سپریم کورٹ، مسعود جنجوعہ کیس میں مشرف سمیت 12 اعلیٰ سول و فوج حکام کے بیان حلفی طلب

Masoodسپریم کورٹ آف پاکستان نے لاپتہ افراد کیس میں مسعود جنجوعہ کی بازیابی کیلئے آمنہ مسعود جنجوعہ کی درخواست پر سابق صدر پرویز مشرف سمیت 12اعلی سول و فوجی حکام کے بیان حلفی طلب کرتے ہوئے سماعت دو ہفتے کےلئے ملتوی کردی۔ پیر کو سپریم کورٹ کے جسٹس جواد ایس خواجہ اور جسٹس شیخ عظمت سعید پر مشتمل بینچ نے لاپتہ مسعود جنجوعہ کیس کی سماعت کی۔ درخواست گزار آمنہ مسعود جنجوعہ نے عدالت سے استدعا کی وہ سابق صدر پرویز مشرف سمیت 12 افراد کے بیانات پر ان سے جرح کرنا چاہتی ہیں جس پر عدالت نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل کو سابق صدر پرویزمشرف سمیت 12 افراد کے بیانات حلفی جمع کرانے کا حکم دیا۔ جن اعلی سول و فوجی حکام کے بیانات حلفی طلب کئے گئے ہیں ان میں سابق صدر پرویز مشرف، لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ شفقات، لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ ندیم تاج، میجر جنرل نصرت نعیم، سابق سیکریٹری داخلہ کمال شاہ، سابق سیکریٹری دفاع اطہرعلی بھی شامل ہیں۔ جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہاکہ بیان حلفی طلب کرنے کا مقصد پتہ لگانا ہے کہ مسعود جنجوعہ زندہ بھی ہے یا نہیں۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل طارق کھوکھر نے عدالت کو بتایا کہ سابق صدر پرویزمشرف نے اپنے دور میں آئی ایس آئی اور ایم آئی کے سربراہان سے مسعود جنجوعہ سے متعلق رپورٹ طلب کی تھی۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *