وحید مراد: پاکستانی فلم انڈسٹری کے ’چاکلیٹی ہیرو‘ کے عروج و زوال کی داستان

پاکستان کی فلمی صنعت میں سنہ 1960 اور 1970 کی دہائیوں کو بجا طور پر وحید مُراد کا زمانہ قرار دیا جا سکتا ہے۔

ان کے 81ویں یوم پیدائش پر سرچ انجن گوگل نے اپنے ہوم پیج پر ’ڈوڈل‘ لگا کر انھیں خراج تحسین پیش کیا ہے جس پر پاکستان بھر سے سوشل میڈیا صارفین گوگل کا شکریہ ادا کر رہے ہیں۔

پاکستان میں سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر بھی وحید مراد آج ٹاپ ٹرینڈ ہیں۔

وحید مراد کا فلمی کیرئیر

بی بی سی کے عارف وقار نے سنہ 2006 میں اپنی تحریروں کے ذریعے وحید مراد کے فلمی سفر پر کچھ اس طرح روشنی ڈالی تھی۔

وحید مُراد کے والد نثار مُراد کراچی میں کامیاب ڈسٹری بیوٹر تھے۔ سنہ 1962 میں وحید مُراد نے کراچی یونیورسٹی سے ایم اے (انگلش) کیا اور اس کے بعد والد کے کاروبار میں پورے طور پر شریک ہوتے ہوئے اپنی پہلی فلم 'اولاد' کا آغاز کیا جس کے ڈائریکٹر ایس ایم یوسف تھےاور اداکاروں میں نیّر سلطانہ اور درپن شامل تھے۔

وحید مراد

فلم ارمان نے باکس آفس پر کامیابی کے تمام گذشتہ ریکارڈ توڑ دیے۔ یہ پاکستان کی پہلی پلاٹینم جوبلی فلم تھی۔ اس کا گیت 'اکیلے نہ جانا' اور 'کوکو کورینا' گلی گلی گُنگنایا جانے لگا

وحید مُراد نے اس فلم میں ایک رول بھی ادا کیا لیکن ان کی اداکاری کے اصل جوہر تب کھلے جب اُن کے دوست پرویز ملک امریکہ سے فلم سازی کا ڈپلومہ لے کر لوٹے اور انھوں نے وحید مُراد کی فلم ’ہیرا اور پتھر‘ کی ہدایت کاری کے فرائض سنبھال لیے۔

اس فلم میں وحید مُراد نے ایک گدھا گاڑی والے کا کردار ادا کیا جو کہ زیبا کی محبت میں گرفتار ہو جاتا ہے۔ فلم کو زبردست کامیابی حاصل ہوئی اور وحید مُراد کو 1964 کے بہترین اداکار کا نگار ایوارڈ حاصل ہوا۔

اپنے والد کی بدولت 20 برس کی عمر ہی میں وحید مراد فلموں کے تقسیم کار بن چکے تھے۔

23 سال کی عمر میں وہ ہیرو کی شہرت کا مزہ چکھ چکے تھے اور 28 برس کی عمر میں انھیں پاکستان کی پہلی پلاٹینم جوبلی فلم کے کہانی کار، ہیرو اور پروڈیوسر ہونے کا اعزاز مِل چُکا تھا۔

اپنے مداحوں کی جِتنی بڑی کھیپ وحید مُراد نے تیار کی وہ پاکستان کے کسی ہیرو کو نصیب نہیں ہوئی۔ یہ واحد ہیرو تھا جس کے مداحوں نے منظم ہو کر فین کلب تشکیل دیے۔

بعد میں وحید مُراد، پرویز ملک، موسیقار سہیل رعنا اور گیت نگار مسرور انور کی ایک ایسی ٹیم تیار ہو گئی جس نے انڈسٹری کو پےدرپے کامیاب فلمیں دیں۔

بلاک بسٹر فلم ارمان

اپنی ذاتی کمپنی ' فلم آرٹس' کے بینر تلے سنہ 1966 میں وحید مُراد نے 'ارمان' بنائی۔

اس کی کہانی انھوں نے خود سوچی تھی، ہیرو بھی خود تھے اور پروڈیوسر بھی، ڈائریکٹر اُن کے دوست پرویز ملک تھے، نغمہ نگار مسرور انور اور موسیقار سہیل رعنا اور یہی چاروں 'فلم آرٹس' نامی کمپنی کے بُنیادی ستون تھے۔

وحید مراد

اپنی ذاتی کمپنی ' فلم آرٹس' کے بینر تلے سنہ 1966 میں وحید مُراد نے 'ارمان' بنائی

فلم ارمان نے باکس آفس پر کامیابی کے تمام گذشتہ ریکارڈ توڑ دیے۔ یہ پاکستان کی پہلی پلاٹینم جوبلی فلم تھی۔ اس کے گیت 'اکیلے نہ جانا' اور 'کوکو کورینا' گلی گلی گُنگنائے جانے لگے۔

ان کی مشہور فلموں میں اولاد، دامن، ہیرا اور پتھر، کنیز، ارمان، جوش، جاگ اُٹھا انسان، دیور بھابھی، انسانیت، دِل میرا دھڑکن تیری، سالگرہ، عندلیب، نیند ہماری خواب تمھارے، انجمن، مستانہ ماہی، خلش، عشق میرا ناں، تُم سلامت رہو، پھول میرے گُلشن کا، دُشمن، شمع، جوگی، محبت زندگی ہے، صورت اور سیرت، جب جب پھول کھلے، شبانہ، سہیلی (1978)، پرکھ، خدا اور محبت، آواز، بہن بھائی، عورت راج، پیاری، کالا دھندا گورے لوگ، کِرن اور کلی شامل ہیں۔

وحید مراد کا زوال

ہدایت کار پرویز ملک نے ایک انٹرویو کے دوران بی بی سی کے سابقہ نمائندہ عارف وقار کو بتایا تھا کہ نوجوانی ہی میں اتنی زبردست کامیابی حاصل کر لینے کے باعث وحید مُراد بہت بد دماغ ہو گئے تھے اور ہر کامیابی کا سہرا صرف اپنے سر باندھنے لگے تھے چنانچہ اُن کے مستقل رائٹر، موسیقار، اور ہدایتکار اُن کی سنگت سے الگ ہوتے چلے گئے۔

اُدھر فلم سازوں نے وحید مُراد کو ایک ایسے ہیرو کے روپ میں منجمد کر دیا جو محض باغوں میں ہیروئن کے پیچھے پیچھے گیت گاتا پھرتا ہے، کبھی اسے چھیڑتا ہے کبھی مناتا ہے اور کبھی خود روٹھ جاتا ہے۔

اس طرح کا رومانوی ہیرو 1965 سے 1975 تک کے دس برسوں میں خاصا مقبول رہا لیکن لوگ ایک ہی طرح کی فلمیں دیکھ دیکھ کر اُکتا چُکے تھے۔ فلم ساز صرف آزمائی ہوئی چیز پہ پیسہ لگانے کے لیے تیار تھے۔

1980 کا سورج طلوع ہوا تو اس نے وحید مُراد کو ایک ناکام، مایوس، پراگندہ فکر اورجھنجھلائے ہوئے انسان کے روپ میں دیکھا۔ شہرت کی ہرجائی دیوی اب ڈھاکے سے آنے والے نئے ہیرو ندیم پر عنایات کی بارش کر رہی تھی۔ وحید کے پُرانے ساتھی پرویز، مسرور اور سہیل جنھیں خود وحید نے رعونت سے ُٹھکرا دیا تھا، اپنے اپنے میدان میں کامیابیوں کے جھنڈے گاڑ ر ہے تھے۔

’کرن اور کلی‘ وحید مراد کو اپنی زندگی میں ملنے والی آخری کامیابی تھی۔ 1981 میں ریلیز ہونے والی اس فلم کے آگے پیچھے ان کی تین چار فلمیں فلاپ ہوئیں۔ اگلے برس بھی اُن کی کوئی فلم کامیابی حاصل نہ کر سکی فلمی اخبارچوں میں اب وحید مُراد کے خلاف اُن سب لوگوں نے اپنا غصّہ اگلنا شروع کر دیا جو وحید کے ساتھ ماضی میں کام کر چکے تھے اور اسکے رویے سے نالاں تھے۔

وحید مراد

اپنے والد کی بدولت 20 برس کی عمر ہی میں وحید مراد فلموں کے تقسیم کار بن چکے تھے

ایک اخبار نے تو یہاں تک لکھ دیا کہ 44 سالہ وحید مُراد میں اب دم خم باقی نہیں ہے۔ وہ ایک چلا ہوا کارتوس ہے۔ اسے خود ہی ایک طرف ہٹ کر نوجوان ندیم کے لئے راستہ صاف کر دینا چاہیے۔

وحید کو اب محمد علی اور ندیم کی فلموں میں سائیڈ رول ملنے لگے جو انھوں نے بادلِ نخواستہ قبول تو کر لیے لیکن دِل ہی دِل میں کُڑھتے رہے۔ انھی دِنوں ان کی شراب نوشی تفریحِ طبع کی حدود سے نِکل کر الکحولزم کے دائرے میں داخل ہو گئی۔

وحید مُراد کام مانگنے کے لیے اپنے پُرانے دوستوں کے پاس تو نہیں گئے لیکن اسی دوران اُن کا پُرانا پٹھان ڈرائیور اور گھریلو ملازم بدر مُنیر پشتو فلموں کا معروف سٹار بن چُکا تھا بلکہ اپنی فلمیں بھی پروڈیوس کر رہا تھا۔ نمک حلال ملازم نے پُرانے مالک سے وفاداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اسے اپنی پشتو فلم 'پختون پہ ولائت کمبا' میں کام دیا جو وحید مُراد نے قبول کر لیا۔

اپنے آخری ایام میں وہ اپنے چہرے پر پڑنے والے گہرے زخم کی سرجری کے لیے کراچی چلے آئے جہاں اپنے آپریشن سے ایک دِن پہلے انھوں نے بیٹے کی سالگرہ منائی، اسے بہت سے تحفے دیے اور رات سونے کے لیے اپنی منھ بولی بہن ممتاز ایوب کے گھر چلے گئے۔

اس رات کیا ہوا کوئی نہیں جانتا۔ وحید مُراد کے کمرے کا دروازہ دِن چڑھے تک نہ کُھلا تو میزبانوں کو دروازہ توڑنا پڑا۔

کمرے کے فرش پر پاکستان کا ایلوس پریسلے مُردہ پڑا تھا۔ اس کے منھ میں پان کا بیڑا تھا لیکن پان میں کیا تھا اس کی خبر کسی کو نہیں کیونکہ پوسٹ مارٹم اور مواد کے تجزیے کے بغیر کچھ کہنا ممکن نہ تھا۔

سوشل میڈیا پر خراجِ تحسین

وحید مراد کے 81ویں یومِ پیدائش پر ان کے مداح آج انھیں یاد کر رہے ہیں اور خراجِ تحسین پیش کر رہے ہیں۔

قرات العین اسمائیل نامی صارف نے لکھا کہ وحید مراد اس نسل کے بھی ہیرو ہیں جو ان کے بعد (وفات) پیدا ہوئی۔

بلال ڈوگر نامی صارف کا کہنا تھا کہ وحید مراد ہر دل میں بسنے والے ہیرو ہیں جنھوں نے اپنی تمام تر توانائیاں صرف کر کے پاکستانی فلم انڈسٹری کی تجدید کی۔

جاوید شیخ نے وحید مراد کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے لکھا کہ انھوں نے پاکستانی فلم انڈسٹری پر تین دہائیوں تک راج کیا۔

وقاص خان بلوچ نے لکھا کہ برصغیر کی فلم انڈسٹری پر وحید مراد نے اپنی چھاپ چھوڑی ہے۔

رحیم راجر نامی صارف کا کہنا تھا کہ کوئی ہیرو اتنا ’کُول‘ نہیں ہو سکتا جتنے وحید مراد تھے۔

 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *