ایک کمرے کی لیبارٹری کو 2000 کروڑ کی کاروباری سلطنت میں بدلنے والی خاتون

Metropolis Healthcare.indd

80ء کی دہائی میں جب ڈاکٹر سہیل شاہ نے میڈیکل اسکول سے گریجوایشن کی تو ہندوستان میں حفظان صحت کا نظام بالخصوص طبی ٹیسٹ کرنے کے معاملات خراب حالت میں تھے۔ وہ اپنے مریضوں کا جدیدترین طریقوں سے علاج کرنے کا عزم لے کر اسکالرشپ پر امریکہ گئے اور وہاں بیماریوں کی تشخیص کے طریقوں کا گہرا مطالعہ کیا۔جب وہ ہندوستان واپس آئے تو انہوں نے اپنے گیراج میں، اپنے نام سے،اپنی ذاتی پیتھالوجی لیبارٹری ۔۔۔ڈاکٹر سہیل شاہ کی لیبارٹری۔۔۔ شروع کر دی۔ان کے باورچی خانے نے ان کے کلینک کا کام کیا۔
ان کی صاحبزادی امیرہ شاہ فخر سے بتاتی ہیں، ’’آج، ہم تھائی رائیڈ ٹیسٹ، نسوانی و مردانہ زرخیزی کے ٹیسٹ اور مختلف ہارمونز کے ٹیسٹوں کا ذکر کرتے ہیں۔ 80ء کی دہائی میںیہ سب ہندوستان میں نہیں ہوا کرتے تھے۔وہ پہلے آدمی تھے جنہو ں نے ہندوستان میںیہ ٹیسٹ شروع کئے۔ انہوں نے اپنی پریکٹس صفر سے شروع کی اور اپنی تمام تر توجہ ان خدمات کی فراہمی پر مرکوز رکھی، جن کی فراہمی کی صلاحیت یا مہارت دوسروں کے پاس موجود نہ تھی۔‘‘
35 سالہ امیرہ آج عالمی پیتھالوجی امپائر کی انچارج ہیں اور اپنے والد کی اکلوتی لیبارٹری کو2000کروڑ روپے کی مالک کمپنی میں تبدیل کر چکی ہیں۔ تاہم یہ کچھ زیادہ پرانی بات نہیں جب وہ محض 21برس کی ایک ناتجربہ کار خاتون تھیں اور اس بارے میں پریشان تھیں کہ وہ اپنی زندگی گزارنے کیلئے کس پیشے ، سمت اور ملک کا انتخاب کریں۔
امیرہ اعلیٰ تعلیم کے حصول کیلئے امریکہ گئیں اور تعلیم مکمل کرنے کے بعد انہوں نے نیویارک کی ایک بڑی کمپنی میں شاندار کیرئیر کا آغاز کر دیا۔
امیرہ کے والد نے انہیں بتایا، ’’پہلی بات تو یہ ہے کہ تم ایک عظیم کیرئیر، عزت اور دولت کما سکتی ہو۔اور اگریہی سب کچھ تمہاری ترجیح ہے تو پھرتمہیں امریکہ ہی میں رہنا چاہئے کیونکہ یہاں ان سب کے حصول کیلئے بہترین مواقع موجود ہیں۔لیکن اگر تم اپنی دھاک بٹھاناچاہتی ہو، اگر تم ایک کمپنی کی روحِ رواں بننا چاہتی ہو تو پھر تمہیں کوئی کاروبار شروع کرنا چاہئے۔اور اس کام کے لئے تمہیں ہندوستان واپس آجانا چاہئے۔‘‘چنانچہ امیرہ نے اپنا کاروبار شروع کرنے کا فیصلہ کیا اور2001 ء میں ہندوستان واپس آ گئیں اور انہوں نے اپنے والد کے کام کو سنبھالنے اور آگے بڑھانے کا فیصلہ کر لیا۔
ڈاکٹر سہیل شاہ کی لیبارٹر ی جنوبی ممبئی میں1500مربع فٹ کی ایک بھرپور منفعت بخش تنظیم تھی جس نے اپنی عمرکے25برس میں اپنے گاہکوں کی تعداد میں بتدریج اور بھرپور اضافہ کیا تھااور شاندار ساکھ بنائی تھی۔امیرہ ، اس لیبارٹری کے اس وقت کے حالات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہتی ہیں، ’’لیکن یہ ایک عمارت پر مبنی تنظیم تھی۔ جنوبی ممبئی کے علاوہ اس کی کہیں کوئی پہچان نہ تھی۔میرے والد کی خواہش تھی کہ وہ ہندوستان میں لیبارٹریوں کی چین بنائیں لیکن اس خواہش کو عملی جامہ پہنانے کیلئے ان کے پاس کوئی واضح ویژن موجود نہ تھا۔ مزید یہ کہ ان کے پاس اس پھیلاؤ کیلئے مطلوب معلومات بھی موجود نہ تھیں۔‘‘
لیبارٹری کی منتظم اعلیٰ بننے کی بعد اپنی متعارف کردہ اصلاحات پر روشنی ڈالتے ہوئے، امیرہ کہتی ہیں، ’’میرا پہلا مشن فرد واحد کے کاروبار کو ایک کمپنی میں تبدیل کرنا تھا۔چنانچہ ہم نے نئے ٹیلنٹ کو اپنی ٹیم میں شامل کیا۔نئے شعبے بنائے، ڈجٹائزڈکمیونی کیشن سسٹم بنایا، اصول وضوابط اور طریقے وضع کئے۔میں نے یہ سب کچھ نہ تو کسی ادارے سے سیکھا تھا اور نہ مجھے اس کا کوئی تجربہ تھا۔ تاہم میں نے ایک جامع اور منظم لائحہ عمل کو وضع کرنے بڑی حد تک اپنی کامن سینس اور جبلی صلاحیتو ں پر بھروسہ کیا۔کمپیوٹرز، ای میلز اور سسٹمز متعارف کروائے۔ڈاکٹر سہیل شاہ لیبارٹری کا نام تبدیل کرکے میٹروپولس رکھ دیا کیونکہ اب اس شعبے میں متعدد ملٹی نیشنل کمپنیاں بھی آ چکی تھیں اور ہمیں ان سے مقابلہ کرنا تھا۔ابتدائی 2 برس میں لیبارٹری کوفردواحد کے کاروبار سے کمپنی میں تبدیل کرنے اور جدید خطوط پر استوار کرنے کے بعد، ہم نے 2004ء میں شراکت داری کے پہلے معاہدے پر دستخط کئے۔ میٹروپولس نے یہ معاہدہ چنائی کے ایک پیتھالوجسٹ، ڈاکٹر سری نواسن کے ساتھ کیا کیونکہ وہ ہمارے معیار پر پورا اترے تھے اور اصول و ضوابط پر عمل کرنے کیلئے تیار تھے۔ہم نے انہیں اپنے ساتھ شامل ہونے کے بدلے میں متعدد فوائداور سہولیات بھی فراہم کیں۔آج ہم ایسی 25 شراکت داریاں کر چکے ہیں۔‘‘
’’2006ء میںآئی سی آئی سی آئی کے ساتھ اشتراک عمل کے نتیجے میں میڑوپولس کو پہلی بار بڑے فنڈز ملے۔ امریکہ کی عالمی اکویٹی کمپنی نے آئی سی آئی سی آئی کو خریدنے کے بعد2010ء میں میٹروپولس میں بھاری سرمایہ کاری کی۔ہم دوسری کمپنیوں میں شیئرز حاصل کرنا چاہتے تھے، اسی لئے ہمیں پیسوں کی ضرورت تھی اور ہم اس کیلئے قرض نہ لے سکتے تھے۔ہمارا کسی کاروباری خاندان سے کوئی تعلق نہ تھالہٰذا سرمایہ کاری کرنے کیلئے ہمارے پاس بہت سے پیسے نہ تھے۔یہی وجہ تھی کہ ہم نے 2006ء میں بیرونی فنڈنگ حاصل کی۔پھر ہم لیب سے جو بھی منافع کماتے اسے انویسٹ کرتے جاتے۔یہاں تک کہ اب میٹروپولس نے حال ہی میں واربرگ پنکس کے شیئرز خرید لئے ہیں اور آئندہ سے ہم کسی بھی قسم کی بیرونی سرمایہ کاری حاصل کرنے کی کوشش نہیں کریں گے۔‘‘
’’2002ء میں، جب میٹروپولس صرف ایک لیبارٹری پر مشتمل تھی، اس وقت اس کا محفوظ سرمایہ7کروڑ روپے تھااور اس کے ملازمین کی کل تعداد40 سے 50 کے درمیان تھی۔تقریباً 13 برس میں، ہم ایک لیبارٹری سے بڑھ کر7 ممالک میں800 مراکز اور 125لیبارٹریوں تک پہنچ چکے ہیں۔ہماری کمپنی کا محفوظ سرمایہ2000 کروڑ روپے سے زیادہ ہے اور ہماری سالانہ آمدن تقریباً500 کروڑ روپے ہے۔‘‘

loading...

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *