غداری

سلیم صافی
saleem safiبی بی سی کی رپورٹ میں ایم کیو ایم کیخلاف عائد کردالزامات نئے نہیں۔ میں اسکول کا طالب علم تھا جب پہلی مرتبہ ہفت روزہ ’’تکبیر’’میں اسی نوع کے الزامات پر مبنی رپورٹ پڑھی تھی۔ تب سے اب تک مختلف اوقات میں مختلف حوالوں سے اسی نوع کے الزامات پڑھتے اور سنتے رہے لیکن اب کے بار نوعیت بعض حوالوں سے مختلف ہے۔ اب کے بار الزام کسی پاکستانی میڈیا کی جانب سے سامنے نہیں آیا اور الزام لگانے والا کسی مخالف پارٹی کا عہد یدار یا پھر کسی سیکیورٹی ایجنسی کا اہلکار نہیں۔ بی بی سی کے اون بینٹ جونز نے حوالہ پاکستانی حکام کا دیا ہے لیکن وہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ یہ اعتراف لندن میں مقیم ،ایم کیو ایم کے دو اہم عہدیداروں نے کیا ہے۔ الزام بھی ایسا ویسا نہیں بلکہ پاکستان کے نمبر ون دشمن ہندوستان سے پیسہ اور اسلحہ لینے اور ایم کیو ایم کے سینکڑوں لوگوں کو ہندوستان میں تربیت دلوانے کا ہے۔ بی بی سی کی رپورٹ میں تو صرف ذرائع کے حوالے سے دعوے ہیں لیکن جیو نیوز کے لندن میں نمائندے مرتضیٰ علی شاہ، جو ایم کیو ایم پر اتھارٹی بن گئے ہیں، نے دستاویزی شواہد کے ساتھ وہ تفصیل دی ہے کہ دبئی کے کسی بینک سے ہندوستانی پیسہ ایم کیو ایم سے تعلق رکھنے والے کس کس اکاونٹ میں منتقل ہوا۔ سیدھے سادے الفاظ میں اگر یہ الزامات درست ثابت ہوں تو یہ سنگین ترین غداری ہے اور اس کے مرتکب لوگوں کو سنگین ترین سزائیں ملنی چاہییں لیکن افسوس کہ مجھے یقین ہے کہ ایسا کچھ نہیں ہو گا ۔چند روز میڈیا میں اس موضوع پر تو تو میں میں ہوتی رہے گی اور جس دن میڈیا کو کوئی دوسرا موضوع مل جائیگا ، تو لوگ یہ سب کچھ بھول کر کسی دوسرے مو ضوع کی طرف لگ جائینگے ۔مسلم لیگ (ن) او رتحریک انصاف کے جو لوگ اس وقت گلے پھاڑ پھاڑ کر ایم کیو ایم کے خلاف کارروائی کے مطالبات کررہے ہیں ،ان کو جس وقت ایم کیو ایم کی سیاسی حمایت کی کسی بھی حوالے سے ضرورت پڑ جائیگی تو میاں نواز شریف یا شہباز شریف ،الطاف حسین کوٹیلی فون کرنے لگ جائیں گے جبکہ عارف علوی صاحب ،لندن سے الطاف حسین کے ٹیلیفون کال کا انتظار کرنے بیٹھ جائیں گے ۔
غداری سے سنگین جرم کوئی اور ہو نہیں سکتا ۔دھرتی ماں سے کوئی بے وفائی کرے ،تو وہ کسی رعایت کا مستحق قرار نہیں پاتا۔ کسی اور ملک میں ،کسی شہری پر غداری کا الزام لگے یا شواہد سامنے آئیں تو قیامت بپا ہو جاتی ہے ۔لیکن افسوس کہ پاکستان میں ہم نے غداری کو بھی مذاق بنا لیا ہے۔ یہاں شاید ہی کوئی لیڈر یا مشہور لکھاری یاصحافی ایسا بچ گیا ہو ،جس پر کسی نہ کسی وقت میں غداری کاالزام نہ لگایا گیا ہو ۔جی ایم سید اور باچا خان پر یہ الزامات لگے ۔بلوچ قوم پرستوں کو غدار کہا گیا۔ مولانا مودودی کو ایک لمبے عرصے تک امریکی ایجنٹ کے نام سے یاد کیا جاتا رہا ۔حتیٰ کہ قائداعظم محمد علی جناح کوبھی انگریزوں کا ایجنٹ گیا ۔بے نظیر بھٹو کو سیکورٹی رسک کہا گیا ۔انکے دست راست چوہدری اعتراز احسن پر سکھوں کی فہرست ، ہندوستان کے حوالے کرنیکا الزام لگایا گیا لیکن ہم نے دیکھا کی جی ایم سید ،باچا خان اور خان عبدالولی خاں کو پھر حب الوطنی کا سرٹیفکیٹ جنرل ضیاء الحق نے عطا کیا ۔ اسی طرح جنرل حمید گل ڈی جی آئی ایس آئی تھے جب بینظیر بھٹو کو بطور وزیراعظم قبول کیا گیا ۔پھر اسی بے نظیر بھٹو، کے ساتھ پرویز مشرف نے ہی این آر او پر دستخط کئے۔ اجمل خٹک صاحب کو تو پوری دنیا نے دیکھا تھا کہ وہ افغانستان جا کر وہاں سے سرخ انقلاب کی ڈولی کو پاکستان لانے کی کوشش کرتے رہے لیکن اقتدار سنبھالنے کے بعد جنرل پرویز مشرف نے جس پہلے سیاستدان کو شرف ملاقات بخشا وہ وہی ماضی کے ماضی کے غدار اجمل خٹک صاحب ہی تھے ۔ او ر تو اور جب نواز شریف کی حکومت ختم کی گئی تو اس وقت اس وقت کی اسٹیبلشمنٹ اور اسکے ترجمانون کی طرف سے میاں نواز شریف پر بھی غداری او رہندوستان کے ساتھ ساز باز کے الزامات لگائے گے لیکن پھر ہم نے دیکھا کہ جنرل پرویز مشرف نے انکی جان بخشی کرا کر عزت واحترام کے ساتھ سعودی عرب روانہ کیا۔ انتخابات سے قبل ہمیں باور کرایا جاتا رہا کہ میاں نواز شریف ہندوستان کیساتھ ساز باز کر چکے ہیں اور اپنے کاروباری مفادات کی وجہ سے انکا دل ہندوستان کے ساتھ دھڑکتاہے لیکن آج وہ شخص پاکستان کا وزیراعظم ہے ۔ماضی میں تو صرف سیاسی ضرورتوں کے تحت سیاسی لیڈروں کو غدار اور محب وطن قرار دلوایا جاتا رہا لیکن آج کل تو ایک نئی ریت چل پڑی ہے۔ آپ کچھ اداروں کے کچھ افراد کی طے کردہ لائن پر چلنے سے معذرت کریں تو اگلے دن پرنٹ اور الیکڑانک میڈیا اور بالخصوص سوشل میڈیا میں ان اداروں کے خود ساختہ ترجمان آ پ پر غداری کے الزامات لگانا شروع کر دینگے۔ یہ خود ساختہ ترجمان سیاستدان کی صفوں میں بھی موجود ہیں ،صحافیوں اور اینکرز کی صفوں میں بھی اور ریٹائرڈ فوجیوں کی صفوں میں بھی۔ اب بدقسمتی یہ ہے کہ صحافیوں ،کالم نگاروں اور اینکرز میں جو لوگ سب سے بڑھ کر کردار کی نعمت سے محروم ہیں اور ہر جگہ جن کی دو نمبرویوں کے چرچے ہیں تو وہ اس کام میں لگ گئے ہیں یا پھر لگا دیے گئے ہیں۔ سیاستدانوں میں بھی جو لوگ راندۂ درگاہ بنے ہوئے ہیں تو وہ اپنے آپ کو اہم بنانے کے لئے میڈیا میں آ کر سلامتی کے اداروں کے بندے ہونے کا تاثر دے رہے ہیں ۔ یہی معاملہ ان ریٹائر ڈ فوجیوں کا ہے ۔ قربانیاں دینے والے اور دوران ملازمت پرفیشنل از م کا مظاہرہ کرنے والے ریٹائرڈ فوجی افسران میڈیا پر آ کر ٹاک شوز میں دوسرووں سے الجھنا ہی نہیں چاہتے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو دوران ملازمت بھی ذاتی خواہشات کے اسیر رہے اور اب بھی ہمہ وقت ذات کے حصار میں بند رہتے ہیں۔یہ لوگ میڈیا میں ایک طرف غداری کے القابات بانٹتے ہیں ،دوسری طرف سیاسی رہنماؤں کو گالیاں دیتے ہیں اور تیسری طرف پاکستان کے آئین سے انحراف کا درس دیتے رہتے ہیں۔ مثلاً ایک ریٹائرڈ دفاعی ماہر اور خودساختہ ترجمان لوگوں کو بتاتے رہتے کہ جب دھرنوں کے نتیجے میں انقلاب آئیگا تو طاہرالقادری صاحب امامِ انقلاب جبکہ وہ خود وزیراعظم بنیں گے ، حالانکہ موجودہ عسکری قیادت کے معمولی اہلکار بھی ان سے ہاتھ ملانا اپنی توہین سمجھتے ہیں۔ پی ٹی آئی کے جنوبی اضلاع سے تعلق رکھنے والے ایک رکن اسمبلی سے خود عمران خان صاحب بھی ملنا گوارا نہیں کرتے اور انہیں بے عزت کر کے اُنہوں نے بنی گالہ سے نکالا تھا ۔ اب وہ ایک طرف صوبائی وزاراء کے ساتھ تعلق کا جھانسہ دے کر لوگوں سے رقم بٹورتے رہتے ہیں ۔ جبکہ اپنے آپ کو ایجنسیوں کا خاص بندہ ظاہر کر کے لوگوں پر رعب جماتے ہیں اور ٹی ٹاک شو میں ان کی ترجمانی کرتے رہتے ہیں ۔المیہ یہ ہے کہ یہ بدنام زمانہ صحافی ،دانشور ،سیاستدان اور سابق فوجی ، جب یہ خود ساختہ ترجمانی کرتے رہتے ہیں تواس عمل میں ایک طرف غداری کے فتوے بانٹتے ہیں تو دوسری طرف وہ پاکستانی آئین کا بھی مذاق اڑاتے رہتے ہیں ۔حالانکہ یہی آئین ہے جس کی رو سے کسی کے غدار ہو نے یا نہ ہونے کا فیصلہ ہونا ہے اور اسی آئین کی رو سے ہی کسی غدار کو سزا ملنی ہے لیکن یہ لوگ غدار، غدار کر کے اسی آئین کامذاق اڑاتے رہتے ہیں اس عمل میں وہ خود فوج کو اقتدار سنبھالنے اور آئین توڑنے کی درخواستیں کر کے ، خود بھی ملک کیساتھ غداری کا مرتکب ہوتے رہتے ہیں لیکن تماشہ یہ ہے کہ ان سے پوچھنے والا کوئی نہیں۔پاکستانی فوج اور سلامتی کے اداروں کا امیج جتنا اچھا آج ہے پہلے کبھی نہیں تھا ۔فوج اور اس کے سربراہ کی مقبولیت آخری حدوں کو چھو رہی ہے ۔ اس مقبولیت اور معاملات پر اس کی گرفت کا یہ عالم ہے کہ جائز تنقید کی گنجائش بھی رہی لیکن بدقسمتی سے مذکورہ بدنامِ زمانہ اور خودساختہ ترجمان اپنے آپ کو سیکیورٹی اداروں کے ساتھ نتھی کر کے ان کو متنازع بنانے کا موجب بن رہے ہیں ۔حالانکہ افواج پاکستان کے پاس آئی ایس پی آر کی صورت میں ایک منظم اور باصلاحیت لوگوں پر مشتمل ادارہ موجود ہے ۔آئی ایس پی آر جس قدر فعال ہے ۔ پہلے کبھی نہیں تھا اور میڈیاپر اس کی گرفت جتنی آج مضبوط ہے ، پہلے کبھی نہیں تھی ۔ بہتر ہو گا کہ آئی ایس پی آر ایک ٹویٹ کے ذریعے فوج کے ان خود ساختہ ترجمانوں کو بھی ایک شٹ اپ کال دیدے کہ وہ خود ساختہ ترجمانی کا یہ کام چھوڑ کر قومی اداروں کو متنازع بنانے سے باز آجائیں اور اگر خدانخواستہ واقعی ان میں سے کسی سیاستدان ، ریٹائرڈ افسر یا اینکر کو ترجمانی کا فریضہ سونپ دیا گیا ہے تو پھر ہمیں بھی اس سے آگاہ کیا جائے ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *