وقت کا معاوضہ ۔۔۔ اور معاوضے کا وقت !!

azharپچھلے دنوں سوشل میڈیا پر حضرت واصف علی واصفؒ کا ایک قول گردش کر رہا تھا۔ ’’جو لوگ اپنے وقت کا معاوضہ اپنے وقت میں وصول کرنا چاہتے ہیں‘ وہ اکثر برباد ہوجاتے ہیں‘‘۔ پڑھے لکھے اور فکری اُپچ رکھنے والے نوجوانوں میں اقوالِ واصف ؒ ہمیشہ سے مرکزِ توجہ رہے ہیں۔ یہ ایک خوش آئند بات ہے کہ نوجوان طبقہ ان اقوال پر غور و فکر بھی کرتا ہے اور بحث و تمحیص بھی۔ ’’واصفؒ خیال‘‘پیج پر اکثر اقوالِ واصف ؒ کے متعلق بغرضِ تفہیم سوال کیے جا تے ہیں۔ سوچا کہ اس ہفتے اسی قول سے متعلق پوچھے گئے سوالات کو موضوعِ سخن بنالیا جائے۔ جہانِ فکر و دانش میں بہت کم شخصیات ایسی گزری ہیں جن کے اقوال ضرب المثل کی طرح زبان زدِ عام ہوئے ہیں۔ دراصل ایک صوفی کا قول کسی مصور کے شہپارے کی طرح سدا بہار ہوتا ہے۔ ہر شخص اور ہر دَ ور اپنے کاسۂ ظرف کے مطابق اس سے معنی کا عطر کشید کرتا ہے۔ اہلِ باطن کا قول دراصل ایک گنجینۂ معانی ہوتا ہے۔۔۔ خزانہ ۔۔۔ لیکن چھپا ہوا۔ان کا ہر نکتہ در حقیقت نکتہ در نکتہ ہوتا ہے۔۔۔ اور ہر کتاب دراصل کتاب در کتاب ہوتی ہے۔ ان کے کام پر پی ایچ ڈی تو ہوتی ہی ہے ۔۔۔ ان کے کام پر کام کرنے والوں پر بھی پی ایچ ڈی شروع ہوجاتی ہے۔ ایوانِ اقبالؒ زبانِ حال سے اس بیان کا گواہ ہے۔ حضرت اقبالؒ پر پروفیسر منورمرزا پی ایچ ڈی کرتے ہیں اور پھر پروفیسر منور مرزاکے کام پر الگ پی ایچ ڈی ہونے لگتی ہے۔ ایں سعادت بزورِ بازو نیست۔اہلِ باطن کا کلام باطن سے برآمد ہوتا ہے اور اہلِ ظاہر کو باطن کی خبر دیتا ہے۔ان لوگوں کے کلام سے معنی کشید کرنے کیلئے باطن سے تمسک ضروری ہے۔ جب تک باطنی نہج میسر نہ ہو ‘ نہج البلاغہ کا ابلاغ بھی فہم کی دسترس سے باہر رہتا ہے ۔ صوفیاء کرام کے کلام میں قرآن و حدیث کا معنوی رخ اپنی پوری آب وتاب سے میسر آتا ہے۔ وہ ترجمے کی بجائے معانی کے راوی ہوتے ہیں۔ وہ روایت سے زیادہ درایت پر زور دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہر ولی اللہ کے کلام کی تشریح کے دوران اس کا معنوی ربط قرآن کریم کی آئت یا کسی حدیث پاک سے جا ملتا ہے۔ اسی لیے تو علامہ اقبالؒ نے اپنے آخری اشعار میں ببانگِ دہل یہ فرمایا کہ یا اللہ ! یہ جو کچھ میں نے لکھا ہے ‘ اگر قرآن سے باہر ہے تو بروزِ قیامت مجھے اپنے حبیبِ پاک ؐ کی شفاعت سے محروم کر دے۔ شعر فارسی میں ہے ، یہاں اس کا مفہوم درج ہے ۔۔۔ اور فارسی کے متعلق ہمارے احوال کچھ ایسے ہی ہیں ’’ زبانِ یارِ من ترکی و من ترکی نمی دانم‘‘
آمد برسر مطلب۔۔۔ اپنے وقت کا معاوضہ اپنے وقت ہی میں لینے کا خواہش منددراصل آنے والے کل کا انتظار نہیں کرتا۔ انتظار کرنے کیلئے سچائی کے آسن بیٹھنا ہوتا ہے۔ مادّی مفاد کے حصول کی خاطرکسی قطار میں کھڑا ہونے والا بہت جلد تھک جاتا ہے۔ یہ جملہ دراصل قرآن کریم کی اس آئت کی تفہیم ہے۔ ومنکم من یرید الدنیا ومنکم من یرید الآخرۃ۔۔۔۔۔ مفہومِ آیت یہ ہے کہ تمہی میں سے وہ لوگ ہیں جو دنیا کے طلبگار ہیں اور تمہی میں سے وہ ہیں جو آخرت کے طلبگار ہیں، دنیا طلب کرنے والے کو ہم مقرر شدہ رزق دنیا میں دیتے ہیں لیکن آخرت میں ان کا کوئی حصہ نہیں۔دراصل نیکی کا حوالہ آخرت ہے اور آخرت کا حوالہ رسولِ کریم ﷺ کی بتائی ہوئی بات پر یقین ہے۔ آخرت، جزا ، سزا، بہشت ، دوزخ ، فرشتے ، پل صراط اور میزان کی حقیقت ہم اپنی فہم و دانش کے طریق پر نہیں جان سکتے ۔۔۔ اور جب جان نہیں سکتے تو جانچ کیسے سکتے ہیں؟ غیب کے حقائق سے آگاہی صرف اور صرف رسول کریم ﷺ کی ذاتِ اقدس پر غیر مشروط ایمان سے مشروط ہے۔ ہاں ! مان لینے کے بعد شعوری طور پر اور کبھی مشاہداتی انداز میں جس پر چاہے ، جتنا چاہے وہ عالمِ غیب و شہادۃ نشانیوں کی صورت میں کھول دیتا ہے۔یعنی باطن کا جہاں مان لینے کے بعد جان لینے کیلئے کھلتا ہے۔ اس میں غور وفکر کرنے والوں کیلئے بہت نشانیا ں ہیں۔لفظ سے معنی کا فاصلہ بقدرِ تسلیم ہے۔ جہاں تسلیم سے کام لینا چاہیے وہاں تحقیق کام نہیں آتی ۔ حضرتِ واصف ؒ فرمایا کرتے کہ تسلیم دین کی کرو‘ اور تحقیق دنیا کی ۔۔۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ دین کی تحقیق شروع کردو ‘اور دنیا کو تسلیم کر بیٹھو۔
ہمارا وقت ہی وہ سرمایہ ہے جس سے سب سرمائے جنم لیتے ہیں۔ وقت مہلتِ عمل ہے۔جب تک مہلت ہے ‘ عمل کی راہیں کھلی ہیں۔ یہ وقت ہے جسے بیچ کر ہم معاش کے بازار میں خرید و فروخت کرنے کے قابل ہوتے ہیں۔۔۔ اور یہی وقت ہے جس کی سرمایہ کاری ہمیں آخرت میں اجر کا اہل ٹھہراتی ہے۔ وقت ہماری صلاحیتوں کو آشکار کرتا ہے۔ اگر ہم اپنی ذہنی ، جسمانی ، معاشی اور معاشرتی صلاحیتوں سے دنیا خریدنا چاہتے ہیں تو یہ اپنے وقت کا معاوضہ اپنے وقت ہی میں وصول کرنے کی صورت بن جاتی ہے۔ آج کل بڑے بڑے کنسلٹینٹ اپنے وقت کی قیمت وصول کرتے ہیں۔ یہاں تک کہ دین اور فلاحِ انسانیت کی باتیں کرنے والے بھی اپنے وقت کے معاوضے کی باتیں کرتے ہیں۔ جس طرح ہمارے رزق میں ایسے لوگوں کا حصہ ہوتا ہے جو ہمیں فائدہ نہیں دے سکتے ، اسی طرح ہمارے وقت میں بھی ایسے لوگوں کیلئے حصہ ہونا چاہیے جو ہمیں کسی قسم کا معاوضہ نہیں دے سکتے ۔ کسی کیلئے اپنے وقت کو وقف کرنا ایک کارِ خیر ہے۔ کارِ خیر اس وقت تک خیر ہی رہتا ہے جب تک نمائش کی خواہش اور معاوضے کی تمنا سے آزاد ہوتا ہے۔ اپنے کارہائے خیر کا معاوضہ لے لیا جائے تو وہ کاروبارِ دنیا کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ بدترین دنیا داری یہ ہے کہ دین کے نام پر لوگوں سے مادّی مفاد کی خیرات مانگی جائے۔
وقت ایک غیر مادّی ’’شئے‘‘ ہے۔ اپنے وقت کو کیش کروانا یہ ہے کہ اس کے عوض مادّی اشیاء کے حصول کی تگ و دَو کی جائے۔قرآنِ کریم میں ارشاد ہے ’’کلّ شئیٍ ھالک’‘ الّا وجہہ‘۔۔۔ (ہر شئے ہلاک ہونے والی بجز اس کے چہرے کے۔) ۔۔۔ یعنی ہر مادّی شئے کا مقدر فنا ہے۔ کلّ من علیہا فانٍ ویبقیٰ وجہہُ ربّک ذوالجلال والاکرام (سب کچھ فنا ہونے والا مگر ترے ربِ ذولجلال کا چہرہ ہے جس کو بقا ہے۔ ) نیکی دراصل اپنے رب کو راضی کرنے اور رکھنے کا عمل ہے۔راضی ہونے کا اظہار چہرے سے ہوتا ہے۔ پس جس کی تگ ودَو اپنے رب کے چہرے کی طرف ہوگی ‘ وہ فنا کے گھن چکر سے بچ نکلے گا۔ نیکی کا عمل دراصل حصولِ بقا کا عمل ہے۔ بقا باقی سے نسبت کے سبب سے ہے۔ نسبت تعلق ہے ۔۔۔اور بندے اور رب کا تعلق دراصل اطاعت اور بندگی کا تعلق ہے۔ سیرت کی کتابوں پر تحقیق سے نہیں بلکہ سیرت پر چلنے سے فاصلہ طے ہوتا ہے۔۔۔ زمانی اور مکانی دونوں فاصلے!! کتابوں کی تالیف نہیں ‘ تصنیف مطلوب ہے۔ اپنی زندگی کی کتاب انسان اپنے قول اور کردار سے تصنیف کرتا ہے ۔۔۔ بہت سی کتابیں ردّی کا کاروبارکرنے والوں کے کام آتی ہے۔ تالیف کتابوں کی نہیں ‘ دلوں کی مطلوب ہے۔افکار اگر کردار میں نہ ڈھلیں تو کہولت کا شکار ہوجاتے ہیں۔افکار کو ہر دم جواں رکھنے کیلئے انہیں بروئے عمل لانا ضروری ہے۔
بات سے بات نکلتی چلی آتی ہے۔ بہرحال بات ہو رہی تھی اپنے وقت کا معاوضہ اپنے وقت میں وصول کرنے کی۔۔۔ اخلاص کا امتحان یہی ہے کہ ہم وقت سمیت اپنی صلاحیتوں کا صلہ اپنی زندگی ہی میں چاہتے یا انہیں توش�ۂ آخرت بناتے ہیں۔ یاد رکھنے والی بات یہ ہے کہ وہ نیکی ضائع ہوجاتی ہے جو دریا میں نہ ڈالی جائے۔دریا ہی تو واصلِ قلزم ہوتے ہیں۔۔۔ قطرے کی بقاقلزم سے ہمکنار ہونے میں ہے۔۔۔ ہمکنار ہونا ہی بیکنار ہونا ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *