شہرت، سیاست اور روحانیت کا مشکل سفر (قسط 4 )

"آتش تاثیر"

کم وبیش چالیس سال پہلے وی ایس نیپول(V.S. Naipaul) نے ”Among the Believers“، جس کے لیے اُنھوں نے پاکستان کے بہت سے سفر اختیار کیے، میں لکھا تھا، ”اسلام کی تجویز کردہ زندگی اس کے اپنے اصول نہیں، بلکہ بیرونی واقعات اور حالات سے کشیدکردہ دانائی، اور عالمی تہذیب کا حصہ ہے۔“ عمران خان مغربی اثرات کا تدارک کرنے، اور پاکستان کی اشرافیہ اور روشن خیال طبقے کی سرکوبی کے لیے علامہ اقبال کے اشعار استعمال کرتے ہیں۔ لیکن اشعار، اور ان کا سیاسی استعمال مغربی معاشرے کی حقیقی طاقت اور اپنے معاشرے کی کمزوریوں اور کوتاہیوں کا جائزہ نہیں لیتا۔ جب تک جانچ اور جائزہ میں سنجیدگی نہیں دکھائی جاتی، ہم ”ثقافتی، ذہنی، علمی اور اخلاقی نشاۃ ِ ثانیہ“، جس کی خان صاحب آرزو کرتے ہیں، کے مراحل طے نہیں کرسکتے۔ علامہ کے تصور ِ خود ی کا عملی نتیجہ یہ نکلا کہ لوگ اپنی پہچان کے لیے خدا کے سامنے ببانگ دہل سجدہ ریز تو ہوئے، لیکن ”خود کو پہچان کر“ خاموشی سے مغربی طرز ِزندگی گزارتے رہے۔

***

”چھ گرام؟“، میں نے غیر یقینی انداز میں ریحام خان سے پوچھاتو جواب ملا، ”اگر وہ روزانہ چھ گرام استعمال نہ کریں تو اُن کا جینا مشکل ہے۔“ ایک روشن اور خوشگوار دن کنگسٹن سٹریٹ لندن کے فرینچ سٹائل ریستوران میں سیاہ بلاؤز اور سنہرے نیکلس پہنے خان صاحب کی سابق بیگم، ریحام خان میرے ساتھ موجود تھیں۔ اُن کی ہنگامہ خیز شادی کا دورانیہ صرف دس ماہ ہی رہا۔ ریحام خان اپنی دھماکہ خیز کتاب لکھ رہی تھیں جن میں اُنھوں نے خان کی ہم جنس پرستی اور بے وفائی سے لے کر کوکین کے استعمال تک، ہر چیز کھول کررکھ دی تھی۔ کوکین کی بیان کردہ مقدار ہاتھی کے بچے کو ہلاک کرنے کے لیے بھی کافی تھی۔ریحام کا کہنا تھا، ”اُن کی دراز میں ہمیشہ تین ساشے موجود ہوتے تھے۔ ہر ساشے پیک میں تین گولیاں ہوتی تھیں۔“پھر وہ اپنے سابق شوہر کی کوکین کے استعمال کے بارے میں بتاتی ہیں کہ”وہ ہر رات نصف گولی کوک کے ساتھ لیتے،جبکہ تقاریر کرنے سے پہلے پوری گولی استعمال کرتے۔“ریحام کی کتاب بظاہر ”انتقامی کارروائی“ دکھائی دیتی ہے۔ مان لیں کہ یہ مبالغہ آرائی ہے، تو بھی اس کی تہہ میں کچھ حقیقت موجود ہوگی جس کی ماضی میں خان کی سیاسی ناکامی، تنہا زندگی، اور سنجیدہ مزاجی، اور کئی ایک دیگر ذرائع سے تصدیق ہوتی ہے۔ پاکستان کے ایک انتہائی سینئر کالم نگار نے مجھے بتایا، ”یہ اُن کی زندگی کا سیاہ پہلو ہے۔وہ تمام دوستوں سے چھٹکارا پانا چاہتے ہیں۔ بلکہ وہ چاہتے ہیں کہ وہ اُن گھر میں بھی قدم نہ رکیں۔“اس کالم نگار نے عمران کے ساتھ ایک عمر کی مسافت طے کی ہے؛ اُن کا کہنا ہے کہ خان ایک ”پریشان کن نوجوان“ تھے۔ایک موقع پر خان کالم نگار کے چھوٹے بھائی کے ساتھ موٹر سائیکل پر بیٹھا ہوا تھا جب اُس نے اپنے باپ کو ایک عورت کے ساتھ کار میں جاتے دیکھا۔ ”اس کار کا پیچھا کرو“، خان نے کہا، ”میں اس خبیث کو ہلاک کرنا چاہتا ہوں۔“
خان کا موازنہ اکثر صدر ٹرمپ کے ساتھ کیا جاتا ہے، لیکن بطور سیاست دان وہ بل کلنٹن سے مشابہت رکھتے ہیں۔ ریحام کی کتاب کے مطابق، خان کے والد صاحب، جو ایک سول انجینئر تھے، شباب اور شراب کے رسیا تھے، اور اکثر نشے کے عالم میں اپنی بیوی پر تشدد کیا کرتے تھے۔ بطور ایک شہرت یافتہ کھلاڑی اور سیاست دان، عمران خان بھی اپنی شخصیت، کشش، مقبولیت اور حیثیت کا فائدہ اٹھا کر ایسی ”فتوحات“ میں کوئی مضائقہ نہیں سمجھتے۔ ایک صاحب، جو خان کو بہت عرصے سے جانتے ہیں، نے مجھے لاہور کی ایک کافی شاپ میں ملاقات کے دوران بتایا کہ ایک جنسی جنونی ہیں۔”امریکہ میں عطیات جمع کرنے کی مہم کے دوران اُن کا ایک کارندہ اُن کے ساتھ ساتھ ہوتا تھا۔ خان کسی عورت کے ساتھ تصویر بنواتے، اور اگر وہ عورت شکل صورت کی اچھی ہوتی تو وہ کارندہ اُس سے رابطہ کرکے پوچھتا کہ کیا پروگرام کے بعد ملاقا ت ممکن ہے؟ آپ کا فون نمبر کیا ہے؟ وہ کچھ عورتوں کے رابطہ نمبر حاصل کرنے میں کامیاب ہوجاتا۔“
پاکستان جیسے گھٹن کا شکار معاشرے میں، جہاں عام جسمانی ضروریات کو بھی پابندیوں کا سامنا ہے، خان صاحب خود لطف اٹھا لیتے ہیں، لیکن دوسروں کو ایسا کرنے کی اجازت نہیں دیتے۔ اُن کے سابق ساتھی نے اُن پر الزام لگایا تھا کہ ”عمران پاکستان کے دہرے رویوں کی جیتی جاگتی مثال ہیں۔“اس میں کوئی شک نہیں وہ عقیدے کے نام پر توہم پرستی کا شکار ہیں۔ وہ اپنی سوانح عمری میں جس”روحانی تجربات“ کا ذکر کرتے ہیں، ہر روحانی عالم کے لیے ایک معمول کی بات ہے۔۔۔ کسی پیر کا اُن کی والدہ کو بتانا کہ وہ ایک روز بہت بڑا نام کمائے گا، یا اُن کی کتنی بہنیں ہیں اور اُن کے کیا نام ہیں۔ عملی طور پر وہ ایک صوفی بزرگ کے مزار کے سامنے سجدہ ریز دکھائی دیتے ہیں، جیسا کہ وائرل ہونے والی ایک ویڈیو سے ظاہر ہوتا ہے۔ مسلمانوں کے ایک وسیع طبقے کے نزدیک یہ حرکت شرک کے زمرے میں آتی ہے، کیونکہ اسلام میں اللہ کے سوا کسی کے سامنے سجدہ نہیں کیا جاسکتا۔ ریحام نے مجھے بتایا، ”اُن کا اسلام کا علم بہت محدود ہے۔“

مزید پڑھئیے
"شہرت، سیاست اور روحانیت کا مشکل سفر (قسط 1 )"

"شہرت، سیاست اور روحانیت کا مشکل سفر (قسط 2 )"

"شہرت، سیاست اور روحانیت کا مشکل سفر (قسط 3 )"

ایک تجربہ کار صحافی نے حالیہ دنوں رپورٹ کیا کہ خان کا بشریٰ مانیکا کے ساتھ ازدواجی رشتہ خطرے کی زد میں ہے۔ اس کے جواب میں خان کا بیان آیا کہ ”میں مرتے دم تک بشریٰ مانیکا کے ساتھ رہوں گا۔“سفید پوش پیرنی کا پیغام بھی وہی تھا جس پر ملک کے مقتدر حلقے ایمان کی حد تک یقین رکھتے تھے، ”صرف عمران خان ہی پاکستان میں تبدیلی لاسکتے ہیں؛ لیکن اس کے لیے وقت درکار ہے۔“
2008ء میں اکٹھے ڈرائیو کے دوران خان نے مجھے بتایا کہ کس طرح عقیدے نے اُن کے اصولوں کا تحفظ کیا ہے۔ آج ناقدین اور کچھ حامی بھی اُن پر بعض معاملات میں سمجھوتہ کرنے کا الزام عائد کرتے ہیں۔ خان کو کئی سالوں سے جاننے والے ایک صحافی، جو کبھی اُن کا بہت بڑا مداح تھے، نے مجھے اسلام آباد میں بتایا، ”وہ فوج کے پٹھو ہیں۔ میں اپنے آپ پر شرمندہ ہوں کہ میں نے ایک شخص کے ساتھ اپنے خواب وابستہ کرلیے اور اُنہیں اپنی آنکھوں کے سامنے بکھرتے دیکھا۔“
2013ء میں فوجی حکومت کے بعد پاکستان نے ایک اہم سنگ ِ میل عبور کیا: یہ اس کی تاریخ کا پہلا پرامن انتقال ِ اقتدار تھا۔تاہم مستحکم ہوتی ہوئی جمہوریت کی علامت طاقتور اسٹبلشمنٹ کے لیے براہ ِراست خطرہ تھی۔ چنانچہ اس نے، حسین حقانی کے الفاظ میں، پردے کے پیچھے رہتے ہوئے ڈور ہلانے، اور شب خون مارے بغیر حکومت کو کنٹرول کرنے کا فن سیکھ لیا۔ اُ س صحافی کا کہنا تھا، ”عمران خان اور اسٹبلشمنٹ کے درمیان کوئی نہ کوئی گٹھ جوڑ موجود ہے۔“اگلے سال خان نے پاکستان کی منتخب شدہ حکومت کا تختہ الٹنے کے لیے کئی مہینوں پر محیط احتجاجی دھرنا دیا۔
فرحان ورک، جو میڈیکل کا طالب علم تھا، اسلام آباد دھرنے میں موجود تھا۔ اگست 2014 ء کی ایک رات احتجاجی مظاہرین پر کریک ڈاؤن کیا گیا۔ ورک نے سکائپ پر مجھے بتایا، ”میری آنکھوں کے سامنے حکومت آنسو گیس کے شیل اور ربڑ کی گولیاں فائر کررہی ہے۔ زیادہ تر مظاہرین منتشر ہوگئے، لیکن عمران خان مضبوطی سے اپنے قدموں پر کھڑے ہیں۔ میں نے سوچا کہ اگر ان خطرناک حالات میں بھی خان کے پاؤں نہیں ڈگمگائے تو وہ یقینا ناقابل ِ یقین استقامت اور حوصلہ رکھتے ہیں۔“اس سے متاثر ہوتے ہوئے ورک ایک یوتھیا بن گیااورسوشل میڈیا پر یوتھ بریگیڈ کی کمان سنبھال لی۔
خان کے بارے میں جو کچھ بھی کہا جائے، ایک بات تسلیم کرنی پڑے گی کہ اُنھوں نے پاکستان کو وہ امید دی ہے جس سے ملک ناآشنا تھا۔ عطیہ نون،جو ایک انٹیریر ڈئزائنر ہیں، سات ماہ سے حاملہ تھیں جب وہ 2011 ء میں عمران خان کا مینار ِ پاکستان پر جلسہ سننے گئیں۔ یہ وہ جلسہ تھا جس نے خان کو پاکستان کی ایک اہم سیاسی قوت بنا دیا۔ عطیہ نون کا کہنا تھا، ”اُس وقت تک ہمیں اپنے سیاسی نظا م سے بہتری کی کوئی امید نہ تھی۔“وہ جلسے کا پرجوش سماں، گانے، نعرے اور یوتھیوں کے امید اور خوشی سے دمکتے چہرے یاد کرتی ہیں۔ نوجوانوں نے اپنے چہروں پر پی ٹی آئی کے پرچم رنگے ہوئے تھے۔ ایک ایسے ملک میں جہاں ایک طویل عرصے تک سیاست جاگیردار طبقے اوردیہات کے غریب عوام کا کھیل تھی۔۔۔ جاگیر دار طبقہ ووٹ لیتا، اور غریب ووٹ دیتا تھا۔۔۔ لیکن اب اس نے ایک نئی کروٹ لی تھی۔ شہر کے تعلیم یافتہ مڈل کلاس طبقے نے سیاسی میدان میں پاؤں رکھا تھا۔ نون کا کہنا تھا، ”جلسے کا ماحول وجدآفرین تھا۔ رنگوں، روشنیوں اور موسیقی سے مرتعش فضا، اور معاشرے کے ہر طبقے کے لوگ، نوجوان، لڑکے، لڑکیاں، سب اکٹھے تھے۔ سب کی آنکھوں میں خواب تھے۔ رش اتنا تھا کہ اقبال پارک کی وسیع و عریض گراؤنڈ چھوٹی پڑ گئی تھی؛ بے پناہ ہجوم تھا؛ لیکن نہ دھکم پیل، نہ بدتمیزی۔“اس جلسے نے نون جیسے افراد کی نگاہ میں عمران خان کا سیاسی قد بڑھا دیا۔ وہ اُن کی پرجوش حامی بن گئیں، اور اُن کے ہر جلسے میں شرکت کرتیں۔
نون جیسے پرجوش حامیوں کی حمایت ایک طرف عمران خان کے لیے سیاسی طاقت کا سرچشمہ ہے تو دوسری طرف فوج کے لیے باعث ِ اطمینان۔ حسین حقانی کا خیال ہے، ”ملک میں بظاہر ایک جمہوری حکومت قائم ہے جو ملک کے بے شمار مسائل کی وجہ سے تنقید کا سامنا کررہی ہے، لیکن اصل اختیار جنرلوں کے ہاتھ میں ہے۔“
خان نے دھشت گرد گروہوں کے خلاف کارروائی کے لیے فوج کی حمایت کی۔ رواں سال کے آغاز میں بھارت کے ساتھ ہونے والے سرحد ی تناؤ کے موقع پر ایک مدبر سیاست دان کا کردارادا کیا۔ گزشتہ جولائی میں اُنھوں نے ایک اور کامیابی سمیٹی جب وائٹ ہاؤس میں اپنے جیسے نرگسی اور سیماب صفت شخص، صدر ٹرمپ سے ملے۔ ٹرمپ نے خان کو ”ایک عظیم لیڈر“قرار دیا، اور کشمیر پر ثالثی کی پیش کش کی۔ اس پرانڈیا میں شور اٹھا۔ اس نے وہاں موجود فوجی دستوں کی تعداد میں اضافہ کردیا،ا ور کشیدگی مزید بڑھ گئی۔
عمران خان حکومت کے سامنے سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ کیا وہ پاکستان کی قرضوں کے بوجھ تلے دبی معیشت میں کوئی بہتری لاسکتے ہیں۔ اگرچہ خان نے کشکول توڑنے کے وعدے کیے تھے، لیکن اُن کی حکومت کو آتے ہی آئی ایم ایف سے چھ بلین ڈالر کا قرض لینا پڑا۔ اس وقت معاشی گراوٹ اور مہنگائی کا یہ عالم ہے کہ ملک کے ہر شہری کی زبان پر اشیائے ضروریہ، پٹرول اور بجلی کی گرانی ہے جبکہ روپے کی قدر گرتی جارہی ہے۔ جب میں اسلام آباد سے روانہ ہونے والا تھا، تو خان صاحب اپنے فنانس منسٹر کو برطرف کرنے کی تیاری کررہے تھے۔ اس کے علاوہ بھی کابینہ میں بہت سی تبدیلیاں متوقع تھیں۔
عوام کی ابتلا کے دور میں خان کا شمار اُن مقبول رہنماؤں میں ہوتا ہے جن کی طرف لوگ اپنے نجات دہندہ کے طور پر دیکھتے ہیں۔ محسن حمید نے مجھے بتایا، ”یہ لوگ ہماری ہی شخصیت کا عکس ہیں۔“جب میں نے اُن سے خان کے مستقبل کے بارے میں پوچھا تو اُن کا کہنا تھا، ”یہ منظر ہم بار ہا دیکھ چکے ہیں۔ ایک پرکشش، کرشماتی شخصیت ہمارے سامنے ابھرتی ہے، جس کا خیال ہوتا ہے کہ وہ سب سے دانا ہے، فوج سے بھی زیادہ، لیکن پھر وہ فوج کے ہاتھوں ہی اپنے انجام تک پہنچتا ہے۔“
1981 ء میں نیپول نے پاکستان کے بارے میں لکھا تھا، ”ریاست خزاں آلود، لیکن عقیدے پر بہار ہے۔ یقینا ناکامی عقیدے کو توانا کرتی ہے۔“آج چالیس سال بعد عمران خان ایک مرتبہ پھر پاکستان کو مدینے کی ریاست بنانے کا اعلان کررہے ہیں۔ لیکن عملی طور پر دیکھنے میں آیا ہے کہ پاکستان کے مسائل حل کرنے کی بجائے مذہب ان مسائل کے حل، حقیقت پسندی، اور مہذب دنیا کے ساتھ پرامن تعلقات کی راہ میں ایک رکاوٹ کے طور پر رہا ہے۔وہ ملک جس میں عقیدے کے نام پرعریانی ممنوع ہے، فحش ویب سائٹ دیکھنے والوں میں اس کے شہریوں کی تعداد دنیا میں سب سے زیادہ ہے۔ ہم جنس پرستی پر سزائے موت، لیکن عملی طور پر خوش شکل لڑکے کہیں بھی محفوظ نہیں۔ بظاہر پاکستانی معاشرہ شریعت کے رنگ میں رنگا ہوا، لیکن بنددروازوں کے پیچھے رنگین مزاجی کی الف لیلہ آباد ہے۔ مے نوشی پر پابندی، لیکن خفیہ طور پر بہت بڑی مقدار میں شراب اور کوکین استعمال کی جاتی ہے۔ ایسے معاشرے میں مسخ شدہ حقائق کا راج ہے۔ پاکستان کی سیر کرتے ہوئے متبادل حقیقت کا سامنا ہوتا ہے۔ لاہور کے ڈرائنگ رومز سے لے کر گلیوں میں موجود عوام، جن سے میں نے بات کی، میں سے اکثر کو یقین تھا کہ نائن الیون دراصل امریکہ کی اپنی سازش تھی۔ بیرونی دنیا کا تجربہ رکھنے کے باوجود عمران خان اپنے معاشرے میں پھیلی ابہام کی دھند دور کرنے کے لیے کچھ نہیں کررہے۔ بلکہ وہ اپنے بیانات کے ذریعے اس میں اضافہ کرتے ہی دکھائی دیتے ہیں۔
میں نے گلوکار، ظفر علی سے خان کے اندرونی تضادات کے بارے میں بات کی تو اُن کا کہنا تھا، ”میرا خیال ہے کہ مشرق اور مغرب کے درمیان توازن پیدا کرنا بہت بڑا چیلنج ہے۔“اُس رات ظفر مجھے اپنے گھر میں ایک اُگے ایک برگد کے درخت کے پاس لے گئے۔ اس کے ساتھ ایک چینی گھنٹی لگی ہوئی تھی۔ اُنھوں نے اس گھنٹی کو چھیڑا، اور مجھے اس کا ارتعاش سننے کو کہا۔ میرا خیال ہے کہ وہ مجھے سمجھانا چاہتے تھے کہ خان کو سمجھنے کے لیے اُس روحانی سفر کی تفہیم ضروری ہے جس دوران بہت سے لوگ اُس کی زندگی میں آئے ہیں۔
اپنی سوانح عمری کے ایک اہم پیراگراف میں، خان وضاحت کرتے ہیں وہ اُس مذہب کی پیروی کرنے میں دقت محسوس کرتے جس کی اُن کی والدہ نصیحت کرتیں۔ وہ لکھتے ہیں، ”میری والدہ نہیں سمجھ پارہی تھیں کہ مختلف ثقافتی قوتوں کا میری زندگی پر کیا اثر ہوا ہے۔“ یسی زندگی بسر کرنے والے بہت سے لوگوں کی طرح عمران خان کو بھی ایسی قوتوں کی وجہ سے داخلی کشمکش کا سامنا تھا۔ اُنھوں نے اس کشمکش کا خاتمہ کرنے کے لیے ”مغرب زدہ عمران“ کا گلا گھونٹنے کا فیصلہ کرلیا۔ اُن کے ایک قریبی شخص نے مجھے بتایا کہ پنکی پیرنی سے شادی کے بعد عمران نے اپنے ماضی سے تمام روابط توڑ لیے ہیں۔
اسلام کا ایک مطلب ”اطاعت“ ہے۔ علی ظفر کا کہنا تھا کہ خان کے بشریٰ بی بی کے ساتھ تعلق کی نوعیت بھی ایسی ہی ہے۔ علی ظفر کی رائے میں خان کی ایک خوبی، جس کا اُن کے حریف بھی اعتراف کرتے ہیں، یہ ہے کہ وہ کبھی ہمت نہیں ہارتے۔ وہ یاد کرتے ہیں وہ 2013 ء میں عمران کی عیادت کے لیے اہسپتال گئے جب وہ بیس فٹ اونچے سٹیج سے گر گئے تھے۔ کمرے میں موجود ٹی وی پر کرکٹ میچ لگا ہوا تھا۔ پاکستانی ٹیم میچ ہاررہی تھی، لیکن سابق کپتان کا کہنا تھا کہ ہم ابھی بھی جیت سکتے ہیں۔ اُن کے کرکٹ کیرئر کے دنوں میں بھی یہی اعتماد ٹیم کے حوصلے کا باعث بنتا۔ علی ظفر کا کہنا تھاکہ عمران خان بے پناہ عزم اور حوصلے کے مالک ہیں۔
اس کے باوجود، علی ظفر کاخیال ہے، یہ طاقت ور شخص بھی اندر سے کمزور ہے۔ اس کے اندر ایک بچہ ہے جو چاہتا ہے کہ اُس کا خیال رکھا جائے، اس کے ساتھ لاڈ کیا جائے۔ بشریٰ مانیکا نے یہی کچھ کیا۔ اور اس دوران وہ وزیر ِاعظم بن گئے۔ علی ظفر کا کہنا تھا، ”ذرا تصور کریں کہ بائیس سالہ جدو جہد کے بعد انتخابی کامیابی کا یہ مرحلہ آیا۔ اگر وہ اب بھی نہ جیتتے تو۔۔۔“یہاں اُن کی آواز بھرا گئی۔ ”مجھے یقین ہے کہ بشریٰ مانیکا نے عمران کو یقین دلایا ہوگا کہ اُس مرتبہ قسمت اُنہیں وزیر ِاعظم بنانے کا فیصلہ کرچکی ہے۔ خان کو اسی یقین دہانی کی ضرورت تھی۔ یہ سن کر ہی اُنھوں نے پیرنی کی اطاعت قبول کرلی۔
علی ظفر کی عمران خان سے آخری مرتبہ ملاقات عطیات جمع کرنے کی ایک تقریب میں ہوئی تھی۔ سٹیج پر عمران نے اُن سے پوچھا کہ وہ آج کل کیا کررہے ہیں تو علی ظفر نے کہا، ”میں رومی کا مطالعہ کررہا ہوں۔ رومی کو پڑھتے ہوئے احساس ہوتا ہے کہ میں روحانیت کے سمندر میں تیر رہا ہوں۔“سابق کپتان اور موجودہ وزیر ِاعظم کا کہنا تھا، ”میں بتاتا ہوں۔ تمہیں جس چیز کی تلاش تھی، وہ یہی ہے۔“

 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *