میاں محمد نواز شریف ”بہت تنہا سا ہو گیا ہوں ……!“

بے شک زندگی اور موت اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ اُس کے فیصلے وہی ذات باری تعالیٰ سمجھتی ہے۔ بندوں کو ہر حال میں صبر اور شکر کی تلقین کی گئی ہے۔ کلثوم کی موت کا دکھ زندگی کی آخری سانس تک رہے گا لیکن اللہ نے اُسے بس اتنی ہی زندگی دی تھی۔ ہمارے پاس اللہ کی رضا پر صبر کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں۔
میرا اور کلثوم کا سینتالیس برس کا ساتھ تھا۔ ساتھ بھی ایسا کہ جسے ایک دوسرے کو سمجھنے، ایک دوسرے کا خیال رکھنے اور ایک دوسرے کے جذبات کا احترام کرنے کا مثالی تعلق کہا جا سکتا ہے۔ اس سفر کے دوران اچھے دن بھی آئے۔ بہت مشکل اور کٹھن وقت بھی آیا۔ میں نے کلثوم کو ہمیشہ صابر، شاکر اور باہمت پایا۔ وہ بہت حوصلے اور بڑی سمجھ بوجھ والی خاتون تھی۔ سیاست اُسے کبھی پسند نہیں رہی۔ 1980ء کی دہائی میں، جب میں پہلے پہل سیاست میں قدم رکھ رہا تھا تو بھی کلثوم کی رائے اس کے حق میں نہ تھی۔ وہ اپنی اس رائے پر ہمیشہ قائم رہی۔ اپنے بیٹوں کو بھی سیاست کے میدان سے دور رکھا۔ مشرف کی ڈکٹیٹر شپ کے دوران جب ہمیں جیلوں میں ڈال دیا گیا تو کلثوم نے بڑی جرأت اور بہادری سے آمریت کو للکارا۔ اس نے جمہوری قوتوں کو اکٹھا کر کے ایک کامیاب تحریک کی شکل دی۔ یہاں تک کہ آمر کے ارادے کمزور پڑ گئے۔ حالات کو سنبھلتے ہی کلثوم نے خاموشی سے خاتون خانہ کا کردار سنبھال لیا جو اُسے سب سے زیادہ عزیز تھا۔ بچوں کی تعلیم و تربیت پر کلثوم کی خاص توجہ رہی۔ رسمی تعلیم کے ساتھ ساتھ دین کی تعلیم، مشرقی اقدار، نماز روزے کی پابندی اور بڑوں کا احترام، یہ سب کچھ ہمارے خاندان کے بزرگوں کی میراث ہے۔ کلثوم نے اس میراث کو سنبھالا اور اپنے بچوں کو بطریق احسن منتقل کیا۔
میرے ذہن میں پہلے بھی اکثر خیال آتا تھا اور اب تو ہر روز یہی سوچتا ہوں کہ سینتالیس سال کے لمبے سفر کے دوران ہمارے درمیان کبھی تلخی کا کوئی لمحہ نہیں آیا۔ گھر میں کسی نہ کسی بات پر میاں بیوی کے درمیان اختلاف رائے ہو جاتا ہے۔ کشیدگی اور تلخی بھی پید اہو جاتی ہے۔ وقتی طور پر ناراضی بھی ہو جاتی ہے۔ لیکن مجھے کوئی ایک بھی ایسا واقعہ یاد نہیں۔


اس کا کریڈٹ یقینا کلثوم کوجاتا ہے۔ اس نے کبھی ایسا ماحول ہی نہیں بننے دیا کہ بات آگے بڑھے اور تلخی کی طرف جائے۔ میں نے اُسے تمام معاملات میں بڑا معاملہ فہم اور دانا پایا۔ سیاست سے دلچسپی نہ ہونے کے باوجود اس کی سیاسی سوجھ بوجھ کمال کی تھی۔ اس کا مشورہ ہمیشہ بڑا مناسب اور اکثر درست ہوتا۔ سیاست کی وجہ سے میرے لیے یا خاندان کے لیے پیدا ہونے والی مشکلات میں کبھی اس نے ہمت نہ ہاری۔ اس کی ہمت ہمیشہ میرا حوصلہ بھی بڑھاتی رہی۔
کلثوم کی بیماری کا انکشاف اچانک ہوا۔ ہم سیاسی معاملات اور عدالتی کارروائیوں میں اُلجھے ہوئے تھے۔ میری ”انتخابی نا اہلیت“ اور وزارت عظمیٰ سے سبکدوشی کا فیصلہ آ چکا تھا جب کلثوم کی گردن کے نچلے حصے میں تکلیف بڑھنے لگی۔ اگست میں وہ چیک اپ کے لیے لندن گئی اور معلوم ہوا کہ اُسے کینسر کا موذی مرض لاحق ہو چکا ہے۔ یہ ہم سب کے لیے دل دہلا دینے والی خبر تھی۔ لندن میں علاج شروع ہو گیا۔ میرے دل پہ آج بھی بڑا بوجھ ہے کہ میں مختلف مقدموں میں مسلسل پیشیوں کی وجہ سے ان مشکل دنوں میں کلثوم کا ساتھ نہ دے سکا۔ میں چاہتا تھا کہ سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر اپنی زندگی بھر کی رفیقہ کے ساتھ رہوں۔ میرے ساتھ مریم کو بھی مقدموں میں الجھا دیا گیا۔ 14 جون کو سپریم کورٹ نے ہمیں صرف پانچ دن کے لیے لندن جانے کی اجازت دی۔ ہمارا خیال تھا کہ عید کلثوم کے ساتھ منائیں گے۔ جب ہم لوگ ہیتھرو ائر پورٹ سے نکلے تو خبر ملی کہ کلثوم پر اچانک دل کا شدید دورہ پڑا ہے۔ جس سے اس کے بدن کے تمام اہم اعضاء بشمول پھیپھڑوں اور گردوں نے کام کرنا چھوڑ دیا ہے۔ وہ بے ہوشی کی حالت میں آئی سی یو میں ہے اور اسے وینٹی لیٹر کے ذریعے مصنوعی سانس دی جا رہی ہے۔ مجھے اور مریم کو شدید جھٹکا لگا لیکن کوئی چارہ نہ تھا۔ ہم مزید تقریباً ایک مہینہ لندن میں رہے۔ اس سارے عرصے میں کلثوم کو ہوش نہیں آیا اور وہ وینٹی لیٹر پر ہی رہی۔

اس دوران معلوم ہوا کہ احتساب عدالت نے کارروائی مکمل کر کے ریفرنس پر فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔ ہم نے اپنے وکلاء کے ذریعے درخواست دی کہ چند دنوں کے لیے فیصلہ موخر رکھا جائے تاکہ ہم کچھ دن کلثوم کے ساتھ گزار سکیں جس کی حالت نہایت تشویشناک تھی۔ یہاں ایسی مثالیں ہیں کہ عدالتی فیصلے کئی مہینے تک محفوظ رکھے گئے۔ لیکن ہماری درخواست مسترد کر دی گئی۔ 6 جولائی کو احتساب کورٹ نے ہمیں لمبی قید کی سزائیں سنا دیں۔ اُدھر کلثوم کی حالت مسلسل بگڑ رہی تھی۔
ہم جب سے لندن پہنچے تھے، کلثوم ہم سے اور ہم کلثوم سے کوئی بات نہیں کر سکے تھے۔ بات تو خیر کیا ہوتی، کلثوم یہ بھی نہ دیکھ سکی کہ ہم اس کے سر ہانے کھڑے، اُسے آواز دے رہے ہیں۔ فیصلہ آ جانے کے بعد میرے سامنے دوراستے تھے۔ ایک یہ کہ میں سینتالیس سال کی لمبی رفاقت کو اس حال میں چھوڑ کر نہ جاؤں۔ ڈاکٹروں کا مشورہ بھی یہی تھا کہ میں اور مریم، مریضہ کے پاس رہیں۔ کلثوم، بستر مرگ (Death Bed) پہ تھی۔ کوئی سانس بھی اس کا آخری سانس ہو سکتا تھا۔ اُسے اس حال میں چھوڑ کر جانا میرے لیے ناقابل تصور تھا۔ دوسری طرف تاریخ کے ایک اہم موڑ پر پوری قوم میری طرف دیکھ رہی تھی۔ ایک طرف اپنی رفیقہ حیات کے ساتھ میرا قلبی اور جذباتی رشتہ تھا اور دوسری طرف میں کسی قیمت پر یہ تاثر نہیں دینا چاہتا تھا کہ میں سزا اور جیل سے بچنے کے لیے کوئی بہانہ تلاش کر رہا ہوں۔ میں نے دوسرے راستے کو چنا۔ یہ ہماری تاریخ کی واحد مثال ہے کہ کوئی شخص اپنی بیٹی کا بازو تھامے اتنی لمبی قید کاٹنے وطن واپس آ گیا ہو۔ ایک بے بنیاد ریفرنس پر ایک انتہائی کمزور اور متنازعہ فیصلہ آ چکا تھا مجھے قانون کے سامنے حاضر ہونا تھا۔ وہ بڑا ہی تکلیف دہ اور جذباتی لمحہ تھا جب میں اور مریم، کلثوم کو اللہ کے حوالے کر کے وطن کے لیے نکلے۔ میں رخصت ہوتے وقت کلثوم کو پکارتا رہا لیکن اس نے کوئی جواب نہیں دیا۔ مجھے اندازہ ہے کہ ایک بیٹی ہونے کے ناطے مریم کی ذہنی اور جذباتی کیفیت کیا تھی لیکن اس نے جو کہا تھا، سچ کر دکھایا۔ وہ میری کمزوری کے بجائے میری طاقت بن گئی۔
میں، مریم اور صفدر، اڈیالہ جیل کے مختلف سیلز میں تھے۔ اس دوران میں خبریں آنے لگیں کہ کلثوم کی طبیعت سنبھل رہی ہے، اُسے ہوش آ گیا۔ وہ آہستہ آہستہ باتیں کرنے لگی۔ اس کا دماغ پوری طرح کام کر رہا تھا۔ یہ بات جیل کی کال کوٹھڑی میں بڑا حوصلہ دیتی تھی کہ کلثوم ٹھیک ہو رہی ہے۔ جیل والے ہفتے میں ایک دن ہماری مختصر بات کراتے تھے۔ میں سوچتا تھا کہ جلد کلثوم سے ملاقات کا موقع ملے گا ان شاء اللہ۔ انتقال سے ایک دن قبل بھی میری اور مریم کی کلثوم سے بات ہوئی۔ ہمارے گمان میں بھی نہ تھا کہ یہ کلثوم سے آخری گفتگو ہے۔ اگلے دن میں، احتساب عدالت میں پیش تھا کہ کسی نے مجھے کلثوم کی طبیعت کے بگڑ جانے کی خبر دی۔ جیل آ جانے کے بعد رابطے کی کوئی صورت نہ تھی۔ میں شدید پریشانی کے اسی عالم میں تھا کہ شام کو جیل کے ایک افسر میرے سیل میں آئے اور مجھے کلثوم کے انتقال کی خبر دی۔ میں اپنی کیفیت کا اظہار لفظوں میں نہیں کر سکتا۔ میں نے جیل افسر سے کہا کہ مجھے مریم کے پاس لے چلو۔ انہوں نے مہربانی کی۔ مجھے مریم کے سیل تک لے آئے۔ مریم اچانک مجھے اپنے سیل میں دیکھ کر پریشان ہو گئی۔ میں نے اُسے گلے لگایا اور بتایا کہ کلثوم ہمیں چھوڑ گئی ہے۔ (ان اللہ وانا الیہ راجعون)
یہ ایک قیامت تھی جو ہم پر گزر گئی۔میں کئی سالوں پر پھیلی ہوئی بہت سی مشکلات اور مصیبتیں شاید بھول جاؤں گا۔ لیکن یہ گہرا زخم کبھی نہیں بھرے گا کہ میری سینتالیس سال کی رفیقہ حیات کینسر کے موذی مرض میں مبتلا، زندگی کی آخری سانسیں لے رہی تھی اور میں اس سے ہزاروں میل دور جیل کی تنگ و تاریک کوٹھڑی میں بے بسی کے عالم میں سوچ رہا تھا کہ پتہ نہیں کلثوم کس حال میں ہے۔ یہ تشنگی ایک آگ کی طرح میرے اندر سلگتی رہے گی کہ میں کلثوم کی زندگی کے آخری لمحات میں اس کے پاس نہ تھا۔
پاکستان کے لوگوں نے کلثوم کو بہت عزت دی۔ اس کی نماز جنازہ میں لاکھوں لوگ شریک ہوئے۔ گھر گھر اس کے لیے دعائیں ہوئی۔ مجھ سے تعزیت کرنے والوں کا سلسلہ اب تک جاری ہے۔ ان میں پاکستان کے علاوہ بیرون ملک کی شخصیات بھی شامل ہیں۔ میں ان سب کا شکر گزار ہوں۔ اللہ انہیں اس محبت اور ہمدردی کا اچھا صلہ دے۔ اللہ کلثوم کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام دے۔ اس کے بغیر خود کو بہت تنہا محسوس کرنے لگا ہوں۔ لیکن اللہ کے ہر فیصلے کے سامنے سر جھکانا پڑتا ہے۔

 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *