شہرت، سیاست اور روحانیت کا مشکل سفر (قسط 3 )

"آتش تاثیر"

خان، یا طالبان خان، جیسا کہ اُنہیں ناقدین پکارتے ہیں، نے ملک میں سرائیت کرجانے والی مذہبی انتہاپسندی کی ہمیشہ حمایت کی ہے۔ اُنھوں نے طالبان کو اُس روز پاکستان میں سیاسی دفتر کھولنے کی پیش کش کی جس روز اُنھوں نے پشاور چرچ پر حملہ کرکے 81 افراد کو شہید کردیا تھا۔ اُن کی صوبائی حکومت نے اُن مدرسوں کو فنڈز دیے جنہوں نے ملاعمر جیسے جہادی پیدا کیے۔ یہی وجہ ہے کہ عمران خان نے مغرب کے تشدد پر تو کھل کر تنقید کی ہے، لیکن اسلامی انتہا پسندی کی مذمت کرتے ہوئے اُن کی زبان پر تالے پڑجاتے ہیں۔
سماجی معاملات میں عمران خان وکٹ کے دونوں جانب کھیلنا پسند کرتے ہیں۔ اُنھوں نے ہندؤوں کے بارے میں متعصبانہ بیان دینے پر ایک وزیر کو فارغ کردیاتو دوسری طرف اکنامک ایڈوائزی کونسل کے ایک اہم مشیر کو محض اس لیے نکال دیا کہ اُن کا تعلق ایک ایسے مسلک سے تھا جن کے ساتھ تعلق رکھنا(اُن کے نزدیک) کفر کے زمرے میں آتا ہے۔ خان کے حامیوں کا کہنا ہے کہ وہ اسلامی انتہا پسندی سے نمٹنے کے لیے بہت زیرک حکمت ِعملی سے کام لیتے ہیں۔ ایک مرتبہ چین کے سفر کے دوران علی ظفر نے خان سے اُن کے دائیں بازو کی طرف جھکاؤ کی وجہ پوچھی توکرکٹر نے پوپ سٹار سے کہا، ”یہ معاشرہ مخصوص معاملات پر بہت حساس ہے۔ آپ ان معاملات پر کھل کر بات نہیں کرسکتے، کیونکہ اُپ کو سزا ہوجائے گی۔“ تاہم خان نے علی ظفر کو یقین دلایا کہ اُنہیں پتہ ہے کہ وہ کیا کررہے ہیں۔ ”تم مجھے جانتے ہو“، اُنھوں نے کہا، ”میں لبرل ہوں۔ میرے انڈیا میں بھی دوست ہیں۔ میرے دوست غیر مسلم بھی ہیں۔ لیکن یہاں آپ کو بہت محتاط رہنا پڑتا ہے۔“
رواں سا ل کے آغاز میں جب آسیہ بی بی، جس کا دفاع میرے والدہ صاحب کررہے تھے، کی رہائی پر پاکستان میں احتجاجی مظاہرے ہونے لگے تو عمران خان کا رد عمل بہت محتاط اور جچا تلا تھا۔ اُن کی حکومت نے پہلے تو انتہا پسندوں کو کافی چھوٹ دی، لیکن پھر پانی سر سے گزرتا دیکھ کر اُن کی اعلیٰ قیادت کے خلاف کریک ڈاؤن کیا۔ میرے انکل یوسف صلاح الدین کا کہنا تھا، ”دیکھو، وہ اُن مولویوں سے کیسے نمٹا ہے۔“
”عمران نے کیا کیا ہے؟“ میں نے دریافت کیا۔

مزید پڑھئیے
"شہرت، سیاست اور روحانیت کا مشکل سفر (قسط 1 )"

"شہرت، سیاست اور روحانیت کا مشکل سفر (قسط 2 )"
”اُس نے اُن سب کو جیل میں ڈال دیا ہے تاکہ اُن کی عقل ٹھکانے آجائے۔“
میرے انکل، جو علامہ اقبال کے نواسے ہیں، اپنی ٹانگ کے زخم کی وجہ سے گھر آرام کررہے تھے۔ ہم سبزپردوں اور دھندلے
ششے کی کھڑکیوں والے خوبصورت کمرے میں بیٹھے تھے۔ پاکستان کی انتہائی جاذب نظر اداکارہ اور ماڈل، مہوش حیات ایک تکیے سے ٹیک لگائے آرام سے سگریٹ کے کش لگارہی تھی۔ 1960 ء کی دہائی میں ایک زندہ دل شخص کی شہرت پانے والے انکل یوسف عمران خان کو ایچی سن کے دنوں سے جانتے ہیں۔ وہ اپنے دوست پر بے پناہ اعتماد رکھتے ہیں۔ اُنھوں کا کہنا تھا، ”میں شروع سے جان گیا تھا کہ وہ ایک باصلاحیت لڑکا ہے۔وہ جس چیز کا ارادہ کرلے، اُسے حاصل کرکے رہے گا۔“انکل نے پہلے پہل عمران کو سیاسی میدان میں آنے کے خیال سے باز رکھنے کی کوشش کی۔ اُنھوں نے خان کو بتایا، ”یہ شریف آدمی کا کھیل نہیں“، لیکن عمران نے انکل کے نانا، علامہ اقبال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر اس میدان میں شریف آدمی نہیں آئیں گے تو پھر کون آئے گا؟
جب میں نے انکل یوسف نے پوچھا کہ یہ کتنی عجیب بات ہے کہ ایک شخص نے ازدواجی زندگی جمائمہ گولڈ سمتھ جیسی شہرت یافتہ لڑکی سے شادی کرکے کی، لیکن اب وہ پاکستان کے ایک چھوٹے سے قصبے کی روحانی پیشو ا سے شادی کررہے ہیں تو میرے انکل دفاعی قدموں پر چلے گئے۔ اُن سے کوئی جواب نہ بن پایا تو اُنھوں نے کہا، ”پھر اس میں کیا مضائقہ ہے؟“اگر خان کی ذاتی زندگی مسحور کن ہے تو اس کی یہ ہے کہ وہ اس معاشرے کے دہرے ثقافتی اور سماجی معیار کی نمائندگی کرتے ہیں۔ امریکی پادریوں کی طرح، جن کے قابل اعتراض تعلقات اور جدید زندگی کو اُن کا سیاسی رنگ میں رنگا مذہبی عقیدہ چھپالیتا ہے۔خان کی زندگی کے تضادات بھی کم اہمیت کے حامل نہیں کیوں کہ اُن سے ہمیں پتہ چلتا ہے کہ عمران کیا ہیں۔بلکہ پاکستان کیسا ملک ہے۔ دیگر مقبول شخصیات کی طرح عمران خان بہت بہتر طور پر جانتے ہیں کہ اُن کا مقابلہ کس سے ہے، اور اُن کا مقصد کیا ہے۔ اُن کی اشرافیہ، جس سے وہ تعلق رکھتے ہیں، سے نفرت، اُن کی سیاست کی روح ِ رواں ہے۔ وہ ترکی کے اتاترک اور ایران کے رضا شاہ پہلو ی جیسے مصلح رہنماؤں پر تنقید کرتے ہیں کہ اُنھوں نے مغرب کی نقالی کرتے ہوئے اپنے معاشروں کو ترقی دینے کی کوشش کی۔
ہوسکتا ہے کہ جدیدیت پر تنقید کرتے ہوئے خان درست ہوں کہ اس کی آڑ میں ہمارے ہاں مغربی روایات سرائیت کررہی ہیں، لیکن وہ خود بھی قصوروار ہیں کہ وہ مغرب کومحض مادیت اور آزاد خیالی تک ہی محدود سمجھتے ہیں۔ جب مغرب کی ناقابل ِتردید کامیابیوں، جیسا کہ جمہوریت اور سماجی فلاح کی بات ہو تو خان نہایت سہولت سے انہیں اسلام کی تاریخ سے منسلک کردیتے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں، ”حضرت محمد مصطفی ﷺ اور چاروں خلفائے راشدین کے زمانے پر محیط اسلام کے سنہری دور کے معاشرے میں جمہوری اصول موجود تھے۔“
عمران خان کوئی پہلے اسلامی رہنما نہیں جن کا اصرار ہو کہ تمام اچھی چیزیں اسلام سے آئی ہیں، اور تما م خرابیاں مغرب سے۔ لیکن ایسا کرتے ہوئے وہ ایک منفی تصویر میں رنگ بھر رہے ہیں۔ تاثر یہ جاتا ہے کہ اُن کے پاس کوئی سیاسی پروگرام نہیں، وہ سرمایہ دارانہ نظام پر زہریلی تنقید کرکے معاشرے میں تعصب کی فضا گہری کررہے ہیں۔

(جاری ہے)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *