ۔ مشورہ بہت معقول تھا ۔ فوری عمل کیا گیا اور اخباروں کو پارٹی چھوڑنے کی پریس ریلیز جاری کردی گئی ۔ یاروں نے اور بذات خود بھی موصوف نے پی ٹی آئی میں شامل ہونے کےلئے محنت شروع کردی ۔ آخر محنت رنگ لائی اور گزشتہ دنوں موصوف نے اپنے گھر پر پی ٹی آئی کے ایک وفاقی وزیر اور دیگر قائدین کو مدعو کرکے تحریک انصاف میں باقاعدہ شمولیت کا اعلان کردیا ہے ۔ راولپنڈی ترقیاتی ادارے کے چیئرمین کو خصوصی طور پر مدعو کیا گیا تھا ۔ واقفان حال و احوال کہتے ہیں کہ اب موصوف کے سب دلدر دور ہوجائیں گے ۔ نیب کی انکوائریاں ،مقدمات ،بدعنوانیوں کے الزامات سب دھل جائیں گے اور موصوف پاک صاف ہوکر شانت رہیں گے ۔ پراپرٹی کا کام مزید ترقی کرے گا ۔ عین ممکن ہے کہ سرکار میں بھی موصوف کی ٹانگ اڑا دی جائے ۔ یار بیلی بھی خوش ہیں کہ معاملات درست ہوئے ہیں اور پی ٹی آئی کی موجودگی اور حکومت کو غنیمت جانتے ہیں کہ صد شکر ہے کوئی ایسی جماعت بھی ہے جس میں شامل ہوتے ہی بندہ اس طرح پاک صاف ہوجاتا ہے جیسے گندہ کپڑا واشنگ مشین نکھار دیتی ہے ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *