برازیل میں بچوں کی آپریشن کے ذریعے پیدائش پر قانون سازی

sezerion 2برازیل میں سیزیریئن یعنی آپریشن سے بچے کی پیدائش کی روز افزوں شرح پر کنٹرول کرنے کے لیے نیا قانون نافذ کیا گیا ہے۔اس قانون کے تحت ہسپتال ماں کو بچے کی پیدائش میں شامل خطرات سے آگاہ کرے گا اور آپریشن کے ذریعے ولادت کے بارے میں رضامندی حاصل کرے گا۔اس کے تحت ڈاکٹروں کو بھی یہ جواز دینا ہوگا کہ آخر آپریشن کیوں ضروری تھا۔اعدادوشمار کے مطابق برازیل کے نجی ہسپتالوں میں 85 فی صد سے زیادہ بچوں کی پیدائش سیزیریئن کے ذریعے ہو رہی ہے جبکہ سرکاری ہسپتالوں میں یہ شرح 45 فی صد ہے۔برازیل کے اس نئے قانون کو پیر سے نافذ کیا گیا ہے اور حکومت کو امید ہے کہ دنیا میں ”سیزیریئن برتھ“ میں سرفہرست ہونے کی برازیلی حیثیت میں تبدیلی آئے گی۔اس نئے قانون کے ساتھ برازیل میں اس کے متعلق ایک مہم بھی جاری ہے جس میں کہا جا رہا ہے کہ’ ’بچے کی ولادت معمول کی بات ہے۔“وزیر صحت آرتھر چیورو نے 20 کروڑ کی آبادی والے ملک میں 50 فی صد سے زیادہ بچوں کی آپریشن کے ذریعے پیدائش کو ’وبا‘ سے تعبیر کیا ہے۔طلاعات کے مطابق نجی ہسپتالوں میں تقریبا 84 فی صد خواتین بچے کی ولادت کے لیے سیزیریئن منتخب کرتی ہیں جس کے تحت ماں کے پیٹ کو ذرا سا کاٹ کر بچے کو نکال لیا جاتا ہے۔عام طور پر اس کی کوئی ضرورت نہیں ہوتی ہے لیکن وہ اپنے حساب سے پیدائش کا مناسب دن منتخب کرنے کے لیے ایسا کرتی ہیں۔سرکاری ہسپتالوں میں یہ شرح تقریبا 40 فی صد ہے جو امریکہ کے 32 فی صد سے بھی زیادہ ہے جبکہ عالمی صحت کی تنظیم ڈبلیو ایچ او کے مطابق اسے صرف 10 سے 15 فی صد ہونا چاہیے۔برازیل کے نئے قانون کے تحت ڈاکٹروں اور ہسپتالوں کو ماو¿ں کو یہ بتانا ضروری ہے کہ ابھی تک وہ کتنے سیزیریئن کر چکے ہیں اور اگر وہ یہ معلومات فراہم کرنے میں ناکام ہوتے ہیں تو ہیلتھ انشورنس کمپنی کو آٹھ ہزار ڈالر تک جرمانہ ہو سکتا ہے۔وزارت صحت کے مخصوص شعبے اے این ایس کے ڈائرکٹر جوز کارلوس ڈی سوزا ابراہاو نے کہا: ”بچے کی پیدائش ایک خاتون اور اس کے اہل خانہ کی زندگی کا اہم ترین لمحہ ہوتا ہے اور اسے غیر ضروری آپریشن میں مضمر خطرات کے بارے میں بتانا اہم ہے تاکہ اس کی بنیاد پر وہ یہ فیصلہ کر سکے کہ اس کے اور بچے کی صحت کے لیے کون ساطریقہ زیادہ مفید ہے۔“خیال رہے کہ پاکستان میں بھی آپریشن کے ذریعے بچوں کی پیدائش کا رواج زور پکڑ رہا ہے ۔زچگی کے روائتی طریقوں کی بجائے آپریشن کو ترجیح دی جارہی جس سے عورتوں کی صحت کو شدید خطرات لاحق ہیں ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *