کوکین اور شراب کے ایک ساتھ استعمال سے اموات کا خدشہ بڑھ جاتا ہے: تحقیق

ڈاکٹروں نے خبردار کیا ہے کہ کوکین اور الکوحل کو ساتھ ملانا ایک جان لیوا ملاپ ہے جو رویوں میں متشدد اور جذباتی کیفیت پیدا کر سکتا ہے۔

بی بی سی کے پروگرام وکٹوریا ڈربی شائر پروگرام کی تحقیقات کے مطابق گذشتہ سال برطانیہ میں ان دو اجزا کے استعمال سے کم از کم 13 افراد خود اپنی موت کی وجہ بنے۔

برطانیہ کے مشہور ٹی وی پروگرام ’لو آئی لینڈ‘ کے مقابلے کے دو شرکا سمیت الکوحل اور کوکین ملا کر استعمال کرنے والے کئی لوگوں نے اپریل 2018 سے مارچ 2019 کے درمیان اپنی جان لی ہے۔

پوسٹ مارٹم حکام کا کہنا ہے کہ اس طرح کے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

فلاحی ادارہ انکوئیسٹ ’اپنی موت کی وجہ بننا‘ ان حالتوں کو قرار دیتا ہے جب کسی شخص نے خود کو ایسے زخمی کیا ہو یا نقصان پہنچایا ہو جس سے ان کی موت واقع ہوگئی ہو۔

اس پروگرام نے ویلز میں اسی عرصے میں ایک اور ایسے ہی واقعے کا پتا چلایا ہے، جبکہ انگلینڈ میں اسی قسم کے پانچ اور واقعات پیش آئے جن میں الکوحل اور کوکین ملا کر استعمال کی گئی تھی۔ تاہم پوسٹ مارٹم حکام کا کہنا ہے کہ ان اموات کو خودکشی قرار دینے جتنے ٹھوس شواہد موجود نہیں ہیں۔

’کوکین اور شراب دماغ مکمل دھندلا دیتی ہیں‘

ان افراد میں سے ایک 21 برس کے لوگان وولیسکروفٹ ہیں جو 2018 میں ڈربی شائر میں واقع اپنے گھر کی قریبی پہاڑی چوٹی سے گھِر کر ہلاک ہو گئے۔

ان کے والد سٹیو کا کہنا ہے کہ انھوں نے چوٹی کے اوپر آٹھ گرام کوکین اور ایک شراب کی بوتل برآمد کی اور وہ ’صرف یہ جانتے ہیں‘ کہ ان کے بیٹے نیچے گرے۔ پولیس نے بعد میں ان کی لاش برآمد کی۔

ان کے والد کا کہنا ہے کہ لوگان کا رویہ موت سے تین ماہ قبل بہت متشدد ہو چکا تھا اور وہ شدید ذہنی دباؤ کے شکار تھے۔

انھوں نے کچھ نئے دوست بنا لیے تھے اور کوکین اور شراب کا استعمال بہت بڑھا دیا تھا۔ پوسٹ مارٹم حکام کا کہنا ہے کہ لوگان نے اپنے خاندان کے لیے پیغام چھوڑا تھا مگر ہو سکتا ہے کہ وہ نشے کی حالت میں وہاں سے گرے ہوں، چنانچہ انھوں نے رپورٹ میں موت کی وجہ خودکشی کو قرار نہیں دیا۔

لوگان کے والد سٹیو کا کہنا ہے کہ انھیں اس بات پر ’100 فیصد‘ یقین ہے کہ ان کے بیٹے کی موت کوکین اور الکوحل کو ملا کر استعمال کرنے کی وجہ سے ہوئی ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’ذہنی دباؤ میں اضافہ کرنے والے نشے (شراب) اور ذہن کو متحرک کر دینے والے نشے (کوکین) کو ملا کر استعمال کرنے سے آپ کا دماغ مکمل طور پر دھندلا جاتا ہے اس کیفیت میں آپ کو کچھ پتا نہیں چلتا کہ آپ کہاں پر ہیں۔‘

لوگان کی بہن ٹِلی کا کہنا ہے کہ ’مجھے یہ سوچنا اچھا لگتا ہے کہ وہ پہلے کیسے تھے۔ وہ بہت اچھے لڑکے تھے۔ یہ سوچنا کہ ایسی کوئی چیز کسی کو اس قدر تبدیل کر سکتی ہے، اس سے یہ پتا چلتا ہے کہ یہ آپ کے ساتھ کیا کچھ کر سکتی ہے۔‘

’جذباتیت میں اضافہ ہوجاتا ہے‘

اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ گذشتہ دو دہائیوں کے دوران کوکین اور شراب کے ملاپ سے ہونے والی اموات میں اضافہ ہوا ہے اور مزید یہ کہ کوکین کے استعمال میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

جولیا سنکلیئر، منشیات، کوکین، شراب

پروفسیر جولیا سنکلیئر کہتی ہیں کہ پوسٹ مارٹم حکام کا نتائج مرتب کرنے کا انداز ممکنہ طور پر پیچیدہ نوعیت کے کیسز میں ابھرتے ہوئے رجحانات کو غیر واضح کر رہا ہے

برطانیہ کے رائل کالج آف سائیکاٹرسٹس میں نشے کی لت کے شعبے کی سربراہ پروفیسر جولیا سنکلیئر کا کہنا ہے کہ اپنی کیمیائی ترکیب کے اعتبار سے الکوحل اور کوکین بہت مختلف نشے ہیں۔

وہ بتاتی ہیں کہ ’الکوحل ایک ڈپیریسینٹ ہے، یعنی یہ ذہنی تحرک گھٹا دیتا ہے۔ یہ دماغ میں گاما امینوبیوٹائرک ایسڈ (گابا) کی مقدار بڑھا دیتا ہے جو دماغی ہینڈ بریک کی طرح کام کرتا ہے جس سے ہماری بے چینی کی کیفیت کم ہوجاتی ہے۔

’ آپ اس میں کوکین شامل کریں تو آپ کو راکٹ جیسا تحرک ملے گا جس سے کچھ لوگ ایسے کام کرنے پر آمادہ ہو سکتے ہیں جو وہ عام طور پر نہ کریں۔ یہ آپ کی طرف آتی ایک تیز رفتار کار کے سامنے سے گزرنے کے مترادف ہے۔‘

امریکہ میں کی گئی کچھ تحقیقات کے مطابق یہ ملاپ خود کشی کے خطرے میں 16 گنا تک اضافے کا سبب بن جاتا ہے۔

اس موضوع پر مزید تحقیقات کا مطالبہ کیا جا رہا ہے تاکہ الکوحل اور کوکین کے ملاپ کے خودکشی یا زندگی کے لیے خطرہ بننے والے رویے سے تعلق کا پتا چلایا جائے۔

کچھ ڈاکٹرز کا خیال ہے کہ جب ان دو کا ملاپ کیا جاتا ہے تو اس سے کوکا ایتھائیلین پیدا ہوتا ہے جو وقتی طور پر تو سرور بڑھا دیتا ہے لیکن بلڈ پریشر میں اضافے، قوتِ فیصلہ میں کمی اور متشدد خیالات کی وجہ بن جاتا ہے۔

پروفیسر سنکلیئر کہتی ہیں: ’لوگ اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ آخر وہ کون سی چیز ہے جو اس ملاپ کو ایسا زہریلا ملغوبہ بنا دیتی ہے۔ یہ کوکا ایتھائیلین بھی ہوسکتا ہے لیکن ہمیں نہیں معلوم، اور ہر کسی پر اس کا مختلف اثر ہوتا ہے۔‘

صوفی گریڈن، منشیات، کوکین، شراب

لو آئی لینڈ کی سٹار صوفی گریڈن گذشتہ سال جون میں ہلاک ہوگئی تھیں

’متشدد خیالات فروغ پاتے ہیں‘

گذشتہ ایک سال میں کوکین اور الکوحل استعمال کرکے اس طرح ہلاک ہونے والوں میں معروف برطانوی ٹی وی ریئلیٹی شو ’لو آئی لینڈ‘ کے مقابلے میں شریک مائیک تھیلاسیٹیز اور صوفی گریڈن شامل ہیں۔ صوفی کے بوائے فرینڈ ایرون آرمسٹرانگ نے اپنی گرل فرینڈ کی خوکشی کے چند ہفتوں بعد اپنی جان لے لی۔

اس طرح کی اموات کے اعداد و شمار الگ سے ریکارڈ کرنے کے لیے کوئی معیار طے نہیں ہے، چنانچہ ایک محقق سے رابطے کے بعد ہم نے مقامی اور قومی میڈیا میں شائع ہونے والی خبروں سے اعداد و شمار کا پتا چلایا ہے۔ لیکن اس بات کا امکان ہے کہ مرنے والوں کی تعداد حقیقت میں اس سے زیادہ ہوسکتی ہے۔

پروفسیر سنکلیئر کہتی ہیں کہ پوسٹ مارٹم حکام کا نتائج مرتب کرنے کا انداز ممکنہ طور پر پیچیدہ نوعیت کے کیسز میں ابھرتے ہوئے رجحانات کو غیر واضح کر رہا ہے۔

پوسٹ مارٹم کے بعد ہونے والی تحقیقات کی چھان بین کرنے پر ہم نے پایا کہ جن کیسز میں ہلاک ہونے والوں نے خود کو پھندا لگایا، اس میں پوسٹ مارٹم حکام ہمیشہ خودکشی کے نتیجے پر نہیں پہنچے اور موت کی وجوہات کا تعین نہیں کیا گیا۔

لیکن پوسٹ مارٹم حکام نے بہت سے کیسز میں خطرات سے متعلق خبردار کیا ہے۔

مس گریڈن کا کیس سننے والے افسر ایرک آمسٹرانگ نے اپنے نتیجے میں کہا: ’الکوحل اور کوکین کے استعمال کے نتائج کی وجہ سے فی الوقت کافی تحفظات موجود ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’اس ملاپ سے متعلق جو میں اخذ کرسکا ہوں وہ یہ کہ اس ملاپ کا استعمال وہ لوگ کرتے ہیں جن کا ماننا ہے کہ یہ نام نہاد سرور کافی تیزی سے لا سکتا ہے۔ وہ اس چیز کو تسلیم کرنے سے عاری ہیں کہ اس ملاپ سے بظاہر متشدد خیالات میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔ اگر صوفی کی موت سے کچھ حاصل ہو سکتا ہے تو وہ یہ کہ یہ پیغام دور تک پھیلنا چاہیے۔‘

وزارت انصاف کا کہنا ہے کہ پوسٹ مارٹم حکام ویسے تو موت کے اعداد و شمار اکھٹے کرنے میں اپنا کردار ادا کرتے ہیں لیکن یہ ان کی قانونی ذمہ داری نہیں ہے۔

برطانیہ کے ہیلتھ اینڈ سوشل کیئر محکمے کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ ان کا محکمہ خودکشی کی روک تھام کے لیے ڈھائی کروڑ پاؤنڈز کی رقم خرچ کر رہا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ’ہم منشیات اور الکوحل کی وجہ سے ہونے والے نقصانات کو کم کرنے کے لیے بھی پرعزم ہیں اور ہم نے منشیات پر ایک وسیع اور آزادانہ تحقیق کا حکم دیا ہے تاکہ ہم اس حوالے سے ہماری فہم بہتر ہو سکے۔

’نیشنل ہیلتھ سروس کے طویل مدتی منصوبے کے تحت ہم ان ہسپتالوں میں الکوحل کیئر ٹیمیں بھی بھیج رہے ہیں جہاں الکوحل کی وجہ سے بڑی تعداد میں مریض آتے ہیں۔‘

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *