شہرت، سیاست اور روحانیت کا مشکل سفر

"آتش تاثیر"
ایک رات اُس محترمہ، جو مستقبل میں پاکستان کی خاتون ِاوّ ل بننے والی تھیں، نے ایک خواب دیکھا۔ خواب، کشف اور پیش گوئیاں بشریٰ مانیکا کے گھر کی بات ہے؛وہ ایک روحانی پیشوا،ایک زندہ ولی ہیں۔ عقیدت مند اُنہیں پنکی پیرنی کے نام سے جانتے ہیں؛ اور اُن کی غیب دانی کی شہرت اُن کے قصبے، پاکپتن تک ہی محدود نہیں۔ مرکز ِ روحانیت، پاکپتن، لاہور کے جنوب مغرب میں 115 میل کے فاصلے پر ہے۔ 2015 ء میں بشریٰ مانیکا نے اپنے حلقہ ارادت میں اُس شخص کو شامل کیا جو اُن کے روحانی القا کا مرکزی کردار تھا۔ یہ صاحب کوئی اور نہیں، پاکستان کے شہرت یافتہ کرکٹر، عمران خان تھے، جو اس وقت پاکستان کے سب سے مشہور شخص ہیں۔ عمران خان اپنی سوانح عمری میں لکھتے ہیں، ”روحانی پیشوا، یا پیر پاکستان میں عام ہیں۔ ملک کے دیہی علاقوں کے لاکھوں لوگ اُن سے عقیدت رکھتے ہیں؛ مذہبی معاملات میں رہنمائی لیتے ہیں؛ یا اُن کی روحانی طاقت سے خاندانی اور دیگر مسائل کا حل چاہتے ہیں۔“
عمران خان اگرچہ خود ولی اللہ نہیں، لیکن کسی دیوتا سے کم بھی نہیں۔ 1970 ء کی دہائی، جب میری والدہ، جو انڈیا میں ایک رپورٹر تھیں، نے اُن سے انٹرویو کیا، سے لے کر 1990 ء کی دہائی تک، جب پاکستان نے انگلینڈ کو شکست دے کر ورلڈ کپ جیتا، ؑعمران خان کا چرچا اُن تمام علاقوں میں ہوتا رہا جہاں کبھی یونین جیک لہراتا تھا۔ 1952 ء میں لاہور کی ایک اپر مڈل کلاس فیملی میں پیدا ہونے والے عمران اُس وقت جوان ہوئے جب کرکٹ ایک ”شریف آدمی کا کھیل“ تھا۔ نوآبادیاتی دور کے بعد کی تناؤ زدہ دنیا میں اسے برطانوی سلطنت کے پھیلاؤ کے پس ِ منظر میں دیکھا گیا، چنانچہ برطانیہ کو اسی کے کھیل میں ہرانے کے لیے پوری جان ماری جاتی۔ اپنی سوانح عمری میں عمران خان لکھتے ہیں، ”پاکستان، انڈیا اور ویسٹ انڈیز جیسی ٹیموں کو انگلینڈ کے خلاف کھیلتے ہوئے نوآبادیاتی دور کی زیادتیاں یاد آجاتیں، اور ہم کھیل کے میدان میں اُن کے ہم پلہ ہونے کے لیے پورا زور لگاتے۔“
سینے سے کھلی شرٹ، خواب ناک آنکھوں اور لمبے اور گھنگھریالے بالوں والے عمران نے اس میدان میں قدم رکھا۔ عظیم باکسر محمد علی کی طرح کھیل، جنس اور سیاست کے میدان کی منفرد شخصیات میں سے تھے۔ اُن کی سوانح عمری تحریر کرنے والے کرسٹوفر سینڈفورڈ لکھتے ہیں، ”عمران ایسی پذیرائی اور مقبولیت حاصل کرنے والے پہلے کھلاڑی نہیں تھے، لیکن یہ کریڈٹ کم و بیش اُنہی کا ہے کہ اُنھوں نے سنجیدہ اور سادہ سے مردانہ کھیل میں رومانوی رنگ بھر دیا۔“
اکسفورڈ سے تعلیم یافتہ (اگرچہ تھرڈ کلاس ڈگری)اور جاذب نظر عمران خان پر برطانوی اشرافیہ کے دروازے کھل گئے؛ ڈچز آف کرون ویل، کامیلا پارکر بولز کے بھائی، مارک شانڈ کا شمار عمران کے قریبی دوستوں میں ہوتا تھا؛ وہ جیری ہال اور گولڈی ہان کے ساتھ سیاحت کوجاتے؛ اور اگر اُن کی دوسری بیگم، ٹی وی کی دنیا کی مشہور شخصیت، ریحام خان کی باتوں پر یقین کرلیا جائے تو وہ گریس جونز کے ساتھ ”تھری سکور“ (جنسی سرگرمی جس میں بیک وقت تین افراد حصہ لیتے ہیں) میں بھی شریک رہے۔ تاہم اُنھوں نے پلے بوائے ہونے کے تاثر کو ہمیشہ رد کیا۔ اُنھوں نے 1983 ء میں میری والدہ کو بتایا، ”میں نے خود کو کبھی جنسی طور پر پرکشش نہیں سمجھا، اور نہ ہی یہ میری پہچان ہے“؛ تاہم وہ بالی ووڈ سے لے کر ہالی ووڈ تک شناسائی کی ایک طویل داستان رکھتے ہیں۔ سنہری چھت رکھنے والے چیلسی فلیٹ کی دیواریں بہت سی رنگین داستانوں کی گواہ ہیں۔ میرے انکل اور عمران خان کے قریبی دوستوں میں سے ایک، یوسف صلاح الدین، جو اپنی ذات میں خود ثقافت کا ایک ادارہ ہیں،نے حال ہی میں مجھے لاہور میں بتایا، ”عمران کی زندگی میں بہت سی عورتیں آئیں؛اس کی وجہ یہ کہ وہ بہت پرکشش تھے۔ میں نے انڈیا میں دیکھا کہ چھ سال کی لڑکیوں سے لے کر ساٹھ سال تک کی عورتیں بھی اُس کی دیوانی تھیں۔“
”1995 ء میں، 43 سال کی عمر میں عمران خان نے برطانیہ کے ایک دولت مند شخص، جمی گولڈ سمتھ کی بیٹی، جمائمہ گولڈ سمتھ کے ساتھ شادی کی۔کہا جاتا ہے کہ مسٹر گولڈ نے اپنے دامادکے بارے میں وجدانی انداز میں کہا، ”وہ ایک شاندار شوہر (پہلا) ثابت ہو گا۔“ مجھے یاد ہے کہ میں نے اپنے لڑکپن میں اس نئے شادی شدہ جوڑے کی تصویریں اتاری تھیں۔ ان میں سے کچھ ماربیلا (سپین کا ایک شہر) کی ایک بالکونی پر چوری چھپے کھنچی گئی تھیں۔ اگربرطانیہ میں خان کی جنسی کشش نے اپنا لوہا منوایا، تو یہ پاکستان میں مردانہ تفاخرکا اظہار بن گئی، جیسا کہ ملک کے سب سے مشہور ناول نگار، محسن حمید نے مجھ لاہور میں بتایا، ”عمران خان نسوانی آزادی کی مردانہ علامت تھے“۔
1990 ء کی دہائی کے وسط میں خان کی دنیا کے افق صاف تھے؛ اُنھوں نے کرکٹ کا عالمی کپ جیتا تھا؛ انتہائی خوبصورت اور بلند سماجی حیثیت رکھنے والی لڑکی سے شادی کی تھی؛ ذہن میں والدہ مرحومہ کی یادیں بھی تھیں، جن کا 1985 ء میں کینسر سے انتقال ہوگیا تھا، اور خان نے اُن کی یاد میں پاکستان کا پہلا کینسر اہستپال بنایا۔ یہ ایک بہت بڑی فلاحی کاوش، اور قابل ِ تحسین کامیابی تھی۔ اُس موقع پر یہ سوال اپنی جگہ پر موجود ہے کہ پاکستان کے ایک چھوٹے سے قصبے کی غیب دان خان کو اور کیا دے سکتی تھی جو اُن کے پاس پہلے سے نہیں تھا؟
اس کا مختصر جواب ہے، سیاسی کامیابی۔ 1996 ء میں سیاست دان اور فوجی آمر اس شہرت یافتہ شخصیت کو اپنی صفوں میں شامل کرنا چاہتے تھے، لیکن عمران خان نے اُن سب کی استدعا مسترد کرتے ہوئے اپنی سیاسی جماعت کی بنیاد رکھی۔ پہلے انتخابی معرکے میں پاکستان تحریک ِ انصاف (پی ٹی آئی) کو پارلیمنٹ میں کوئی نشست نہ ملی۔ پانچ سال بعد خان نے ایک نشست جیتی، اور یہ اُن کی اپنی تھی۔ 2013ء میں، جبکہ اُن کی مقبولیت عروج پر تھی، پی ٹی آئی صرف 35 نستیں ہی جیت پائی۔ وہ اپنے دوستوں اور خیر خواہوں کو 20 سال سے بتارہے تھے کہ”جب اگلی مرتبہ آپ پاکستان آئیں گے تو میں وزیر اعظم ہوں گا۔“لیکن چار انتخابات گز ر گئے، دوشادیاں کیں، اور ناکام ہوئیں لیکن ڈھلتی عمر کے اس پلے بوائے کے وزیر ِاعظم بننے کا دور دور تک کوئی امکان دکھائی نہیں دیتا تھا۔
اور یہ وہی وقت تھا جب بشریٰ مانیکا نے خواب دیکھا۔
جس طرح گیم آف تھرون کا ہیرو ریڈ وومین سے مشاورت کرتا ہے، عمران خان نے پنکی پیرنی سے رہنمائی لی۔ ناممکن کو ممکن کرنے کے لیے پیرنی کے حضور نذر پیش کی گئی۔ کراچی سے میڈیا کی ایک سینئر شخصیت نے مجھے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ یہ نذر پکے ہوئے گوشت کا ایک بڑا سا تھال تھی۔اُنھوں نے ریستوران میں کھانے کے دوران مجھے بتایا کہ پنکی پیرنی کے پاس دو جن ہیں، اور وہ اُنہیں گوشت کھلاتی ہیں۔
”جن؟“ میں نے حیران ہوتے ہوئے پوچھا، جیسا کہ مجھے سننے میں غلطی لگی ہو۔
”ہاں“، اُس صحافی نے میری پلیٹ میں مزید نوڈلز ڈالتے ہوئے کہا ”اُن کے پاس دوجن ہیں۔“
پھر اُنھوں نے وہ دیومالائی کہانی سنائی جو سینئر سفارت کاروں اور وزیروں سے لے کر کر صحافیوں اور مزاحیہ فنکاروں تک، ہر پاکستانی کی زبان پر ہے۔ اگرچہ مانیکا نے اسے افواہ کہہ کر مسترد کردیا، لیکن یہ کہانی سچ کو دیومالائی میں لپیٹ میں پیش کرنے والے اساطیر کا درجہ حاصل کرچکی ہے۔
اُس منجھے ہوئے صحافی نے مجھے بتایا کہ ایک مرتبہ جب بشریٰ مانیکا کو کشف ہوگیا تو پھر پکے ہوئے گوشت کی کوئی مقدار خان کے جناتی عزم کو سیر کرنے کے لیے کافی نہ تھی۔ خواب میں آنے والی آواز واضح تھی: اگر عمران خان کو وزیر ِاعظم بننا ہے تو ضروری ہے کہ وہ کسی درست خاتون سے شادی کریں، اور درستی کی شرط ہے کہ وہ مانیکا خاندان سے تعلق رکھتی ہو۔
اس ہیجان خیز کہانی کے ایک بیان کے مطابق بشریٰ بی بی نے خان کو اپنی بہن سے شادی کی پیش کش کی؛ جبکہ ایک اور بیان کے مطابق اپنی بیٹی بھی پیش کی؛ لیکن خان صاحب متذبذب دکھائی دیے تو بشریٰ مانیکا نئے سرے سے کشف کے سمندر میں غوطہ زن ہوئیں۔ لیکن اس مرتبہ ابھرنے والی تصویر کسی اور کی نہیں، اُن کی اپنی تھیں۔ چنانچہ عمران خان کو وزیر ِاعظم بننے کے لیے ایک شادی شدہ عورت، جو پانچ بچوں کی ماں تھی، سے شادی کرنے کی ضرورت تھی۔ اب مانیکا بھی خان سے وہی کچھ چاہتی تھیں جو ہر عورت نے اُن سے چاہا تھا۔
خان نے کبھی بشریٰ مانیکا کو نہیں دیکھا تھا، کیونکہ وہ پردے کے پیچھے سے عقیدت مندوں کو روحانی مشورے دیتی تھیں۔ لیکن اس مرتبہ معاملہ مختلف تھا۔ جب ستارے مل جائیں تو نظریں بھی مل جاتی ہیں۔ قسمت کو منظور ہوا تو خاوند، جو کسٹم میں افسر ہیں، نے بھی منظوری دے دی۔ اُنھوں نے خان کی تعریف کرتے ہوئے اُنہیں ”اپنے روحانی خاندان کا ہونہار مرید“ قرار دیا، اور اس کے ساتھ ہی بشریٰ بی بی کو طلاق دے دی۔ فروری 2018 ء میں کرکٹراور روحانی پیشوا نے ایک نجی تقریب میں شادی کرلی۔ اس کے چھ ماہ بعد عمران خان پاکستان کے وزیر اعظم منتخب ہوگئے؛ اور پنکی پیرنی خاتون ِاوّ ل بن گئیں۔
اپریل کی ایک گرم صبح جب میری فلائٹ علامہ اقبال ائیرپورٹ، لاہور پر اتری تو میں نے اپنے پاس بیٹھے ہوئے گھنی اور رنگین مونچھوں والے شخص سے پوچھاکہ کیا مجھے انٹری کارڈ بھر لینا چاہیے یا نہیں۔ ”یہ عمران خان کا پاکستان ہے“، اُنھوں نے بہت جوشیلے لہجے میں جواب دیا۔ عمران خان نے ”ایک نئے پاکستان“ کا وعدہ کیا تھا، اور رنگین مونچھوں والے ان صاحب کا خیال تھا کہ اب اس مثالی ریاست میں فارم بھرنے جیسے سردرد سے نجات مل چکی۔
عمران خان جب امیدوار تھے، اور اب جب وزیر ِاعظم ہیں، ہر جگہ اور ہر موقع پر مقبولیت کا گراف اونچا رکھنے کے لیے کوشاں رہتے ہیں۔ ڈالر کی رسیا، مغرب زدہ اشرافیہ کو باور کرایا کہ وہ بیرونی ممالک میں چھپایا ہوا کالا دھن واپس لاکر جنوبی ایشیا کی اس سست ترین معیشت کی رگوں میں زندگی کا خون بھر دیں گے۔ بھارت کے نریندر مودی، ترکی کے اردوان اور برازیل کے بلسنارو بھی ایسے ہی وعدے کرتے ہیں، لیکن ایک فرق موجود ہے: خان کا تعلق عوام سے نہیں۔ خان کا تعلق اشرافیہ سے ہے۔ محض دولت مند اشرافیہ نہیں جو اُن کے تنقیدی حملوں کی زد میں رہتی ہے، بلکہ چکاچوند مقبولیت، ہیرو کا درجہ رکھنے والی اشرافیہ۔ اُنھوں نے 2002 ء میں ”عرب نیوز“ میں شائع ہونے والے اپنے آرٹیکل میں کہا تھا، ”میں ایک پکا دیسی انگریز بننے جارہے تھا۔ انگریزوں سے بھی زیادہ انگلش روایت کا پیروکار۔ اور میں ایسا کرسکتا تھاکیونکہ میرا سکول، یونیورسٹی اور سب سے بڑھ کر میرا برطانوی اشرافیہ کے حلقوں میں قابل ِ قبول ہونا مجھے اُن کے قریب لاتا تھا۔“ ترقی پذیر دنیا کی دیگر مقبول شخصیات کے برعکس عمران خان ایسے لوگوں کے جذبات پر نظر رکھے ہوئے ہیں جن کی وہ نمائندگی نہیں کرتے، اور نہ ہی وہ اُن جیسے ہیں۔ ٹرمپ یا بریگزٹ کے داعیوں کی طرح وہ بھی اپنے وعدوں سے یک لخت،ا ور مکمل طور پر پھر جاتے ہیں۔چنانچہ، جیسا کہ اُنھوں نے لکھا، ”میں نے دیسی انگریز بننے کی راہ سے گریز کرتے ہوئے خود کو حقیقی پاکستان کے ساتھ وابستہ کرلیا۔“
اگر کسی ایک شخص نے عمران خان کی زندگی کو اتنا متاثر کیا کہ وہ ایک کھلنڈرے پلے بوائے سے ایک انقلابی رہنما بن گئے تو وہ وہی ہیں جن کے نام پر لاہور کا ایئرپورٹ ہے: سرمحمد اقبال، ایک شاعر، ایک فلسفی، جو پاکستان کے وجود میں آنے سے ایک عشرہ قبل، 1938 ء میں انتقال کرگئے۔ لیکن یہ اقبال تھے جنہوں نے 1930 ء میں پہلی مرتبہ ایک سنجیدہ پلیٹ فورم سے بات کی کہ برطانوی ہند میں رہنے والے مسلمانوں کو ایک الگ ملک کی کیوں ضرورت ہے۔ایک ایسا ملک جہاں وہ اپنے ”اخلاقی اور سیاسی تصورات“ کے مطابق زندگی بسر کرسکیں۔ عمران خان کواقبال کی شاعری میں سے جس چیز نے سب سے زیادہ متاثر کیا، وہ اُن کا فلسفہ  خودی ہے۔ خان کے نزدیک اس کا مطلب عزت ِ نفس، خود اعتمادی، خودانحصاری اور خود شناسی ہے۔ خان کے خیال میں نوآبادیاتی دور کی شرمناک غلامانہ روشن سے نجات، اور اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کے لیے پاکستان کو بالکل اسی چیز کی ضرورت ہے۔ اُنہیں یقین تھا کہ یہ تصور پاکستان کو اپنی ہی اشرافیہ کے خلاف تحفظ دے گاکیونکہ اس اشرافیہ کی مغربی ثقافت کی نقالی نے اُن کے اندر ایک توہین آمیز احساس ِ کمتری پیدا کردیا ہے۔
بے شک یہ عمران خان کا ذاتی تجربہ تھا جس کی بنا پروہ اب مغرب کی اخلاقی گراوٹ پر بہت قطعی لہجے میں کڑی تنقید کرتے ہیں۔ خان کے دوست اور پاکستان کے سب سے پوپ سٹار، علی ظفر کا کہنا ہے، ”اُنہیں (خان کو) شدت سے احساس ہے کہ ہمیں مغرب کی فکری غلامی سے جان چھڑانی ہوگی۔ وہ محسوس کرتے ہیں کہ وہ مغرب کو کسی بھی شخص سے زیادہ جانتے ہیں کیونکہ وہ اُس تہذیب کے بہت اندر تک جاکر واپس آئے ہیں۔ اب اُن کا کہنا ہے کہ ہمیں اپنی شناخت، اپنا مقام،اپنی ثقافت اور اپنی جڑیں تلاش کرنا ہوں گی۔“
(جاری ہے)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *