سٹیٹس کو سے کیا مراد ہے ؟

zeeshan"سٹیٹس کو" چند مخصوص طبقات کا اجارہ دارانہ اور استحقاق پر مبنی ایسا سیاسی ،سماجی ، اور معاشی نظام ہے جو یا تو تبدیلی (ارتقاء و انقلاب) کا منکر ہوتا ہے یا تبدیلی کو محض ایک مخصوص سانچہ ہی میں پسند کرتا ہے ...ایسا سانچہ جس میں ان طبقات کے مخصوص اجارہ دارانہ اور پیوستہ مفادات کو کوئی زد نہ پہنچے ۔۔۔ یاد رہے کہ سٹیٹس کو قوتیں تبدیلی کی دشمن نہیں ہوتیں جیسے عام طور پر سوچا اور سمجھا جاتا ھے ، انکی پہلی ترجیح یقیناً جمود ہے جس میں ان کے پیوستہ مفاد محفوظ رہتے ہیں مگر جب تبدیلی ناگزیر ہو جائے تو یہ قوتیں اپنے مفاد کا خیال رکھتے ہوئے ایک مخصوص سانچہ ہی میں تبدیلی کو پسند کرتی اور اس میں معاون بھی ہوتی ہیں
پاکستان میں سٹیٹس کو کے نمائندہ پانچ طبقات ہیں
فوج (ملٹری اسٹیبلشمنٹ)
ملا
جاگیر دار
سیٹھ سرمایہ دار
بیورو کریسی
یہ سب قلعہ بند قوتیں ہیں جن کی پرورش ان تاریخی جرائم نے کی ہے جن میں ہمارے بعض رہنما بھی شریک تھے ۔۔۔ ان قلعہ بند قوتوں کی سرغنہ طاقت طاقت ملٹری اسٹیبلشمنٹ اور ملا ہیں جو ان کی حفاظت ایک فصیل کی طرح کرتے ہیں ... ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے پاس جبر و قبضہ کی طاقت ھے جس کو اس نے سیاسی عدم استحکام کے جواز میں زیادہ سے زیادہ قائم کر رکھا ھے جب کہ ملا کے پاس سماجی و نفسیاتی ہتھیار ہیں، جب وہ لوگوں کو اپنا تعارف ان کے مذہب کے نمائندے اور خدائی ترجمان کے طور پر کروا کر "سٹیٹس کو" کو مذہبی جواز بھی فراہم کرتا ہے اور لوگوں کے اذہان کا استحصال کر کے پیوستہ مفاد کے نظام میں استحکام بھی لاتا ھے
پاکستان میں سرمایہ داروں کی دو اقسام ہیں ۔
(الف ) وہ سرمایہ دار جن کا سرمایہ اور اس میں افزائش خالصتا مقابلہ پر مبنی مارکیٹ اور ٹیلنٹ و ذہانت پر ہے وہ سٹیٹس کو کا حصہ نہیں ، بلکہ تبدیلی پسند ہیں ۔۔۔ان لوگوں کو آزاد مارکیٹ ، نمائندہ سیاست ، اور آزاد سماج سے کوئی خطرہ نہیں ۔ یہ چاہتے ہیں کہ معیشت پر بھی سیاست کا اثر و رسوخ کم ہو تاکہ وہ آزادانہ ، بغیر کسی غیر ضروری رکاوٹوں کے اپنے کاروبار کو وسعت دے سکیں جس سے لوگوں کو روزگار بھی حاصل ہو اور پاکستان میں علم و ٹیکنالوجی کی ثقافت پیدا ہو۔ سرمایہ داروں کی یہی وہ قسم ہے جس نے مغرب میں سٹیٹس کو کا پھندا توڑنے میں مرکزی کردار ادا کیا ۔۔۔کیوں کہ ان کی دولت اور اس میں افزائش مارکیٹ کے مواقع اور صحت مندانہ مقابلہ پر مبنی قابلیت و ذہانت کا نتیجہ تھی ، اور وہ چاہتے تھے کہ مارکیٹ و سماج پر سیاست کا غلبہ ختم ہو تاکہ ان کا کاروبار آگے بڑھے ، انہوں نے عوامی نمائندگی پر مبنی سیاسی عمل (جمہوریت) کی بھرپور اور موثر حمایت کی تاکہ کاروباری عمل میں سیاست کا صحت مندانہ تعاون حاصل ہو اور ریاست کاروبار و روزگار کو سہولیات بہم پہنچائے ، نہ کہ اجارہ دار قوتوں کو سپورٹ کرے ۔... یاد رہے کہ بادشاہت و آمریت میں بادشاہ و آمر اپنے دوستوں ، رشتہ داروں اور خوشامد پرست لوگوں میں کسی ایک ملک یا اس کے ایک حصہ کی مارکیٹ کی اجارہ داری تقسیم کرتے تھے ، جیسا کہ ایسٹ انڈیا کمپنی کی مثال ہے کہ اسے سلطنت برطانیہ نے ہندوستانی مارکیٹ پر اجارہ داری تفویض کی تھی
(ب) سرمایہ داروں کا وہ طبقہ جن کا نفع اور اس میں افزائش سیاسی مدد اور اجارہ داری سے قائم ہے وہ سٹیٹس کو کی معاشی طاقت ہیں ... ان کا مقصد یا تو یہ ہے کہ تبدیلی کا عمل رک جائے یا پھر یہ تبدیلی ایک مخصوص سانچہ میں ہو ، ایسا سانچہ جس میں ان کے پیوستہ مفادات کو نہ صرف تحفظ ملے بلکہ اس میں وسعت اور پھیلاؤ حاصل ہو ۔۔۔ پاکستان میں الیکشن کے دوران ہم عموماً دیکھتے ہیں کہ قومی و صوبائی اسمبلی کے امیدواروں کو مالی مدد ان کے حلقے کے کاروباری افراد اور جاگیر دار عناصر سے ملتی ہے ، جن کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ کامیابی کے بعد ممبر اسمبلی ان کے مفادات کے تحفظ میں ان کا ساتھی و مددگار ہو
ایوب خان کا دور پاکستانی تاریخ میں وہ پہلا باقاعدہ دور ہے جس میں ریاست نے اپنے منظور نظر بزنس مین حضرات کو سماج سے منتخب کیا ، انہیں مارکیٹ کے ایک مخصوص حصہ کی نہ صرف اجارہ داری دی بلکہ معاشی عمل میں ان کی بھرپور مدد کی جس کی بدولت پاکستان میں سیاست و معیشت کے مابین براہ راست تعلق کی ایسی وراثت پیدا ہوئی جو اب تک یہاں رائج ہے ۔۔۔. اسی طرح ضیا اور مشرف کے ادوار میں بھی مارکیٹ کی صلاحیت و قابلیت پر توجہ نہیں دی گئی بلکہ بہترین معاشی کارکردگی کے نام پر مخصوص افراد اور سیکٹرز کو نوازا گیا
یہاں یہ یاد رکھنا بھی ضروری ہے کہ ہر مارشل لاء نے اجارہ داری کی معیشت کو نہ صرف مضبوط کیا بلکہ "سٹیٹس کو" کے مابین پیوستہ مفادات کا گٹھ جوڑ زیادہ سے زیادہ مضبوط ہوا ۔۔۔ اور اب بھی اگر پاکستان میں خدانخواستہ مارشل لاء نافذ ہوتا ھے تو ہم پاکستان کے ان سیٹھوں کو خوشیاں مناتے اور مٹھائیاں تقسیم کرتے پائیں گے ۔۔۔. یہ بھی یاد رہے کہ جمہوری ادوار میں بھی سیاست کو معیشت سے آزاد کرانے میں کوئی خاص دلچسپی نظر نہیں آتی جس کی ایک وجہ ان کی حکومت کا محدود دورانیہ ھے تو دوسری طرف ہمیں ہر جمہوری دور "جمہوریت پسندوں اور سٹیٹس کو" کے محافظوں کے درمیان تصادم کی داستان سناتا ہے جس میں جمہوریت پسندوں کو یا تو وقت نہیں ملا یا انہوں نے بھی اپنے اقتدار کو استحکام دینے کی کوشش میں "سٹیٹس کو" سے مفاہمت کی پالیسی اختیار کی
جاگیردار مسلم عہد سلاطین اور نو آبادیاتی دور کی وراثتوں میں سے ایک ایسی وراثت ہیں جو عہد جدید کے صنعتی تمدن میں ہمیں پسماندہ رکھنے میںٍ سب سے بڑے شریک ہیں ۔۔۔ ان کا خمیر قدیم زرعی تمدن سے ہے ، اسی لئے ان کی کوشش یہ رہی ہے کہ سماج اور اس کے ذریعہ پیداوار کو زیادہ سے زیادہ روایتی، پسماندہ اور زرعی رکھا جائے ۔۔۔..سیاست ان کا سب سے موثر ہتھیار ہے جسے یہ عہد سلاطین سے اب تک استعمال کرتے آ رہے ہیں ، ان کی جاگیر انکی سیاسی طاقت ہے ، یہ پسماندہ ذہن اور قبضہ کی نفسیات کے حامل عناصر پاکستانی سیاست کو خوشامد پرست اور پسماندہ رکھنے کے بہت زیادہ ذمہ دار ہیں ۔ ۔۔۔ حیران کن بات یہ بھی ہے کہ ہر سماجی تبدیلی کی مخالفت ایک طرف ملا مذہب کی من پسند تشریحات سے کرتا ہے تو دوسری طرف زرعی ثقافت کے پس ماندگان ، یہ جاگیردار ، اسے ثقافت دشمن قرار دے کر اس کے دشمن ہو جاتے ہیں
کیا ہمارے لئے اس میں سبق نہیں کہ جنگ عظیم دوم کے بعد جن ممالک نے (خاص طور پر مشرق ایشیا) ترقی یافتہ ملک کا درجہ حاصل کیا ہے ، انہوں نے سب سے پہلے زرعی اصلاحات سے جاگیر داروں کو غیر موثر کیا اور پھر آگے بڑھے ۔۔۔ دوسری طرف یورپ میں بھی جاگیر داروں کو کمزور کرنے کے لئے دو ذرائع استعمال کئے گئے
ایک؛ زرعی اصلاحات کا راستہ ، دوم ؛ برطانیہ جیسے ممالک نے آزاد مارکیٹ کا نظام متعارف کروایا جس میں وہ لارڈز قائم رہے جنہوں نے بدلتے ہوئے سماج میں ترقی پسندانہ کردار ادا کیا، چاہے سیاست میں یا معیشت میں ۔۔۔جبکہ باقی لارڈ حضرات کو ترقی پسند سرمایہ داروں نے صحت مند اور نفع بخش مقابلہ کے میدان میں شکست دے کر منظر سے ہٹا دیا یا وہ قرضوں کے بوجھ تلے ہی دم توڑ کر مر گئے ۔۔۔.. پاکستان میں اگر ہم زرعی اصلاحات میں سیاسی و سماجی طور پر کامیاب نہیں ہو سکتے تو ہم دوسرا راستہ اختیار کر سکتے ہیں ، مگر اس کے لئے ضروری ہے کہ مارکیٹ کو زیادہ سے زیادہ آزاد اور مؤثر بنایا جائے جو محنت ، صلاحیت ، قابلیت ، انوویشن ، اور پروڈکٹوٹی کو انعام کرے ۔۔۔.دوم معیشت پر سیاست کے غیر ضروری اثر و رسوخ کا خاتمہ کرنا ہو گا
پاکستان میں جب بھی مارشل لا آیا ہے تو ہم نے ہر فوجی آمر کے اردگرد جاگیر داروں ، اجارہ داری کے بھوکے سرمایہ داروں ، اور بیوروکریٹ و ٹیکنو کریٹس کا جمگھٹا پایا ہے ... یہ پاکستان کی بدقسمتی ہے کہ ہمارے اعلیٰ تعلیم یافتہ ٹیکنو کریٹس بھی جمہوریت و لبرل ازم سے وفادار نہیں رہے ، انہوں نے بھی اعلیٰ عہدوں اور پرتعیش مراعات کے لئے ان اقدار سے منہ موڑا جو انہوں نے لبرل و سیکولر علوم کی تحصیل کے دوران سیکھے ۔۔۔ اسی طرح وہ بیورو کریٹ بھی آمریت کے مددگار کا کردار ادا کرنے میں نہیں ہچکچائے جنہوں نے سول سرونٹ (عوام کا خادم) کا حلف اٹھاتے ہوئے اس بات کا وعدہ کیا تھا کہ وہ پاکستان کے آئین کے وفادار رہیں گے اور اس سے کبھی بھی انحراف نہیں کریں گے ۔۔۔یہ بیورو کریٹس ہوں یا ٹیکنو کریٹس یہ لبرل و سیکولر علوم سے بہرہ مند ہوتے ہیں ، مگر پاکستان میں لبرل و سیکولر اقدار کے فروغ میں انہوں نے کوئی قابل ذکر کام نہیں کیا
پاکستان "سٹیٹس کو" کے پھندے میں ہے ، جب تک یہ پھندا موجود ہے روشن خیالی اور انسانی آزادیوں کے لئے معاون و مددگار سیاست ، معیشت ، اور سماجی اقدار کا خواب تعبیر پانے میں کامیاب نہ ہو سکے گا ۔۔۔. جمہوریت دشمنی میں یہ قوتیں ایک دوسرے کا دست و بازو ہیں ، ہر آمر کے اردگرد انہی قوتوں کا جمگھٹا لگا ہوتا ہے ، اور ہمارے سماج کی خوشحالی و مسرت کے امکانات کے خلاف یہی قوتوں سینہ سپر ہیں ۔ ۔۔۔ ان کو شکست دینے کے لئے ضروری ہے کہ جمہوریت میں تسلسل اور استحکام لایا جائے ، مقابلہ کی ثقافت پیدا کی جائے ، روشن خیال اور جستجو کو ابھارنے اور نکھار دینے والے علم کے لئے سرکاری بندوبست قائم کیا جائے اور دانشورانہ سطح پر مکالمہ کی فضا پیدا کی جائے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *